پختون معاشرے میں حجرہ محض اینٹوں اور مٹی سے بنی ایک عمارت نہیں تھا، بل کہ یہ تہذیب، تربیت اور سماجی شعور کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی، جہاں گاؤں کے چھوٹے بڑے، امیر غریب، خان اور مزدور سب ایک صف میں بیٹھتے، حال احوال پوچھتے اور اجتماعی زندگی کے آداب سیکھتے۔
القصہ، حجرہ پختون ثقافت کی روح اور مہمان نوازی کی روشن علامت تھا۔
مہمان نوازی کی علامت:۔ پختون روایات میں مہمان کو خاص مقام حاصل ہے… اور حجرہ اس روایت کا عملی مظہر تھا۔ کوئی مسافر ہو یا دور دراز سے آیا مہمان، سب سے پہلے حجرے کا دروازہ اس کے لیے کھلتا۔ چائے، کھانا اور قیام کا انتظام بغیر کسی سوال کے کیا جاتا۔ اس طرح حجرہ پختونوں کی فراخ دلی اور بھائی چارے کی عملی تصویر پیش کرتا تھا۔
ایک غیر رسمی جامعہ (یونیورسٹی):۔ حجرہ کو بہ جا طور پر ایک “یونیورسٹی” کہا جاسکتا ہے۔ یہاں بزرگ بیٹھ کر اپنے تجربات بیان کرتے، تاریخ کے قصے سناتے، جرگوں کے فیصلے ہوتے اور گاؤں کے مسائل پر گفت گو کی جاتی۔ نوجوان انھی محفلوں میں بیٹھ کر بات کرنے کا سلیقہ، بڑوں کا احترام، اختلافِ رائے کا ادب اور اجتماعی ذمے داری کا شعور سیکھتے تھے۔ یہی نوجوان آگے چل کر گاؤں کی قیادت سنبھالتے، تنازعات کے حل میں حصہ لیتے اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے۔ گویا حجرہ کردار سازی کی ایک درس گاہ تھا۔
سماجی ہم آہنگی کا مرکز:۔ حجرہ اختلافات کو ختم کرنے اور دلوں کو جوڑنے کی جگہ تھا۔ اگر کسی کے درمیان ناراضی ہوتی، تو بزرگ حجرے میں بلا کر صلح کرواتے۔ خوشی ہو یا غم، شادی ہو یا تعزیت، ہر موقع پر حجرہ ہی مرکز بنتا۔ یوں یہ جگہ گاؤں کی اجتماعی زندگی کا دھڑکتا ہوا دل تھی۔
بدلتا ہوا دور اور زوال:۔ افسوس کہ جدید دور میں یہ روایات کم زور پڑتی جا رہی ہیں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو ایک ایسی دنیا میں مصروف کر دیا ہےم جہاں حقیقی سماجی روابط کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اب وہ محفلیں، وہ بزرگوں کی باتیں، وہ تربیتی ماحول کم ہی نظر آتا ہے۔ نتیجتاً نوجوان نسل میں وہ سماجی پختگی اور آداب کم ہوتے جا رہے ہیں، جو کبھی حجرے کی محفلوں سے سیکھے جاتے تھے۔
ضرورتِ احیا:۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم حجرے کی روایت کو جدید تقاضوں کے ساتھ زندہ کریں۔ اگرچہ ٹیکنالوجی اپنی جگہ اہم ہے، مگر سماجی تربیت اور اقدار کا کوئی متبادل نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ نوجوانوں کو دوبارہ اجتماعی نشستوں کی طرف راغب کریں۔ انھیں بزرگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کریں اور حجرے کو صرف ایک عمارت نہیں، بل کہ ایک فکری اور تربیتی مرکز کے طور پر زندہ کریں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حجرہ پختون معاشرے کی پہچان، مہمان نوازی کی علامت اور تربیت کی درس گاہ تھا۔ اگر ہم اپنی روایات کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، تو حجرے کی روح کو دوبارہ بیدار کرنا ہوگا۔ کیوں کہ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں، جو اپنی تہذیب اور اقدار کو سنبھال کر آگے بڑھتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










