جعلی اشیائے خور و نوش اور صحت عامہ کا بحران

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

آج کے دور میں جہاں ترقی اور جدیدیت کی باتیں کی جا رہی ہیں، وہیں ہماری روزمرہ کی ضروریات کی اشیا، جنھیں ہم اپنی زندگی کے معمولات میں شامل کرچکے ہیں، نہ صرف ہماری صحت کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، بل کہ ایک گہری اجتماعی اور اخلاقی بدحالی کا بھی سبب بن رہی ہیں۔ وہ اشیا جو ہم روزانہ اپنے جسم میں شامل کرتے ہیں، اُن میں دودھ، گوشت، بیکری کی مصنوعات اور دیگر کئی غذائی اجزا شامل ہیں، اکثر جعلی اور غیر معیاری ہوتے ہیں۔ ان کی جعل سازی نہ صرف تجارتی لحاظ سے فائدہ مند ہے، بل کہ اس سے انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا ایک سنگین عمل بھی ہو رہا ہے۔
جعلی دودھ، گوشت، اور دیگر اشیا:۔ چاہے دودھ ہو، گوشت ہو یا پھر بیکری کی اشیا، مارکیٹ میں جعلی اور ملاوٹی اشیا کی بھرمار ہے۔ دودھ میں ملاوٹ کے لیے کیمیکلز کا استعمال، مردار گوشت کی فروخت، مرغی کا گوشت جو بیمار حالت میں پھیلایا جاتا ہے، یہ سب چیزیں عوامی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنتی ہیں… لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ، جو ان تمام مسائل کے تدارک کے لیے ذمے دار ہے، چند چھاپوں اور معمولی جرمانوں کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
پہلی بات یہ کہ جب کبھی فوڈ محکمہ مختلف دکانوں، قصاب خانوں یا دودھ کی دکانوں پر چھاپے مارتا ہے، تو اس کا اثر عارضی ہوتا ہے۔ چھاپا مارنے کے بعد وہ کاروباری افراد کم جرمانہ ادا کرکے دوبارہ اپنے کام پر لگ جاتے ہیں، اور اس عمل کو ایک معمول کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔ اگر ایک دودھ کنٹینر  سے دودھ فروش کو لاکھوں روپے کا منافع ہوتا ہو اور اُسے چند ہزار روپے جرمانہ کرکے واپس بھیج دیا جائے، تو یہ جرمانہ اس کے لیے ایک معمولی قیمت بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی صورتِ حال بیکری کی دکانوں اور قصاب خانوں میں بھی دیکھی جاتی ہے، جہاں عارضی طور پر کارروائی کی جاتی ہے، لیکن اس کے اثرات طویل مدت تک نہیں جاتے۔
اگر حکومت واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے، تو اسے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے، جو صرف جرمانے تک محدود نہ ہوں، بل کہ ایسے سخت سزاؤں کا تعین کیا جائے، جو نہ صرف مجرم کو سبق دیں، بل کہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کام میں نہ پڑنے کا شعور دیں۔ اس میں طویل مدت کی جیل کی سزا، کاروبار کی مکمل بندش اور بھاری جرمانوں کا تعین شامل ہوسکتا ہے۔ یہ سزا اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جعلی اور مضر صحت اشیا فروخت کرنے والوں کو نہ صرف قانونی طور پر جواب دہ ہونا پڑے گا، بل کہ ان کے عمل کی سنگینی سے ان کے ہم عصر بھی سبق حاصل کریں گے۔
یہ تمام مسائل ہمیں ایک اور اہم سوال کی طرف لے کر جاتے ہیں، اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری معاشرتی، اخلاقی اور دینی اقدار ہمیں اس بات کا شعور دلاتی ہیں کہ ہم دوسروں کی صحت کے ساتھ کھیلنے والے ان کاروباری افراد کے ساتھ کیا سلوک کریں؟ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ معاشرت میں انسانیت کا کردار، اخلاقی اُصولوں کی اہمیت، اور خوفِ خدا کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ جب تک لوگ اس بات کو نہیں سمجھیں گے کہ یہ جرم صرف تجارت کے لیے نہیں، بل کہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے، تب تک ایسے عناصر کی روک تھام ممکن نہیں ہوسکے گی۔
آج کل ہر جگہ ہر چیز کی قیمت لگ رہی ہے، لیکن اس کھیل میں سب سے بڑی قیمت انسان کی زندگی ہے۔ اگر حکومت اور انتظامیہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی اور سخت سزاؤں کا نفاذ نہیں کرتی، تو یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے صرف چند چھاپے یا معمولی جرمانے کافی نہیں ہیں، بل کہ ہمیں اپنے نظامِ عدلیہ کو بھی فعال بنانا ہوگا، تاکہ جعلی اشیا کے کاروبار میں ملوث افراد کے لیے ایسا نظام بنایا جاسکے، جس سے وہ آیندہ اس سنگین عمل کو دہرا نہ سکیں۔
اگر ہم نے اس بحران کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو یہ صحت کے مسائل کا گہرا بحران بن جائے گا، اور ہماری نسلوں کو اس کا بدترین خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
اس وقت بے ایمانی کا عروج ہے، لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایمان داری کی موت نہیں ہوئی۔ بازار میں ایمان دار تاجر بھی موجود ہیں، جو اپنی محنت اور ایمان داری سے نہ صرف خود کو کام یاب کرتے ہیں، بل کہ معاشرت کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں… لیکن بدقسمتی سے، دونمبری کا بھی بازار گرم ہے اور دھوکا دہی کرنے والے افراد اس عمل میں جتے ہیں۔
انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ ایمان دار تاجروں کی حوصلہ افزائی کرے اور ان کے کاروبار کو محفوظ بنائے۔ ایسے تاجروں کو انعامات اور سرکاری امداد فراہم کی جانی چاہیے، تاکہ وہ اپنے کاروبار کو مزید مستحکم کریں۔
دوسری جانب، دونمبری اور دھوکا دہی کرنے والوں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، تاکہ نہ صرف وہ خود، بل کہ ان کے ہم عصر بھی اس عمل سے سبق حاصل کریں۔ اگر حکومت اس بات کو سنجیدگی سے لے اور دونوں پہلوؤں پر توجہ دے، یعنی ایمان دار تاجروں کی حوصلہ افزائی اور دھوکا دہی کرنے والوں کی سخت سزا، تو یہ عمل ایک مضبوط اور صحت مند تجارتی ماحول پیدا کرسکتا ہے۔ اس طرح ہم مارکیٹ میں ایمان داری کو فروغ دے سکتے ہیں اور عوامی صحت کو یقینی بناسکتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے