زندگی کی ستم ظریفی یہ ہے کہ بڑے سانحات ہمیشہ اچانک پیش آتے ہیں، مگر اُن کے بعد جو مرحلے شروع ہوتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ انسان کو توڑتے ہیں۔ کسی عزیز کی موت کا صدمہ اپنی جگہ بہت بڑا ہوتا ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں اس سے بڑا امتحان اکثر وہ کاغذی اور سرکاری عمل بن جاتا ہے، جو اُس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ انسان روتا بعد میں ہے، پہلے دفاتر کے چکر لگاتا ہے۔
دراصل چند روز قبل ہمارے رشتے داروں میں ایک نوجوان بیرونِ ملک روڈ ایکسیڈنٹ میں جاں بہ حق ہوگیا۔ گھر میں کہرام مچ گیا… مگر اصل اذیت اُس وقت شروع ہوئی، جب سوال سامنے آیا: ’’میت پاکستان کیسے آئے گی؟‘‘
وہاں کوئی قریبی خونی رشتے دار موجود نہیں تھا۔ قانون کے مطابق کسی بھی ملک میں میت کسی غیر متعلقہ فرد کے حوالے نہیں کی جاسکتی، جب تک اُس کے پاس قانونی اختیار نہ ہو۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے، جہاں غم زدہ خاندان اچانک ایک ایسے نظام میں داخل ہوجاتا ہے، جس کے اصول اُسے پہلے کبھی بتائے ہی نہیں گئے ہوتے۔
ہم بھی ابتدا میں لاعلمی کے باعث سیدھا ایمبیسی جا پہنچے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وقت درست ہے اور نہ طریقہ… واپس آئے، تو احساس ہوا کہ ہمارے معاشرے میں معلومات کی کمی بھی ایک مصیبت ہے اور کبھی کبھی یہ مصیبت حادثے سے کم نہیں ہوتی۔
اصل مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان سے کسی فرد کے نام ’’پاؤر آف اٹارنی‘‘ بنانا لازمی تھا، تاکہ وہ بیرونِ ملک جا کر یا وہاں موجود ہوکر قانونی طور پر میت وصول کرسکے۔ یہ ایک سادہ سا جملہ ہے، مگر اس کے پیچھے ایک پورا نظام کھڑا ہوتا ہے۔
سب سے پہلے آبپارہ میں ایک مستند ’’ٹرانسلیشن سروس‘‘ سے اسٹامپ پیپر پر ’’پاؤر آف اٹارنی‘‘ تیار کروایا جاتا ہے۔ یہاں مرحوم کا نام پاسپورٹ کے مطابق لکھا جاتا ہے۔ پاسپورٹ نمبر درج ہوتا ہے اور جس شخص کو اختیار دینا ہو، اُس کی مکمل تفصیل لکھی جاتی ہے۔ یہی وہ کاغذ ہوتا ہے، جس پر بعد میں سارا نظام کھڑا ہوتا ہے۔
اس کے بعد اسے فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ مجسٹریٹ دراصل یہ تصدیق کرتا ہے کہ یہ اختیار حقیقی ہے، جعلی نہیں۔ یہ ایک چھوٹی سی مہر ہوتی ہے، مگر قانونی اعتبار سے پہلی سانس اسی سے ملتی ہے۔
پھر فائل ڈپٹی کمشنر آفس جاتی ہے، جہاں ضلعی حکومت اس کی توثیق کرتی ہے۔ اکثر لوگ اسی مرحلے سے لاعلم ہوتے ہیں اور بار بار واپس بھیجے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دفاتر میں مسئلہ عملے کا نہیں، بل کہ معلومات کی کمی کا ہوتا ہے۔
اس کے بعد فائل وزارتِ خارجہ پہنچتی ہے۔ یہ دراصل پاکستان ریاست کی باضابطہ تصدیق ہوتی ہے کہ یہ دستاویز درست ہے۔ جب تک یہ مہر نہ لگے، دنیا کا کوئی سفارت خانہ کاغذ کو قانونی نہیں مانتا۔
آخر میں متعلقہ ملک کی ایمبیسی اس پر آخری مہر ثبت کرتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس کے بعد وہ کاغذ سرحد پار قانونی حیثیت اختیار کرتا ہے۔
تمام تصدیقات مکمل ہونے کے بعد ’’پاؤر آف اٹارنی‘‘ بیرونِ ملک بھجوائی جاتی ہے۔ وہاں یہی دستاویز پولیس، اسپتال، کفیل اور ایئرپورٹ حکام کو دکھا کر میت ریلیز کروائی جاتی ہے، ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنتا ہے، ایمبالمنگ ہوتی ہے اور آخرکار میت وطن روانہ ہوتی ہے۔
یہ پورا عمل سننے میں سیدھا سادھا لگتا ہے، مگر جب گھر میں میت کی خبر آئی ہو، تو ہر مرحلہ پہاڑ محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف گھر میں قرآن خوانی ہو رہی ہوتی ہے اور دوسری طرف کوئی فرد فائل اٹھائے ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک بھاگ رہا ہوتا ہے۔ ایک طرف آنسو ہوتے ہیں اور دوسری طرف فوٹو کاپیاں۔
ہمارے معاشرے میں لاکھوں لوگ روزگار کے لیے بیرونِ ملک مقیم ہیں… مگر افسوس یہ ہے کہ ہم نے زندہ بھیجنے کا نظام تو بنالیا، واپس لانے کا طریقہ کبھی سکھایا نہیں۔ ہر حادثے کے بعد ایک نیا خاندان دوبارہ وہی سبق سیکھنے پر مجبور کر دیتا ہے، جو کئی بار پہلے مل گیا ہوتا ہے۔ اس میں کسی ایک ادارے کی غلطی نہیں، اصل کمی آگاہی کی ہے۔ اگر لوگوں کو پہلے سے معلوم ہو کہ کس دفتر جانا ہے اور کس ترتیب سے جانا ہے؟ تو آدھی پریشانی ختم ہو جاتی ہے۔ غم کم نہیں ہوتا، مگر اذیت ضرور کم ہو جاتی ہے۔
یہ تحریر کسی شکایت کے لیے نہیں، راہ نمائی کے لیے ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اگر خدانہ خواستہ کسی اور گھر پر ایسا وقت آئے، تو وہ کم از کم راستہ ڈھونڈنے میں وقت ضائع نہ کرے۔ کیوں کہ ایسے لمحوں میں سب سے قیمتی چیز وقت ہی ہوتا ہے… اور وقت ہی سب سے زیادہ ضائع ہوتا ہے۔
موت انسان کو بے بس کرتی ہے، مگر لاعلمی انسان کو تھکا دیتی ہے… اور سچ یہ ہے کہ صدمہ ایک بار لگتا ہے، مگر غلط راستہ بار بار رُلاتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










