پاکستان کا ساختیاتی بحران (مارکسی تجزیہ)

Blogger Comrade Sajid Aman

پاکستان اس وقت جس سیاسی و معاشی بحران سے گزر رہا ہے، اسے محض حکم رانوں کی نااہلی، شخصیات کی کش مہ کش یا ادارہ جاتی تنازعات تک محدود کرنا حقیقت سے فرار کے مترادف ہے۔ اس بحران کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں، اور اسے سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
یہ دراصل ایک طبقاتی ریاست کا بحران ہے، جسے مارکسی نقطۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مارکس کے مطابق، ریاست کبھی غیر جانب دار نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ اُس طبقے کے مفادات کی محافظ ہوتی ہے، جس کے ہاتھ میں ذرائعِ پیداوار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یہ ذرائع چند طاقت ور طبقات کے قبضے میں ہیں: جاگیردار اشرافیہ، کارپوریٹ سرمایہ دار اور ریاستی بیورو کریسی یا طاقت کے مراکز۔ یہی طبقاتی اتحاد ملک کی سیاست، معیشت اور پالیسی سازی پر حاوی ہے، اب خواہ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو۔
پارلیمانی سیاست بہ ظاہر عوامی رائے کی نمایندگی کرتی دکھائی دیتی ہے، مگر عملاً یہ بالادست طبقے کے اندرونی تضادات کو سلجھانے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ انتخابی نعروں میں ’’تبدیلی‘‘، ’’ریاستِ مدینہ‘‘ یا ’’عوامی ریلیف‘‘ جیسے الفاظ ضرور شامل ہوتے ہیں، مگر اقتدار میں آتے ہی پالیسیوں کا رُخ وہی رہتا ہے: نج کاری، بالواسطہ ٹیکس، مہنگی توانائی اور محنت کش طبقے پر مسلسل دباو… یوں چہرے بدلتے رہتے ہیں, مگر نظام وہی رہتا ہے۔
پاکستان کا معاشی انحصار عالمی مالیاتی اداروں پر، مارکسی تناظر میں جدید سامراج کی واضح مثال ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک وغیرہ جیسے ادارے قرض کے ساتھ ایسی شرائط مسلط کرتے ہیں، جو عوامی فلاح کے بہ جائے سرمایہ کے تحفظ کو یقینی بناتی ہیں۔ سبسڈی کا خاتمہ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور سماجی اخراجات میں کٹوتی جیسے سب اقدامات دراصل عوام سے قدرِ زائد، یا اُن کی کمائی نچوڑ کر عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو منتقل کرنے کے ہتھ کنڈے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں غریب مزید غریب اور امیر مزید امیر ہوتا جاتا ہے۔
اس پورے عمل کو قابلِ ہضم بنانے میں کارپوریٹ میڈیا اور جعلی غالب بیانیہ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ مارکس نے جسے جھوٹی شعور سازی (False Consciousness) کہا ہے، وہ ہمارے ہاں پوری شدت سے کارفرما ہے۔ عوام کو اصل مسئلے، یعنی طبقاتی استحصال، سے توجہ ہٹا کر شخصیت پرستی، وقتی سیاسی تماشوں، یا مذہبی و قوم پرستانہ جذبات میں الجھایا جاتا ہے۔ نتیجتاً سوال یہ نہیں رہتا کہ نظام کیوں ناکام ہے، بل کہ یہ بن جاتا ہے کہ کون سا فرد یا جماعت بہتر ہے، یا مذہب و مذہبی جماعتوں کی حکومت، قوم پرستوں کی حکومت، وفاق پرستوں کی حکومت، علاحدگی پسند حلقوں کی قربت مسائل کا حل ہیں؛ جو کہ دراصل بیانیوں کی فیکٹریاں اور طبقاتی جد و جہد سے توجہ ہٹانے کے سرمایہ دارانہ جال ہوتے ہیں۔
تاہم اس گھٹن زدہ فضا میں بھی مزاحمت کی چنگاریاں بجھی نہیں۔ مزدور احتجاج، کسان تحریکیں، طلبہ کی آوازیں اور علاقائی سطح پر حقوق کی جد و جہد اس بات کی علامت ہیں کہ سماج میں تبدیلی کی خواہش زندہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ مزاحمت منتشر ہے اور کسی واضح نظریاتی پروگرام اور منظم قیادت سے محروم ہے۔ مارکسی نقطۂ نظر کے مطابق جب تک محنت کش طبقہ اپنی طبقاتی حیثیت کو پہچان کر منظم نہیں ہوتا، تبدیلی محض خواہش ہی رہتی ہے۔
آخرِکار یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کا موجودہ بحران کسی ایک حکومت یا ادارے کی پیداوار نہیں، بل کہ سرمایہ دارانہ ریاست کی فطری پیداوار ہے۔ جب تک زمین، صنعت اور پیداوار پر عوامی کنٹرول، محنت کی منصفانہ قدر اور دولت کی منصفانہ تقسیم کو سیاست کا محور نہیں بنایا جاتا، تب تک اصلاحات سطحی رہیں گی۔ حقیقی سوال یہ نہیں کہ اگلا حکم ران کون ہوگا… بلکہ یہ ہے کہ اقتدار کس طبقے کے ہاتھ میں ہوگا؟
یہی وہ سوال ہے جس کا جواب پاکستان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ اس سوال کو جتنا زیادہ اجاگر کیا جائے گا، اتنا ہی زیادہ یہ ذہن نشین ہوکر شعوری طور پر محکوم طبقات کو اکٹھا کرکے مسلسل ظلم، جبر اور استحصال سے نجات دلائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے