’’غزہ پیس بورڈ‘‘… پاکستانی خارجہ پالیسی کا امتحان

Blogger Lawangin Yousafzai

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ’’مسئلۂ فلسطین‘‘ ایک واضح اخلاقی، قانونی اور اصولی بنیاد پر قائم رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کی ہے، اسرائیلی قبضے کی مخالفت کی ہے، یک طرفہ علاقائی تبدیلیوں کو مسترد کیا ہے اور ایک منصفانہ و جامع تصفیے کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ چناں چہ غزہ سے متعلق کسی بھی بعد از تنازع، انتظامی یا سیاسی نظام میں شمولیت کو اسی اصولی فریم ورک کے اندر پرکھنا ضروری ہے۔
اس تناظر میں ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ جیسے اقدامات میں شمولیت بہ ذاتِ خود پاکستان کے اصولی مؤقف سے متصادم نہیں، تاہم اس کی اِفادیت اور موزونیت کا انحصار شمولیت کی نوعیت، دائرۂ کار اور شرائط پر ہے۔ عصرِ حاضر کی سفارت کاری میں مکمل لاتعلقی اکثر غیر متعلق ہو جانے کا سبب بنتی ہے، جس کے نتیجے میں طاقت ور ریاستیں کم زور فریقوں کے مستقبل کا فیصلہ اپنی ترجیحات کے مطابق کرتی ہیں۔ اگر پاکستان ایسے فورمز میں موجود ہوم تو وہ اندر رہتے ہوئے فلسطینی مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے، عبوری انتظامات میں فلسطینی قیادت اور شمولیت پر زور دے سکتا ہے اور اس امر کی مزاحمت کرسکتا ہے کہ تعمیرِ نو یا استحکام کے نام پر قبضے کو معمول بنایا جائے، یا سیاسی حقوق کو محض تکنیکی اور معاشی مسائل تک محدود کردیا جائے۔ یہ طرزِ عمل پاکستان کی اُس روایتی خارجہ پالیسی کے عین مطابق ہے جس میں اُصولوں پر سمجھوتا کیے بغیر کثیرالجہتی سفارت کاری کو بہ روئے کار لایا جاتا ہے۔
وسیع تر خارجہ پالیسی کے تناظر میں محتاط اور مشروط شمولیت، پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ بھی کرسکتی ہے۔ ایک بڑی مسلم ریاست ہونے کے ناتے، جس نے تاریخی طور پر مظلوم اقوام کی حمایت کی ہے، پاکستان کی تعمیری شمولیت اِسے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اورعالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) میں ایک ذمے دار اور سنجیدہ فریق کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف انسانی بحرانوں سے نمٹنے میں پاکستان کے کردار کو اُجاگر کرتا ہے، بل کہ سفارتی تنہائی یا محض جذباتی بیانات تک محدود رہنے کے تاثر سے بھی بچاتا ہے۔
مزید برآں، اُصولی شمولیت سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور مصر جیسے اہم مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے، جو پاکستان کے لیے معاشی اِستحکام، توانائی کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے نہایت اہم ہیں… تاہم ان ممکنہ فوائد کے ساتھ سنجیدہ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ ایسی شمولیت کو بالواسطہ طور پر اسرائیل کی معمول سازی یا مسلط کردہ حل کی تائید کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ اگر ایسے فورمز میں صورتِ حال کو قابض اور مقبوضہ کے بہ جائے دو مساوی فریقوں کے تنازع کے طور پر پیش کیا جائے، یا اسرائیل کو غزہ کے مستقبل کے تعین میں ایک جائز فریق تسلیم کیا جائے، تو پاکستان کی شرکت اس کے دیرینہ اخلاقی اور قانونی مؤقف کو کم زور کردے گی۔
اسی طرح اگر فلسطینی سیاسی قیادت اور عوامی نمایندگی کو نظر انداز کرکے کسی بین الاقوامی یا تکنیکی انتظامیہ کو مسلط کیا جائے، تو یہ بنیادی سیاسی مسئلے کو منجمد کرنے کے مترادف ہوگا، جو پاکستان کے حقِ خودارادیت کے مؤقف سے متصادم ہے۔
داخلی سیاسی عوامل بھی پاکستان کے فیصلوں کو محدود کرتے ہیں۔ پاکستان میں عوامی رائے مضبوطی سے فلسطینی عوام کے حق میں ہے… اور اصولی مؤقف میں کسی بھی قسم کی کم زوری حکومت کی ساکھ کو متاثر کرسکتی ہے۔ فلسطین جیسے حساس اور جذباتی مسئلے پر خارجہ پالیسی کو داخلی سیاسی جواز سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
خلاصہ یہ کہ غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت اسی صورت میں فائدہ مند اور مؤثر ہوسکتی ہے، جب وہ واضح طور پر مشروط، شفاف اور پاکستان کے اصولی مؤقف پر مضبوطی سے قائم ہو۔ ایسی شمولیت کو انسانی امداد، تعمیرِ نو اور مخلصانہ عارضی استحکام تک محدود رکھنا چاہیے، جب کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے اور فلسطینی قیادت میں سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ کھل کر کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اصل قوت ہمیشہ اخلاقی استقامت اور سفارتی شمولیت کے امتزاج میں رہی ہے۔ مکمل لاتعلقی غیر موثرئیت کا باعث بنتی ہے، جب کہ غیر مشروط شمولیت منافقت کا تاثر دے سکتی ہے۔
ایک متوازن، اُصولی اور واضح مؤقف ہی پاکستان کے قومی مفاد اور فلسطینی کاز دونوں کی بہترین خدمت کرسکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے