ادارہ جاتی، نظامی اور ساختیاتی ٹوٹ پھوٹ

Blogger Advocate Naseer Ullah

پاکستان کو درپیش مسائل، قانون کی کم زوری، احتساب کا سیاسی استعمال، انتخابی بے اعتمادی، سست انصاف، بدامنی اور اداروں پر اشرافیہ کا غلبہ، محض عوام کی ’’بے شعوری‘‘ کا نتیجہ نہیں۔ سیاسیات اور حکم رانی کے مطالعے میں ایسے مسائل کو نظامی (Systemic) اور ساختیاتی (Structural) خرابیوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ناکامیاں وقتی یا کسی ایک حکومت کی غلطیوں کا نتیجہ نہیں، بل کہ ادارہ جاتی ڈھانچے، طاقت کے توازن، قانونی ساخت، وسائل کی تقسیم اور احتسابی نظام کی کم زوریوں میں پیوست ہوتی ہیں۔
جب ایک ہی نوعیت کی کم زوریاں مختلف حکومتوں اور ادوار میں برقرار رہیں، تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتی ہیں کہ مسئلہ شخصیات نہیں، بل کہ نظام ہے۔
کسی ریاست میں ساختیاتی ٹوٹ پھوٹ کا اندازہ چند اہم اشاریوں سے لگایا جاتا ہے۔ جس میں قانون کی حکم رانی (عدالتیں، پولیس، بنیادی حقوق)، بدعنوانی کا پھیلاو، ریاستی کم زوری یا نازکی (Fragility)، شہری آزادیوں پر قدغن سب سے نمایاں اشارے ہیں۔
بین الاقوامی اشاریوں میں پاکستان مسلسل قانون کی حکم رانی، سیکورٹی، شہری انصاف اور اختیارات پر قدغن کے حوالے سے کم درجہ بندی میں آتا رہا ہے۔ خاص طور پر امن و امان کے اشاریوں میں پاکستان نچلے ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ عارضی نہیں، بل کہ گہرا اور ادارہ جاتی نوعیت کا ہے۔ تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں کہ تمام ادارے مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔ ریاست کے بعض شعبے (جیسے ٹیکس وصولی میں بہتری یا کچھ انتظامی اقدامات) کام کر رہے ہیں، لیکن مجموعی طور پر احتساب اور خدمت کی فراہمی غیر متوازن اور غیر یقینی ہے۔
پاکستان کا آئین شہریوں پر ریاست سے وفاداری اور قانون کی اطاعت کو لازم قرار دیتا ہے… مگر اسی کے ساتھ آئین، ریاست پر بھی ذمے داریاں عائد کرتا ہے، جیسے کہ بنیادی حقوق کا تحفظ، سستا اور فوری انصاف، نمایندہ اداروں کا مؤثر قیام… لیکن اگر انصاف مہنگا، سست اور ناقابلِ رسائی ہو جائے، تو یہ ریاست کی آئینی ذمے داری کی ناکامی ہے، نہ کہ عوام کی۔
پاکستان میں انصاف کی فراہمی کا بحران سب سے نمایاں ادارہ جاتی مسئلہ ہے۔ لاکھوں مقدمات زیرِ التوا ہیں، جن میں اکثریت ضلعی عدالتوں میں ہے۔ عام شہری زمین، خاندانی تنازعات یا فوج داری مقدمات میں برسوں انتظار کرتے ہیں۔ جب انصاف بروقت نہ ملے، تو لوگ غیر رسمی ذرائع، سفارش، مقامی بااثر افراد یا نجی طاقت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ رجحان برابری کی شہریت کو کم زور کرتا ہے اور ’’ساختیاتی بدعنوانی‘‘ کو جنم دیتا ہے۔
حالیہ آئینی ترامیم نے عدالتی تقرر اور آئینی تشریح کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر عدلیہ کی آزادی کم زور ہو جائے، تو وہ ریاستی اختیارات پر غیر جانب دارانہ قدغن نہیں لگا سکتی۔ اس کا بہ راہِ راست اثر عام شہری کے حقوق پر پڑتا ہے۔
ریاستی نازکی کے عالمی اشاریوں میں پاکستان کو ایک انتہائی دباو کے شکار ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جب ریاست عوام کو بنیادی تحفظ فراہم نہ کرسکے، تو اداروں پر اعتماد کم ہوتا ہے۔ نتیجتاً طاقت کا توازن غیر منتخب یا غیر نمایندہ مراکز کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں عسکری ادارے تاریخی طور پر طاقت کا مرکزی کردار رہے ہیں۔ جب اہم فیصلے پارلیمان کے باہر طے ہوں، تو قانون سازی عوامی مفاد کے بہ جائے اشرافیائی مفاہمتوں کی عکاسی کرنے لگتی ہے۔
یہ دعوا کہ ’’عوام بے شعور ہیں‘‘ شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حالیہ عام انتخابات میں کروڑوں افراد نے ووٹ ڈالا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام سیاسی عمل میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔ البتہ اگر انتخابی ماحول پر سوالات اُٹھیں، یا سیاسی مقابلہ غیر مساوی ہو، تو عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ جب ووٹ کی قدر مشکوک ہو جائے، تو شہری سیاسی عمل سے بددل ہوسکتے ہیں۔ یہ عوام کی بے شعوری نہیں، بل کہ نظام پر عدم اعتماد کا نتیجہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں، خصوصاً لڑکیاں۔ تعلیم کی کم زوری شہری شعور، معاشی صلاحیت اور سیاسی شرکت کو محدود کرتی ہے۔ جب ریاست تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں کم زور ہو، تو طاقت ور طبقات کو اپنی برتری برقرار رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
یہ ایک ساختیاتی چکر (Feedback Loop) ہے، جو کہ کم زور تعلیم، کم زور شہری شرکت، کم زور احتساب اور مزید ادارہ جاتی کم زوری پیدا کرتا ہے۔
آئینی طور پر پالیسی سازی کی ذمے داری منتخب نمایندوں پر ہے، مگر عملی سیاست میں طاقت کا توازن پیچیدہ ہے۔ اگر عدلیہ کم زور ہو، میڈیا پر دباو ہو، اور سول سوسائٹی محدود ہو، تو احتساب کے قدرتی ذرائع سکڑ جاتے ہیں۔ علما، دانش ور، میڈیا اور مذہبی قیادت بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر وہ تنقیدی سوچ کے بہ جائے سرپرستی کے نظام کا حصہ بن جائیں، تو ادارہ جاتی زوال کو تقویت ملتی ہے… مگر ان سب کا کردار بھی قانونی و سیاسی ماحول سے مشروط ہوتا ہے۔
تحقیقی شواہد کے مطابق چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں: 
1:۔ پولیس، استغاثہ اور عدالتوں کی صلاحیت میں اضافہ اور مقدمات کے بوجھ میں کمی ازحد ضروری امور ہیں۔
2:۔ محض گرفتاریاں نہیں، بل کہ مالیاتی اور انتظامی نظام کی اصلاح بھی ضروری ہے۔
3:۔ آزاد میڈیا اور سول سوسائٹی کے بغیر احتساب ممکن نہیں۔ 
4:۔ عدالتی آزادی کا تحفظ انتہائی ضروری ہے، جس میں ججوں کا تقرر اور آئینی تشریح کے نظام کو سیاسی اثر سے پاک رکھنا ہوگا۔
5:۔ تعلیم اور انسانی سرمایہ کاری، طویل المدتی استحکام کا بنیادی ستون ہے۔ ان پر کام کرنا ناگزیر ہے۔
شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ پاکستان کا بحران بنیادی طور پر ادارہ جاتی، نظامی اور ساختیاتی نوعیت کا ہے۔ اسے عوام کی اجتماعی ’’بے شعوری‘‘ تک محدود کرنا نہ صرف سادہ لوحی ہے، بل کہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ 
ذمے داری تقسیم شدہ ہے، مگر طاقت تقسیم شدہ نہیں۔ جب تک احتساب کے مؤثر، آزاد اور قابلِ اعتماد ادارے مضبوط نہیں ہوتے، ساختیاتی مسائل خود کو دہراتے رہیں گے۔ پاکستان کا اصل سوال یہ نہیں کہ عوام باشعور ہیں یا نہیں، بل کہ یہ ہے کہ کیا ادارے عوام کی مرضی اور آئینی اصولوں کے تابع ہیں کہ نہیں…؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے