اسلامی فلاحی ریاست کی ذمے داری عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے، جو ریاست حاکمِ وقت کے ذریعے عوام کو فراہم کرتی ہے۔ کوئی بھی حکم ران جو ان بنیادی سہولیات کو عوام تک پہنچانے میں کام یاب ہوتا ہے، تو یقینی طور پر ایسے ریاستی حکم رانوں کو ریاست کا مثالی حکم ران قرار دیا جاسکتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں حکم ران، عوام سے ٹیکس وصول کرکے اُن کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتے ہیں، جب کہ پاکستانی حکم ران عوام سے ٹیکس وصول کرکے اپنی عیاشیوں پر خرچ کرتے ہیں اور کرپشن کے ذریعے عوامی ٹیکس کا پیسا اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرکے اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ نااہل حکمر ان اپنے کسی بھی عوامی منصوبے کا خط و خال پیش کرتے وقت عوام کو ایسے ایسے سبز باغ دکھاتے ہیں کہ عوام کو مجبوراً اس میں دل چسپی لینا پڑتی ہے۔
نجی گاڑیوں کو گیس (سی این جی) پر منتقل کرنے کے لیے لوگوں کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا، وہ سب جانتے ہیں۔ حکم رانوں کے فریب میں آکر ماحول دوستی کے نام پر لوگوں نے کروڑوں گاڑیوں میں سی این جی کٹس لگوائیں، سی این جی اسٹیشن کھل گئے اور اسی سیکٹر میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی، لیکن ایک دن سب ختم ہوا۔ اب نااہل حکم ران سی این جی اسٹیشنوں کو گیس فراہم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آرہے ہیں، جس کے نتیجے میں عوام کو گاڑیوں میں سی این جی ڈلوانے کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ حکم رانوں کی پالیسیاں اکثر عوام کے مفاد سے بہ راہِ راست متصادم ہوتی ہیں۔
اس طرح حکومت نے الیکٹرک بسیں چلا کر داد تو خوب وصول کی، لیکن پچھلے پانچ سالوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدی پالیسی میں ابہام پیدا کرتی رہی ہے۔ چند سال پہلے جب بجلی بل کی ادائی، آبادی کی اکثریت کے لیے وبالِ جاں بن گئی، تو حکومت نے عوام کی محبت میں (یا غیظ و غضب سے بچنے کے لیے) سولر پینلز کی حوصلہ افزائی شروع کی۔ عوام اور بالخصوص متوسط طبقے نے بھاری بلوں سے نجات کے لیے سولر سسٹم لگانا شروع کیے۔ کسی نے زیور یا دیگر قیمتی اشیا بیچ کر، جب کہ بعض نے ماہانہ اقساط پر اپنے گھروں کے لیے سولر پینلز کا انتظام کرلیا، کیوں کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
سولر پالیسی کے مطابق اگر نیٹ میٹرنگ کا صارف 500 یونٹ گرڈ کو فراہم کرتا اور صارف نے 400 یونٹ خرچ کیے ہوں، تو مذکورہ صارف حکومت کو 100 یونٹ کی 3000 (تین ہزار) روپے ادائی کرتا تھا۔ کچھ عرصے تک حکم رانوں کو یہ خیال نہیں رہا کہ اُن کی سولر پالیسی عوامی مفاد میں اور اُن کے اپنے مفادات کے خلاف ہے۔ حکم رانوں کو ایک دم یہ بھی یاد آیا کہ انھوں نے بجلی کی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں میں کیپیسٹی چارجز کے مطابق ادائی کا معاہدہ کیا ہے۔ ایک طرف کیپیسٹی چارجز کے مطابق ادائی اور دوسری طرف عوام نے اپنی بجلی کی ضروریات کو سولر سسٹم پر منتقل کر دیا، تو حکومت کی بجلی کی فروخت میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں حکومت نجی بجلی گھروں کو ادائی نہیں کر پا رہی۔ نجی بجلی گھروں سے کیے گئے مقدس معاہدے حکومت کے لیے توڑنا ممکن نہیں، تو حکم رانوں نے یہ موزوں سمجھا کہ عوام سے کیا گیا نجی معاہدہ ہی توڑ دیا جائے… اور ایسا ہی کیا گیا۔ حکم رانوں کو یقین تھا کہ اگر آئی پی پیز سے معاہدہ توڑ دیا گیا، تو وہ عالمی عدالتی انصاف سے رجوع کریں گے، جب کہ عوام کا کون سنے گا؟ کیون کہ اُنھیں معلوم ہے کہ عدالتیں اُن کی غلام بن چکی ہیں اور وہاں سے عوام کو انصاف ملنا ناممکن ہے۔ البتہ عوام صرف بددعائیں ہی دے سکتے ہیں، تو دیتے رہیں۔
اب نئی ’’نیٹ میٹرنگ پالیسی‘‘ کے مطابق اگر نیٹ میٹرنگ کا صارف گرڈ کو 500 یونٹس فراہم کرتا ہے، تو صارف کی فراہم کردہ یونٹس کی قیمت 10 روپے فی یونٹ کے حساب سے 5000 بنے گی، جب کہ صارف کے خرچ کردہ 400 یونٹ کی قیمت 60 روپے فی یونٹ کے حساب سے 30 ہزار روپے بنتی ہے۔ اب نیٹ میٹرنگ والے صارف کو حکومت کو 25 ہزار روپے ادا کرنا پڑیں گے۔
حکومت نے عوام پر دوسرا ظلم یہ کیا کہ 100 یونٹ خرچ کرنے والوں پر 200 روپے فکسڈ چارجز اور 200 یونٹ خرچ کرنے والوں پر 300 روپے فکسڈ چارجز کا مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ عوام خون پسینے کی کمائی سے جو چھوٹی سی سہولت حاصل کرتے رہے، تو پتا چلتا ہے کہ یہ بھی حکومت کو ناگوار گزر رہی ہے۔ نااہل حکم رانو…! اگر عوام کو کوئی سہولت نہیں دے سکتے، تو تکلیف تو نہ دیں۔
ہمارے ہاں سب سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ حکومتیں یا حکم ران اپنے آپ کو ریاست سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں اور خود کو ریاست بنا کر پیش کرتے بھی ہیں۔ حکم رانوں کی نااہلی، ناقص کارکردگی، وسائل کی لوٹ کھسوٹ، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور زندگی کی دوسری سہولیات نہ ملنے کے خلاف جب عوام سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، تو حکم ران اُنھیں ریاست کے نام پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور اُن کے سینوں پر غداری کا تمغا سجا دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ عوام کا احتجاج ریاست کے خلاف نہیں، بل کہ حکومت، حکم رانوں کے پروردہ طبقے اور اشرافیہ کے خلاف ہوتا ہے۔
اس طرح کوئی صحافی اگر عوامی مسائل پر قلم اُٹھانے کی جرات کرتا ہے، تو اُس کے خلاف بھی دہشت گردی تک کے مقدمات درج ہوتے ہیں، گرفتار کرکے اُن پر تشدد کیا جاتا ہے اور اُن کا نام بھی غداروں کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔
حکم رانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ظالموں کا تخت و تاج کبھی اُن کا ساتھ نہیں دیتا، جب عوام سراپا احتجاج بن جائیں، تو…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










