جمہوری سیاست کی ناکامی کی وجوہات

Blogger Lawangin Yousafzai

قیامِ پاکستان کے بعد سے یہ امید کی جاتی رہی ہے کہ ملک ایک ایسے جمہوری نظام کے تحت ترقی کرےگا، جہاں عوام کے منتخب نمایندے عوامی خواہشات کے مطابق پالیسی اور طرزِ حکم رانی تشکیل دیں گے۔ تاہم سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستان میں ’’جمہوری سیاست‘‘ عدم استحکام، کم زوری اور بار بار تعطل کا شکار رہی ہے۔ اگرچہ انتخابات منعقد ہوتے رہے ہیں اور پارلیمان بھی قائم ہوتی رہی ہے، مگر جمہوریت ایک مضبوط، جواب دِہ اور عوام دوست نظام کی صورت اختیار نہیں کرسکی۔ اس ناکامی کی وجوہات محض اتفاق نہیں، بل کہ گہرے ساختی مسائل، کم زور ادارے، معاشی بحران اور ایک ایسی سیاسی ثقافت ہیں، جو ابھی تک جمہوری اقدار کو مکمل طور پر اپنانے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان میں جمہوری عدم استحکام کی ایک بنیادی وجہ سیاسی معاملات میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا غیر متناسب اثر و رسوخ ہے۔ ریاست کے ابتدائی برسوں ہی سے غیر منتخب قوتیں منتخب اداروں پر حاوی رہی ہیں۔ پاکستان اپنی تاریخ کا تقریباً نصف حصہ بہ راہِ راست غیر سول حکم رانی کے تحت گزار چکا ہے، جن میں 1958 عیسوی، 1969 عیسوی، 1977 عیسوی اور 1999 عیسوی کے اہم ادوار شامل ہیں۔ حتیٰ کہ سول ادوار میں بھی منتخب حکومتیں مسلسل دباو میں رہیں اور خارجہ پالیسی، داخلی سلامتی اور حکم رانی جیسے اہم معاملات میں آزادانہ فیصلے نہ کرسکیں۔ اس صورتِ حال کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی منتخب وزیرِ اعظم اپنی آئینی مدت بلا رکاوٹ مکمل نہیں کرسکا۔ یہ حقیقت افراد کی ناکامی سے زیادہ نظام کی کم زوری کی نشان دہی کرتی ہے۔ بار بار ہونے والی یہ رکاوٹیں جمہوری اداروں کے استحکام کو روکتی ہیں اور پالیسی کے تسلسل کو ناممکن بنا دیتی ہیں۔
جمہوری سیاست کی ناکامی کی ایک اور بڑی وجہ بدعنوانی اور کم زور طرزِ حکم رانی ہے۔ جمہوریت کا انحصار عوامی اعتماد پر ہوتا ہے، لیکن یہ اعتماد وقت کے ساتھ شدید طور پر مجروح ہوا ہے۔ ’’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘‘ کے ’’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘‘ کے مطابق پاکستان حالیہ برسوں میں دنیا کے تقریباً 180 ممالک میں سے 133ویں نمبر کے آس پاس رہا ہے۔ یہ تاثر بار بار سامنے آنے والے کرپشن اسکینڈلز، انتخابی احتساب اور احتسابی اداروں کے سیاسی استعمال سے مزید مضبوط ہوتا ہے۔
گیلپ پاکستان کے سرویز کے مطابق اکثر اوقات 65 سے 70 فی صد سے زائد شہری سیاست دانوں اور سیاسی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ جب جمہوریت عوام کی نظر میں بدعنوانی کی علامت بن جائے، تو اس کی اخلاقی حیثیت اور عوامی حمایت دونوں کم زور پڑ جاتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کا کردار بھی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے بہ جائے اسے کم زور کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی بیش تر بڑی جماعتیں ادارہ جاتی جمہوریت کے بہ جائے خاندانی یا شخصی حکم رانی کے تحت چلتی ہیں۔ قیادت کی منتقلی شاذ و نادر ہی اندرونی انتخابات یا میرٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے، بل کہ اقتدار مخصوص خاندانوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، بھٹو خاندان اور پاکستان مسلم لیگ (ن)، شریف خاندان کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اس خاندانی سیاست نے نئی قیادت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، نظریاتی سیاست کو پس منظر میں دھکیل دیا اور سیاست کو عوامی خدمت کے بہ جائے ذاتی مفادات اور سرپرستی کا ذریعہ بنا دیا۔ نتیجتاً پارلیمان ایک مؤثر قانون ساز ادارہ بننے کے بہ جائے اشرافیہ کے مفادات کا میدان بن جاتی ہے۔
معاشی بدحالی نے بھی جمہوری نظام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ منتخب حکومتیں اکثر کم زور معیشت وراثت میں پاتی ہیں اور اپنی مدت کے اختتام پر حالات مزید بگڑے ہوئے چھوڑ جاتی ہیں۔ پاکستان کا قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے 70 فی صد سے تجاوز کرچکا ہے، جب کہ حالیہ برسوں میں مہنگائی دوہرے ہندسوں تک پہنچ گئی، جس سے متوسط اور غریب طبقہ بری طرح متاثر ہوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک آئی ایم ایف کے ساتھ 20 سے زائد پروگرام اس بات کا ثبوت ہیں کہ معیشت میں ساختی اصلاحات نہیں ہوسکیں۔ جب جمہوری حکومتیں روزگار، مہنگائی پر قابو اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہیں، تو عوام کے نزدیک جمہوریت بدانتظامی اور مشکلات کی علامت بن کر رہ گئی۔
ان تمام عوامل سے بڑھ کر ایک بنیادی مسئلہ جمہوری سیاسی ثقافت کی کمی ہے۔ جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں، بل کہ شعور، برداشت اور فعال شہری شرکت کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان میں شرحِ خواندگی تقریباً 60 فی صد ہے اور سیاسی تعلیم محدود ہے۔ اس کے علاوہ نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ تقسیم نے قومی اتفاقِ رائے کو مشکل بنا دیا ہے۔ سیاست اکثر تصادم، عدم برداشت اور شخصیات کے گرد گھومتی ہے، جب کہ جمہوریت کا بنیادی اصول مفاہمت اور مکالمہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں جمہوری سیاست کی ناکامی اس بات کا ثبوت نہیں کہ جمہوریت اس ملک کے لیے موزوں نہیں۔ اصل مسئلہ جمہوریت کے مسلسل تعطل، غیر منتخب اداروں کی بالادستی، کم زور سیاسی جماعتوں، بدعنوانی، معاشی بدانتظامی اور جمہوری اقدار کے فقدان میں ہے۔ پاکستان میں جمہوریت ڈھانچے کی صورت میں موجود ہے، مگر طاقت کی صورت میں نہیں۔ جب تک اداروں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا، سیاسی جماعتیں اندرونی اصلاحات نہیں کرتیں… اور عوام کا اعتماد بہ حال نہیں ہوتا، جمہوریت ایک کم زور نظام ہی بنی رہے گی… ظاہری طور پر موجود، مگر روح سے خالی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے