قارئینِ کرام! اگر سوات کے موجودہ حالات کا تھوڑا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے، تو یہ افسوس ناک حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ انتشار اور تقسیم در تقسیم کا شکار ہو رہا ہے۔ معمولی نوعیت کے اختلافات کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے… بالخصوص سوشل میڈیا پر مخصوص انفرادی واقعات کو اجتماعی نفرت کا جواز بناکر ایک مخصوص نسل یا علاقے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یوں مسلسل نفرتوں کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔
اس طرزِ عمل کے باعث ایک جانب نسلی تعصب کو فروغ مل رہا ہے، تو دوسری جانب علاقائی تعصب ان دراڑوں کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ کیوں کہ سوات اور اس سے ملحقہ اضلاع میں مختلف نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں سے جڑے لوگ صدیوں سے آباد ہیں۔ ایسے میں کسی مخصوص نسل سے تعلق رکھنے والے فرد یا خاندان کے جرم کو پوری برادری یا نسل سے جوڑ دینا نہ صرف انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے، بل کہ سماجی ہم آہنگی کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
مثال کے طور پر ہم سب کو معلوم ہے کہ حالیہ دنوں میں پیش آنے والا ایک دل خراش واقعہ، جس میں عطاءاللہ جان ایڈوکیٹ کو بے دردی سے شہید کیا گیا، جو ہم سب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، بلا مبالغہ شہید کی کمی صدیوں میں پوری نہ ہوسکے گی۔ کیوں کہ وہ ایک عام شخص نہیں تھے، بل کہ اس دھرتی پر بسنے والی تمام نسلوں کے لوگوں کے لیے ایک متحرک آواز تھے۔ وہ شاعر، ادیب، فلسفی، نام ور وکیل اور ظلم کے خلاف اور امن کے حصول کے لیے سرگرم جد و جہد کرنے والے حقیقی انسان تھے۔ شہید کی جدائی میں اب تک کئی دل مغموم ہیں۔ ایسے سانحات کے بعد دل غم و غصے سے بھرجانا ایک فطری عمل ہے، مگر بدقسمتی سے کچھ جذباتی اور غیر ذمے دار لوگوں نے اس واقعہ کو نسلی اور علاقائی تعصب میں بدلنے کی کوشش کی۔ ایک مجرمانہ فعل، جس کا تعلق چند مخصوص افراد سے تھا، اسے پورے علاقے یا برادری کے خلاف نفرت انگیز بیانیے میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہر جرم اپنی نوعیت میں انفرادی عمل ہوتا ہے… چاہے اُس جرم کا مرتکب فرد کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔ جرم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا… لیکن یہ قانون کا تقاضا ہے کہ مجرم کو حقیقی سزا ملے۔ تاہم کسی ایک فرد یا گروہ کے گھناونے فعل کو پوری نسل یا علاقے سے منصوب کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ اگر ایسے منفی سوچ کو تقویت دی گئی، تو معاشرہ مستقل طور پر عدم اعتماد اور کشیدگی کا شکار ہو جائے گا… اور یہ وہ راستہ ہے، جو کسی نہ کسی تباہی پر جاکر ہی ختم ہوتا ہے۔
سوات کی تاریخ گواہ ہے کہ سوات ہمیشہ سے ایک ایسی وادی رہا ہے، جہاں مختلف اقوام، قبائل اور مذاہب کے لوگ صدیوں تک ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ یہ خطہ کبھی گندھارا تہذیب کا مرکز رہ چکا ہے، جہاں بدھ مت اور ہندو تہاذیب کے آثار آج بھی ماضی کی گواہی دیتے ہیں۔ بعد ازاں مختلف قبائل یہاں آکر آباد ہوئے اور اس سرزمین کو اپنا مسکن بنایا۔ یوسف زئی قبیلہ تقریباً 16ویں صدی میں سوات آیا، جب کہ اس سے قبل سواتی قبائل، جن کا تعلق داردی نسل سے تھا، یہاں آباد تھے۔ وقت کے ساتھ آبادیوں میں اختلاط ہوا، مختلف نسلوں کی ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ داریاں قائم ہوئیں، مختلف قبائل ایک دوسرے میں ضم ہوئے اور یوں ایک مشترکہ سماجی شناخت نے جنم لیا۔
اگر دیکھا جائے، تو سوات کے بالائی علاقوں، خصوصاً کالام اور گرد و نواح میں کوہستانی اقوام آباد ہیں، جب کہ گوجر، توروالی اور دیگر لسانی و نسلی گروہ بھی اس وادی کا اہم حصہ ہیں۔ اگر دیکھا جائے، تو یوسف زئی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے، جو وسعتِ قلبی اور رواداری کی اَن گنت مثالیں پیش کرتی ہے۔ حتیٰ کہ سوات میں مختلف ادوار میں غیر یوسف زئی اور دیگر نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے حکم رانی کی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس خطے کی بنیاد تنگ نظری نہیں، بل کہ باہمی احترام اور اشتراکیت پر پڑی ہے۔
اگر سوات کی موجودہ حیثیت اور ترقی پر نظر ڈالی جائے، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ کسی ایک قبیلے یا نسل کی مرہونِ منت نہیں۔ تجارت، تعلیم، سیاحت، شعبۂ تعمیرات، امن و امان حتیٰ کہ ہر شعبے میں مختلف برادریوں نے مل کر کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہی اشتراکیت اس وادی کی اصل طاقت ہے۔ اگر کسی ایک گروہ کو اجتماعی طور پر دیوار سے لگانے یا علاقہ بدر کرنے کی بات کی جائے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود سوات کو ہوگا۔ کیوں کہ سیاحت، جو سوات کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، پہلے ہی مختلف چیلنجز کا شکار ہے۔ اگر اس تعصب کا تاثر مزید گہرا ہوا، تو مقامی سرمایہ کاری، کاروباری اور معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاح صرف قدرتی حسن کی وجہ سے سوات کا رُخ نہیں کرتے، بل کہ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی، امن اور رواداری سب سے پہلے ان لوگوں کی ترجیح ہوتی ہے۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نفرت کے سائے میں ترقی کا پہیا کبھی نہیں چلتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جرم کو جرم کی حد تک محدود رکھیں اور اسے نسلی یا علاقائی تعصب کا مسئلہ نہ بنائیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمے داریاں بروقت اور غیر جانب دارانہ طور پر نبھائیں، مجرموں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کریں، لیکن یہ اصول بہ ہر صورت مقدم رہنا چاہیے کہ انصاف کا ترازو کسی خاص نسل یا گروہ کے حق میں جھکا ہوا نہ ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی سنجیدگی اور ذمے داری کی اشد ضرورت ہے۔ غیر مصدقہ خبریں، اشتعال انگیز بیانات اور نفرت آمیز تبصروں سے گریز کیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ سوات کی اصل پہچان تنوع، تاریخ اور مختلف نسلوں کے لوگوں کا باہمی ربط ہے۔ اگر ہم نے جذبات کے بہ جائے ہوش مندی اور تاریخ کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکمت اور دانش مندی سے کام نہ لیا، تو یہ خوب صورت وادی محض ایک اچھا جغرافیہ تو بن کر رہ جائے گی، لیکن یہاں ایک مثالی معاشرہ ہرگز پنپ نہیں سکے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










