سیدو شریف، ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کے الم ناک قتل نے جہاں ایک طرف اُن کو شہادت کے اعلا منصب پر فائز کردیا ہے، تو دوسری طرف اُن کے اہلِ خانہ، ہم کار ساتھیوں، قریبی رُفقا اور پوری برادری کے دلوں میں ایک گہرا اور نہ پُر ہونے والی خلا چھوڑ گیا ہے۔ اُن کی وفات صرف ایک قانونی ماہر کا کُھونا نہیں بل کہ ایک ہم درد انسان، صاحبِ فکر شاعر اور امن و انسانیت کے خدمت گزار کی جدائی ہے۔ اُن کی زندگی لگن، علم اور انصاف و انسانیت سے ماخوذ مخلص وابستگی کی عکاس تھی۔
شہید ایڈوکیٹ عطاء اللہ جان ایک باعلم اور بااُصول شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ابتدائی عمر ہی سے اُنھوں نے تعلیم کو سنجیدگی سے اختیار کیا اور اِسے ذاتی ترقی اور سماجی بہتری کی بنیاد سمجھا۔ اُنھوں نے عزم و محنت کے ساتھ اپنی تعلیمی راہ طے کی اور بالآخر قانون کے شعبے کا انتخاب کیا… ایک ایسا پیشہ جو دیانت، تجزیاتی صلاحیت اور جرات کا تقاضا کرتا ہے۔
جان شہید کی قانونی تعلیم نے نہ صرف اُن کے کیریئر بل کہ اُن کے نظریات کو بھی شکل دی۔ وہ قانون کو محض پیشہ نہیں، بل کہ ایک ذمے داری سمجھتے تھے… ایک ایسا ذریعہ جو کم زوروں کے تحفظ اور معاشرے میں انصاف کے قیام کے لیے ضروری ہے۔ اُنھیں جاننے والے اُنھیں ذہین، مدلل گفت گو کرنے والا اور اختلاف میں بھی احترام رکھنے والا انسان قرار دیتے ہیں۔
سوات میں بہ طورِ وکیل، عطاء اللہ جان (شہید) نے اپنی پیشہ ورانہ دیانت اور اخلاقی کردار سے عزت کمائی۔ وہ ہر مقدمہ پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ لیتے تھے۔ اُن کے نزدیک وکالت ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں، بل کہ حق اور انصاف کے لیے آواز اٹھانے کا ایک توانا نام تھا۔ وہ خاص طور پر اُن افراد کی راہ نمائی کے لیے جانے جاتے تھے، جو وسائل سے محروم تھے۔ بہت سے لوگ اُن کی اس خوبی کو یاد کرتے ہیں کہ وہ ضرورت مندوں کو بغیر کسی معاوضے کی توقع کے قانونی مشورہ دیتے تھے۔ ایسے خطے میں جو مختلف سماجی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے، اُن کی خدمات نے قانونی عمل پر اعتماد کو مضبوط کیا اور پُرامن تنازعات کے حل کو فروغ دیا۔
انصاف کے ایوانوں سے باہر، شہید عطاء اللہ جان ایک حساس اور شاعر دل رکھتے تھے۔ شاعری اُن کے لیے جذبات، ثقافت اور اُمید کے اظہار کا ذریعہ تھی۔ اُن کے اشعار امن، انسانیت، وطن سے محبت اور انسانی وقار جیسے موضوعات پر مشتمل ہوتے تھے۔ شاعری کے ذریعے وہ لوگوں سے ایک گہرا تعلق قائم کرتے تھے۔اُن کی شاعری میں ہم دردی اور اُصولوں کی مضبوطی جھلکتی تھی۔ یہ ایک ایسے انسان کی عکاسی کرتی رہی، جو اپنے معاشرے سے گہرا تعلق رکھتا تھا اور اِس کے مسائل کو شدت سے محسوس کرتا تھا۔ ادب اُن کی زندگی سے جدا نہیں تھا، بل کہ اُن کی شخصیت کا انتہائی اہم حصہ تھا۔
ایک ایسے معاشرے میں جہاں اکثر تنازعات اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں، شہید ایڈوکیٹ عطاء اللہ جان مکالمے اور مفاہمت کے داعی تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اختلافات کو تشدد کے بہ جائے حکمت اور گفت گو کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اُن کی زندگی اِس اُصول سے تعبیر تھی کہ امن کا آغاز معاشرے کی سطح سے ہوتا ہے۔
قانونی خدمات، سماجی روابط یا ذاتی معاملات… ہر میدان میں اُنھوں نے ہم آہنگی کے لیے خاموشی سے کام کیا۔ وہ تنوع کا احترام کرتے اور ہر فرد کے وقار کو تسلیم کرتے تھے۔ اُن کا کردار اس بات کی مدلل مثال تھا کہ اصل طاقت صبر، انصاف اور ہم دردی میں ہے۔
شہید ایڈوکیٹ عطاء اللہ جان کی وفات زندگی کی ناپائیداری اور معاشرے میں امن کی فوری ضرورت کی یاد دہانی ہے… مگر اُن کی میراث زندہ ہے اور زندہ رکھی جائے گی… اُن مقدمات میں, جو اُنھوں نے دیانت سے لڑے، اُن اشعار میں جو اُنھوں نے کہے اور اُن دلوں میں جنھیں اُنھوں نے اپنی مہربانی سے چھوا اور اپنا گرویدہ بنایا۔ وہ صرف ایک وکیل یا شاعر کے طور پر نہیں، بل کہ ایک اُصول پسند انسان، خدمتِ خلق کے علم بردار اور امن کی توانا اور محسور کُن آواز کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ اُن کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ پیشہ ورانہ کام یابی تب ہی معنی رکھتی ہے، جب اُس کے ساتھ ہم دردی اور خدمت شامل ہو۔
شہید ایڈوکیٹ عطاء اللہ جان نے اپنے ایک نظم (خوابِ شہادت) میں اپنی ہی موت کا حال کچھ یوں بیان کیا ہے: (پشتو سے اُردو ترجمہ)
مَیں نے شبِ خاموش میں اک خواب یہ دیکھا تھا
آزادیٔ وطن کی خاطر مَیں نے لہو بہایا تھا
میدانِ وفا میں لڑتے لڑتے جامِ شہادت پایا تھا
سرخ اُفق نے میرے خوں سے عہدِ وفا دہرایا تھا
حورانِ بہشت نے کندھوں پر میرا جنازہ اٹھایا تھا
قوم کے باوقار جوانوں نے حقِ وفا نبھایا تھا
آہستہ آہستہ مٹی نے مجھ کو گود میں سُلایا تھا
ماں جیسی اس دھرتی نے سینہ اپنا کھول دکھایا تھا
میری قبر پہ اہلِ وطن نے شمعیں بھی جلائی تھیں
میرے افکار و جد و جہد پر محفلیں بھی سجائی تھیں
تقریریں ہوئیں، تحریریں تھیں، کردار پہ ناز کیا
میری قربانی کو سب نے باعثِ اعزاز کیا
اور مَیں اپنی لحد کی تنہائی میں بھی شاداں تھا
مٹی کی حرمت رکھ آنے پر دل سے شکر گزار تھا
رفتہ رفتہ خاک میں ڈھلتا، جسم مرا مٹ جاتا تھا
چند استخواں کے سائے میں اک نام مگر رہ جاتا تھا
اتنے میں اک شورِ قیامت چاروں جانب چھا گیا
چیخوں نے خوابِ شیریں کو پل میں چکنا چور کیا
آنکھ جو کھولی، سامنے وہی تلخ زمانہ تھا
اپنی ہی سرسبز دھرتی پر جبر کا اک فسانہ تھا
کوئی مری ہڈیاں توڑتا، کوئی بدن جلاتا تھا
بارود کی بے رحم آگ میں گوشت مرا سلگاتا تھا
خواب تھا اک آزادی کا… ٹوٹ گیا بیداری میں
مَیں ہی اپنی خاک میں رسوا تھا اپنی ہی بستی میں
اللہ تعالیٰ اُن کی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، اُن کے پس ماندہ گان کو صبر، ہمت و حوصلہ اور ہمیں انصاف، سچائی اور امن کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










