اسٹیبلشمنٹ کا مارکسی تجزیہ

Blogger Comrade Sajid Aman

ریاست، اقتدار اور طاقت کے سوال پر جب ہم مارکسی عدسے سے نظر ڈالتے ہیں، تو ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ محض ایک مبہم سیاسی اصطلاح نہیں رہتی، بل کہ ایک واضح اور متعین طبقاتی مفہوم اختیار کرلیتی ہے۔
عام سیاسی گفت گو میں اسٹیبلشمنٹ سے مراد عموماً فوج، بیوروکریسی یا خفیہ ادارے لی جاتی ہے، مگر مارکسزم اس دائرۂ مفہوم کو کہیں زیادہ وسیع اور ہمہ گیر سمجھتا ہے۔ اس کے مطابق اسٹیبلشمنٹ دراصل وہ مکمل ریاستی و نظریاتی ڈھانچا ہے، جو کسی معاشرے میں حکم ران طبقے کے معاشی اور سیاسی مفادات کی حفاظت کرتا ہے اور اسی اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل رہتا ہے۔
مارکسزم کے بنیادی تصور کے مطابق ہر معاشرہ ایک معاشی بنیاد (Economic Base) پر استوار ہوتا ہے اور اس بنیاد کے اوپر ایک ’’بالائی ڈھانچا‘‘ (Superstructure) تعمیر کیا جاتا ہے، جس میں ریاستی ادارے، قانون، عدلیہ، میڈیا، تعلیمی نظام اور نظریاتی بیانیہ شامل ہوتے ہیں۔ اسے باریکی سے سمجھنے کی ضرورت ہے… یہی بالائی ڈھانچا دراصل اسٹیبلشمنٹ کی حقیقی اور عملی شکل ہے۔ یہ ادارے بہ ظاہر غیر جانب دار اور معروضی دکھائی دیتے ہیں، مگر مارکسی نقطۂ نظر کے مطابق ان کی اصل وفاداری اس طبقے کے ساتھ ہوتی ہے، جو معاشی وسائل پر قابض ہوتا ہے۔
مارکس اور اینگلز نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ریاست دراصل حکم ران طبقے کے مفادات کی محافظ ہوتی ہے۔ یعنی ریاستی طاقت کوئی خلا میں معلق قوت نہیں، بل کہ ایک متعین طبقاتی کردار رکھتی ہے۔ جب کسی ملک میں دولت، زمین، صنعت اور بینکنگ کا کنٹرول چند سرمایہ دار گروہوں کے ہاتھ میں مرتکز ہو، تو ریاستی اداروں کی سمت بھی ناگزیر طور پر اسی طبقے کے مفادات کی طرف مڑ جاتی ہے۔ اس تناظر میں اسٹیبلشمنٹ وہ منظم اور مربوط قوت ہے، جو سرمایہ دارانہ نظام کے تسلسل کو یقینی بناتی ہے، چاہے اس کے لیے سختی کا استعمال کیا جائے، یا نظریاتی بیانیے کا سہارا لیا جائے۔
مارکسی فکر کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے تین بنیادی ستون ہوتے ہیں:
پہلا ستون: طاقت۔
دوسرا ستون: قانون۔
تیسرا ستون: نظریہ۔
طاقت کا مظہر فوج اور سیکورٹی ادارے ہوتے ہیں، جو ریاستی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہیں۔ قانون اور عدلیہ وہ دائرہ تشکیل دیتے ہیں، جس کے ذریعے موجودہ معاشی رشتوں کو قانونی جواز فراہم کیا جاتا ہے، جب کہ نظریہ… جسے گرامشی نے ’’ہیجمنی‘‘ کہا تھا، وہ نرم قوت ہے، جو عوام کے اذہان میں موجود نظام کو فطری اور ناگزیر بناکر پیش کرتی ہے۔ اس طرح لوگ اکثر اس نظام کو چیلنج کرنے کے بہ جائے اسے اپنی تقدیر سمجھنے لگتے ہیں اور اسی میں فلاح تلاش کرتے ہیں۔
اس حوالے سے ولادیمیر لینن نے ریاست کو ایک ایسی مشینری قرار دیا، جو حکم ران طبقے کی طاقت کو منظم شکل میں بروئے کار لاتی ہے۔
کامریڈ لینن کے مطابق جب تک اس مشینری کی طبقاتی نوعیت تبدیل نہیں کی جاتی، محض حکومتوں کی تبدیلی سے سماجی انصاف قائم نہیں ہوسکتا۔ اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے انتونیو گرامشی نے بتایا کہ حکم ران طبقہ صرف جبر کے ذریعے نہیں، بل کہ رضامندی پیدا کرکے بھی اپنی حکم رانی قائم رکھتا ہے۔ میڈیا، نصاب اور قومی بیانیہ اسی رضامندی کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ اسی جعلی پن میں دلال ہوتے ہیں۔
اگر ہم اس نظریے کو اپنے سماجی و سیاسی حالات پر فکس کریں، تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ جب معاشی پالیسیاں مسلسل بڑے سرمایہ داروں کے حق میں ہوں، نج کاری کے ذریعے قومی وسائل چند ہاتھوں میں منتقل ہوں، مزدور تحریکوں کو محدود کیا جائے اور میڈیا قومی مفاد کے نام پر انھی پالیسیوں کا دفاع کرے، سیاسی مذہبی طبقات کے ہاتھوں میں جنت جہنم کے سرٹیفکیٹس دینے کے ٹھیکے ہوں، تو مارکسی تجزیہ اسے محض پالیسی کا مسئلہ نہیں سمجھتا، بل کہ اسے اسٹیبلشمنٹ کے طبقاتی کردار کا اظہار قرار دیتا ہے… یعنی یہ سب اقدامات مل کر اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ معاشی طاقت کا موجودہ توازن برقرار رہے اور حکم ران طبقے کی بالادستی کو کوئی سنجیدہ خطرہ لاحق نہ ہو۔
مارکسی نقطۂ نظر یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ کھلے جبر کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتی۔ بسا اوقات وہ اصلاحات، ترقی اور استحکام کے نام پر ایسے فیصلے کرتی ہے، جو بہ ظاہر قومی مفاد میں دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے طویل المدتی اثرات سرمایہ دارانہ ڈھانچے کو مزید مضبوط کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب معاشی بحران کا بوجھ عوام پر ٹیکسوں، مہنگائی اور سبسڈی کے خاتمے کی صورت میں ڈالا جائے، جب کہ بڑے کارپوریٹ طبقات کو مراعات دی جائیں، تو یہ دراصل اسٹیبلشمنٹ کے طبقاتی جھکاو کی عکاسی ہوتی ہے۔
مارکسزم کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ریاست کو محض انتظامی ادارہ نہ سمجھیں، بل کہ اسے ایک طبقاتی طاقت کے طور پر دیکھیں۔ یہ طاقت صرف بندوق اور قانون سے نہیں، بل کہ بیانیے، ثقافت اور نظریے سے بھی کام لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی انقلابی یا عوامی تحریک کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ یہی مربوط اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے، جو بہ یک وقت طاقت، قانون اور نظریے کے محاذ پر متحرک رہتی ہے۔
حتمی طور پر مارکسی نقطۂ نظر یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کوئی سازشی یا خفیہ اصطلاح نہیں، بل کہ ایک ٹھوس سماجی حقیقت ہے۔ یہ اس پورے ریاستی و نظریاتی ڈھانچے کا نام ہے، جو معاشی طور پر طاقت ور طبقے کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے اور سماج میں موجود طبقاتی توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ جب تک اس ڈھانچے کی طبقاتی بنیاد کو تبدیل نہیں کیا جاتا، محض سیاسی تبدیلیاں یا چہروں کی تبدیلی معاشرے میں حقیقی برابری اور انصاف قائم نہیں کرسکتیں۔
اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے، جسے مارکسزم، اسٹیبلشمنٹ کی بحث میں مرکزی حیثیت دیتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے