20ویں صدی کے اختتام تک عالمی سیاست ایک نازک مگر قائم توازن کے سہارے کھڑی تھی۔ دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل موجود تھیں، اختلافات شدید تھے، مگر ایک حد بھی موجود تھی۔ اس حد نے دنیا کو مکمل تباہی سے بچائے رکھا۔ پھر وہ مرحلہ آیا، جب ایک طاقت بکھر گئی اور دوسری تنہا عالمی منظرنامے پر غالب آ گئی۔ اسی لمحے سے طاقت کے استعمال کا انداز بھی بدلنے لگا۔
اس تبدیلی کی پہلی بڑی اور نمایاں جھلک عراق میں دیکھی گئی۔ صدام حسین کو عالمی خطرہ قرار دے کر ایک وسیع فوجی کارروائی کی گئی۔ بغداد کی گلیوں میں ٹینک اُترے، ریاستی ڈھانچہ ٹوٹا اور بالآخر ایک خودمختار ملک کا صدر تختۂ دار تک پہنچا دیا گیا۔ کہا گیا کہ یہ اقدام خطے میں استحکام اور جمہوریت کے قیام کے لیے ہے، مگر نتیجہ ایک طویل بدامنی، فرقہ وارانہ خوں ریزی اور غیر یقینی مستقبل کی صورت میں سامنے آیا۔
چند برس بعد لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف کارروائی ہوئی۔ فضائی حملوں نے اقتدار کا توازن بدل دیا اور ایک طویل عرصے سے قائم حکومت چند مہینوں میں زمین بوس ہوگئی۔ قذافی کا انجام دنیا نے دیکھا، مگر اُس کے بعد لیبیا جس انتشار اور خانہ جنگی کا شکار ہوا، وہ آج تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکا۔ ریاستی ڈھانچا ٹوٹنے کے بعد خلا کو شدت پسند گروہوں اور باہمی لڑائیوں نے بھر دیا۔ یوں ایک اور مثال سامنے آئی کہ بیرونی مداخلت اگرچہ فوری تبدیلی لاسکتی ہے، مگر استحکام کی ضمانت نہیں دیتی۔
اسی سلسلے کی ایک اور کڑی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری ہے، جنھیں ان کے صدارتی محل سے حراست میں لے کر بیرونِ ملک منتقل کیا گیا۔ ایک منتخب سربراہِ مملکت کا اس انداز میں اقتدار سے ہٹایا جانا عالمی قانون اور ریاستی خودمختاری کے اُصولوں پر گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔ اگر طاقت ور ممالک یہ طے کریں کہ کون سی حکومت قابلِ قبول ہے اور کون سی نہیں، تو پھر اقوام کی خود ارادیت کا مفہوم کیا رہ جاتا ہے؟
اور اب تازہ ترین واقعہ ایران میں پیش آیا ہے، جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای ایک فضائی حملے میں شہید کر دیے گئے ہیں۔ وہ چار دہائیوں سے زائد عرصے تک اپنے ملک کے سب سے بااثر راہ نما رہے۔ ان کی ہلاکت صرف ایک شخصیت کا خاتمہ نہیں، بل کہ پورے خطے کے توازن کو ہلا دینے والا واقعہ ہے۔ اس سے یہ پیغام بھی ابھرتا ہے کہ اب ریاستوں کی اعلا ترین قیادت بھی بہ راہِ راست عسکری نشانے پر آسکتی ہے۔
ان تمام واقعات کو الگ الگ دیکھنا آسان ہے، مگر انھیں اگر ایک سلسلے کی صورت میں جوڑا جائے، تو ایک واضح رجحان سامنے آتا ہے۔ طاقت کا ارتکاز جب ایک مرکز میں ہوجائے تو مداخلت، پابندیاں، دباو اور بالآخر بہ راہِ راست کارروائی ایک قابلِ عمل پالیسی بن جاتی ہے۔ عالمی ادارے بیانات دیتے ہیں، سفارتی زبان میں تشویش ظاہر کی جاتی ہے، مگر عملی طور پر فیصلہ کن قوت وہی رہتی ہے، جس کے پاس عسکری اور معاشی برتری ہو۔
یہ کہنا درست نہیں کہ ماضی کا نظام مثالی تھا؛ اس میں بھی جنگیں اور پراکسی معرکے شامل تھے… مگر اس میں ایک خوف ضرور تھا، جو بڑی طاقتوں کو بہ راہِ راست تصادم سے روکے رکھتا تھا۔ آج وہ نفسیاتی رکاوٹ کم زور دکھائی دیتی ہے۔ طاقت کا استعمال زیادہ بہ راہِ راست، زیادہ واضح اور کم محتاط ہوچکا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ بے لگام برتری ہمیشہ ردِ عمل کو جنم دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سا راہ نما درست تھا اور کون غلط؛ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی نظام میں کوئی ایسا توازن باقی ہے، جو طاقت کو قانون کا پابند بناسکے؟ اگر نہیں، تو پھر دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہوچکی ہے، جہاں فیصلے میدانِ جنگ میں ہوں گے اور اُصول کتابوں میں رہ جائیں گے… اور جب اصول کم زور پڑ جائیں، تو امن بھی دیرپا نہیں رہتا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










