انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، تو ایک عجیب و غریب مماثلت نظر آتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر موجود مختلف تہذیبیں، جو ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور اور الگ الگ نظریات کی حامل ہیں، ایک نکتے پر متحد نظر آتی ہیں… اور وہ ہے ایک ’’نجات دہندہ‘‘ کا انتظار۔
مسلمان امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام کے منتظر ہیں، جو آ کر دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
ہندو مت میں ’’کلکی اوتار‘‘ کا تصور موجود ہے، جو تاریکی کے دور (کالیوگ) کو ختم کرکے سچائی کا راج قائم کرے گا۔
یہودی اب بھی اپنے مسیحا کی راہ تک رہے ہیں۔
مسیحی برادری نزولِ مسیح کی قائل ہے۔
حتیٰٰ کہ بدھ مت میں میتھریا اور زرتشت میں ’’سوشیانت‘‘ کی آمد کی پیش گوئیاں موجود ہیں۔
یہ تصور اپنی جگہ ایک خوب صورت ڈھارس ہے کہ حق کو آخرِکار غالب آنا ہے اور باطل مٹنے والا ہے… لیکن یہاں ایک تلخ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا اس انتظار نے ہمیں عمل سے دور تو نہیں کر دیا…؟
جہاں تک میرا تجزیہ ہے، آج کا عام آدمی اس خوش فہمی یا شاید ایک ’’نفسیاتی فرار‘‘ میں مبتلا ہوچکا ہے کہ چوں کہ ایک عظیم ہستی نے آکر سب ٹھیک کرنا ہے، اس لیے انفرادی یا اجتماعی سطح پر نظام کی اصلاح کی کوشش لاحاصل ہے۔ ہم نے اپنی تمام تر ذمے داریاں اُس آنے والی ہستی پر ڈال دی ہیں۔ گلی محلے کی صفائی ہو، نظامِ حکومت کی درستی ہو یا ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا… ہم یہ کَہ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ اب حالات ایسے ہی رہیں گے، جب وہ آئیں گے، تبھی سب ٹھیک ہوگا۔
یہ بے عملی دراصل اُس عقیدے کی غلط تشریح کا نتیجہ ہے، جس نے معاشرے میں ایک ایسا ذہنی جمود پیدا کر دیا ہے، جہاں انسان خود کو محض ایک تماشائی سمجھنے لگا ہے۔ ہم نے اپنی نااہلیوں کو ’’مصلحت‘‘ اور اپنی بزدلی کو ’’حالات کا تقاضا‘‘ قرار دے کر خود کو بری الذمہ کرلیا ہے۔
نفسیاتی طور پر دیکھا جائے، تو کسی نجات دہندہ کا انتظار انسان کو ایک عارضی سکون تو فراہم کرتا ہے، مگر یہ اُسے اِس تلخ حقیقت سے دور لے جاتا ہے کہ قدرت کا قانون ’’کوشش اور صلے‘‘ پر مبنی ہے۔ اگر ہم ماضی کی تاریخ دیکھیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی بڑی تبدیلی کسی غیبی مدد کے محض انتظار سے نہیں آئی، بل کہ اس کے لیے خون اور پسینا بہانا پڑا ہے۔
آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ظلم دیکھ کر لب کشائی کی زحمت نہیں کرتے، رشوت کے بازار میں خود بھی حصہ دار بنتے ہیں اور بدعنوانی کو نظام کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں… صرف اس امید پر کہ کوئی معجزہ ہوگا اور کوئی آسمانی طاقت آکر ہماری کایا پلٹ دے گی۔ یہ سوچ دراصل ایک ایسی قوم کی علامت ہے، جو زندہ رہنے کا جواز کھوچکی ہو۔
اگر موجودہ عالمی حالات پر نظر ڈالیں، جہاں انسانیت سسک رہی ہے اور کہیں معاشی، تو کہیں ماحولیاتی تباہی کے سائے گہرے ہو رہے ہیں، تو وہاں بھی عام آدمی کی بے بسی دیدنی ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر ’’غیبی مدد‘‘ کی دعائیں تو مانگتے ہیں، لیکن عملی طور پر کسی تبدیلی کا حصہ بننے سے کتراتے ہیں۔ تمام مذاہب کی اصل تعلیمات کا نچوڑ تو جد و جہد اور حق گوئی تھا… لیکن ہم نے ان تعلیمات کو صرف آنے والے کے استقبال کے لیے چراغ روشن کرنے تک محدود کر دیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف معجزوں کے انتظار سے نہیں، بل کہ تدبیر، محنت اور خونِ جگر سے بنتی ہیں۔ کسی بھی الہامی شخصیت کی آمد کا مقصد انسانوں کو کاہل بنانا نہیں، بل کہ اُنھیں ایک بلند تر نصب العین کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔
اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے، تو شاید ہم اس وقت کے لیے تیار ہی نہ ہوسکیں، جس کا ہم دعوا کرتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ خیر کا انتظار کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم خود خیر بن جائیں۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، سچ کا ساتھ دینا اور انسانیت کی خدمت کرنا وہ فرائض ہیں، جو کسی خاص وقت یا شخصیت کے مرہونِ منت نہیں ہونے چاہییں۔ اگر ہم آج اپنے گھر، اپنی گلی اور اپنے کردار کی اصلاح نہیں کرسکتے، تو ہم کس بنیاد پر ایک عالمی اصلاح کار کے سپاہی بننے کا خواب دیکھتے ہیں…؟
نجات دہندہ جب آئے گا، تب آئے گا… لیکن آج ہماری بے عملی جس نجات کی طلب گار ہے، وہ ہمارے اپنے اندر چھپی ہے۔
آئیے! انتظار ضرور کریں، مگر ہاتھ میں چراغ لے کر نہیں، بل کہ خود چراغ بن کر۔ کیوں کہ جو قوم خود کو نہیں بدلتی، اس کی تقدیر بدلنے مسیحا بھی آجائے، تو وہ اسے پہچاننے سے قاصر رہتی ہے۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ مسیحا اُن کا ہوتا ہے، جو پہلے خود اپنے مسیحا بنتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










