عطاءاللہ جانؔ، ہم شرمندہ ہیں…!

Blogger Fazal Maula Zahid

11 فروری 2026 عیسوی کی وہ شام غیر معمولی طور پر بوجھل تھی، یا شاید مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا۔ مَیں سردی کی شدت سے بچنے کے لیے کمبل اوڑھے چارپائی پر نیم دراز تھا۔ آنکھیں محترم فضل رازق شہاب کی کتاب “خواہشِ ناتمام” کی ورق گردانی پر فوکس تھیں، مگر ذہن اَن جانے اندیشوں میں الجھا ہوا تھا، کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے۔
اسی اثنا میں بیٹا منظور احمد گھبراہٹ کے عالم میں کمرے میں داخل ہوا اور بولا: ’’آپ سوشل میڈیا نہیں دیکھ رہے؟ عطاءاللہ جانؔ ایڈوکیٹ قتل کر دیے گئے ہیں۔‘‘
یہ سنتے ہی کمرے میں خوف ناک خاموشی چھا گئی۔ مَیں فوراً  سکتے کے عالم میں چلا گیا۔ جیسے تیسے کرکے خود کو سنبھالا اور خبر کی تفصیل جاننے کے لیے موبائل آن کیا، تو میڈیا پر خبر نہیں، ایک ہنگامہ برپا تھا۔ واقعے کی تصاویر، تبصرے اور قیاس آرائیاں سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج  میں قاتل کلاشنکوف تھامے جب عطاءاللہ جانؔ کی طرف نشانہ باندھ کر ٹریگر دبا رہا تھا، تو جانؔ کے اٹھتے ہاتھ اور بے بسی کا انداز دیکھ کر آنکھیں پتھرا گئیں۔ شاید ہی کوئی حساس دل اس سانحے پر اشک بار نہ ہوا ہو۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ بچوں کی لڑائی سے شروع ہوا۔ بڑوں کے درمیان بات تو تو میں میں سے ہوتی ہوئی، بندوق کے ٹریگر تک پہنچی اور بالآخر عطاءاللہ جانؔ کے قتل اور کئی  دوسرے افراد کے زخمی ہونے پر منتج ہوئی (اس واقعے میں مخالف فریق کے فضل خالق نامی ایک محترم بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں جاں بہ حق ہوچکے ہیں، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔) المیہ یہ ہے کہ یہ سب عمل ایک معمولی تنازع کا نتیجہ ہے۔ افسوس کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں، جہاں اسلحہ عام ہے اور برداشت نایاب… جہاں معمولی چھیڑ چھاڑ کا جواب بولی سے نہیں، بل کہ گولی سے دیا جاتا ہے۔ دہائیوں کی جنگ، شدت پسندی اور طاقت کے بیانیے نے بندوق کو بہادری، وقار اور تحفظ کی علامت بنا دیا ہے… مگر ہمیں رُک کر سوال کرنا ہے کہ ہم نے ان بندوقوں سے کتنے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کیا اور کتنے اپنے، کتنے پڑوسی، کتنے سماجی و سیاسی کارکن محض انا کی تسکین میں مار دیے…؟
حقیقت یہ ہے کہ ہم بندوق، چور اور ڈکیتوں کے خوف سے رکھتے ہیں، مگر گولیاں اکثر اپنے ہی لوگوں کے سینے میں اتارتے ہیں۔
عطاءاللہ جانؔ سے جان پہچان ایک عرصے سے تھی، مگر باقاعدہ میل جول کا سلسلہ تب شروع ہوا، جب سوات میں بدامنی کی بوئی ہوئی فصل کاٹنے کے دن آئے۔ 2008 عیسوی میں سوات بدامنی کی  لپیٹ میں آچکا تھا اور ہر طرف بندوق، بارود اور بم دکھائی دے رہے تھے۔ جانؔ، اُن سنجیدہ لوگوں میں شامل تھے، جو اس شور شرابے میں بھی مکالمے کی زبان پر یقین رکھتے تھے۔ تب امن کی بات کرنا زندگی سے ہاتھ دھونے کے مترادف تھا، تاہم وہ اُس گھمبیر صورتِ حال میں بھی نپے تلے انداز میں بات کرتے اور جو کچھ کہتے ڈنکے کی چوٹ ہی پر کہتے۔
جانؔ شاعر بھی تھے، اُن کی شاعری میں امن کی وکالت، جنگ سے نفرت اور خون بہانے والوں کی مذمت نمایاں تھی۔ اُن کی گفت گو میں اشتعال نہیں، استدلال ہوتا تھا۔ وہ ایک کتاب دوست آدمی تھے۔ پختون لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور اُن کی نگارشات کو شائع کرنے میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ قابلِ احترام فضل رازق شہابؔ صاحب کے مطابق اُن کی کتاب ’’عکسِ ناتمام‘‘ کی اشاعت میں جانؔ کی دن رات محنت شاملِ حال رہی۔ کتاب کے ٹائٹل پر لیڈی جن گریسی کی پینٹنگ کا عکس اُن کی وجہ سے ممکن ہوسکا۔
پیشے کے اعتبار سے جانؔ ایک معروف قانون دان تھے۔ مظلوموں کے مقدمات کی پیروی کرنا فرضِ عین سمجھتے تھے۔ جائز مقدمات اکثر برائے نام فیس پر یا بلامعاوضہ لڑتے تھے۔ وکلا برادری کے علاوہ سیاسی و سماجی حلقوں میں اُن کا احترام کیا جاتا تھا۔ کیوں کہ وہ بات  کرتے تو وقار، دلیل اور اختصار کے ساتھ کرتے۔ تا دمِ آخر ’’سوات قومی جرگہ‘‘ اور ’’پختون تحفظ موومنٹ‘‘ سے وابستہ رہے۔ اُن کا سفید لباس اور سیاہ کوٹ محض ظاہری سادگی نہیں، بل کہ شفاف باطن کا عکس تھے۔ اُن کا ظاہر و باطن ایک تھا۔
اس سانحے کے بعد، چھبتا ہوا سوال یہ ہے کہ سوات میں اسلحے کی اتنی بھرمار کیوں ہے؟ لائسنس پالیسی پر کتنی بار سنجیدہ نظرِ ثانی ہوئی ہے؟ کمیونٹی سطح پر اسلحے کی نمایش روکنے کے لیے کیا حکمت عملی بنی یا بنائی گئی ہے؟ اب یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ ریاست کو غیر قانونی اسلحے کے خلاف بلا امتیاز کارروائی، لائسنس کے اجرا میں سخت معیار اور اسلحے کی نمایش پر مؤثر پابندی جیسے اقدامات کرنے ہوں گے۔
سوال صرف ریاست کا بھی نہیں، ہمارا بھی ہے۔ ایسے سانحات کے بعد جذبات بھڑکتے ہیں، الزامات لگتے ہیں، شناختیں موضوعِ بحث بنتی ہیں اور یوں نفاق کی خلیج مزید گہری ہوجاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مؤثر، غیر روایتی سماجی پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے، جو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر تجاویز تیار کرکے اس کی مسلسل ایڈوکیسی کرے۔ کچھ عرصہ قبل ’’سوات واچ‘‘ کے نام سے ایک فورم بنانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن وہ بارآور ثابت نہیں ہوئی۔ یاد رہے کہ امن صرف ریاستی حکم سے نہیں آتا… یہ سماجی رویوں، اجتماعی نظم و ضبط اور شعوری فیصلوں سے جنم لیتا ہے۔
اے ’’مبارزۂ امن‘‘ کے سپاہی، عطاءاللہ جانؔ…! ہم شرمندہ ہیں۔ تم پختون وطن کی محرمیوں کا رونا رہے تھے اور ہر سطح پر اُن کا مقدمہ لڑ رہے تھے، لیکن پختون قوم آپ کو تحفظ نہ دے سکی۔ ہم شرمندہ ہیں کہ ہمارے فرسودہ معاشرے میں بندوق کو وقار اور برداشت کو کم زوری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
دہ جبر تورہ شپہ کے دہ صبا غوندے سڑے
پہ ڈوبہ خاموشئی کے وو گویا غوندے سڑے
دا خلق پہ سینہ کے لری سومرہ کافر زڑونہ
تیارو تہ دہ ګور سپاری دہ رڼا غوندے سڑے (نامعلوم) 
یعنی وہ، ظلمتِ شب میں نویدِ سحر دینے والا شخص… وہ، خوف ناک خاموشی میں بھی صدا دینے والا شخص… کتنے سنگ دل ہیں یہ لوگ، جو روشنی کi علامت اندھیروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔
یہ سطور قلم بند کرتے ہوئے پتا چلا کہ دوسرے فریق کے ایک معزز فرد فضل خالق صاحب بھی انتقال کرگئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ چالیس پینتالیس برس قبل شانگلہ  سے سیدو شریف میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ اُن کا انتقال بھی اُن کے خاندان کے لیے ایک المیہ سے کم نہیں۔ سوات اور شانگلہ کے عوام اس سلسلے میں نفرتیں پھیلانے سے گریز کریں، تو بہتر ہوگا۔
اللہ تعالی دونوں فوت ہونے والی شخصیات کی مغفرت فرمائے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے