بنوں پورے صوبہ خیبر پختون خوا میں شدید دہشت گردی کا شکار ضلع ہے، جہاں آئے دن دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور ہوتا ہے۔ یہاں کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں یومِ کشمیر کے حوالے سے منعقد ہونے والے پروگرام کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ذکر شدہ تصاویر میں کم سن طلبہ کو عسکری لباس اور اسلحہ کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اس تقریب میں نہ صرف اسکول انتظامیہ، بل کہ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور سول انتظامیہ کے نمایندوں کی شرکت بھی دکھائی گئی، جب کہ پروگرام کی تشہیر ضلعی انتظامیہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کی گئی… گویا یہ بھی ایک ’’کارِ ثواب‘‘ ہو، جس سے یہ پیغام دیا جا رہا ہو کہ دوسرے علاقوں کے بچے بھی اس ’’ماڈل‘‘ سے متاثر ہوکر اسے اپنائیں۔
یوں یہ معاملہ محض ایک سکول ایونٹ نہیں رہا، بل کہ سرکار کی سرپرستی میں بچوں کی ذہنی عسکریت کی عکاسی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام نے بہ جا طور پر سوال اٹھایا کہ: ’’کم سن ذہنوں میں بندوق کا تصور بٹھانا اور بچوں کے ہاتھ میں اسلحہ تھمانا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جو بچے آج جنگ اور نفرت کی تربیت پا رہے ہیں، لامحالہ وہی کل ریاست کے لیے بوجھ اور خطرہ بنیں گے… اور پھر تاریخ کا المیہ یہی ہوگا کہ ریاست اُنھیں خود کچلے گی۔‘‘
یہ محض جذباتی ردِ عمل نہیں، بل کہ ہماری اجتماعی تاریخ کا تلخ نچوڑ ہے۔
ایک اور شہری لکھتا ہے: ’’یہ پروگرام، تعلیم کم اور ذہنی برین واشنگ زیادہ ہے۔ معصوم طلبہ کو سیاسی اور جنگی بیانیے کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔ یہ ایک سنگین اخلاقی جرم ہے۔‘‘
تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد بچوں کو علم، برداشت، تنقیدی شعور اور انسان دوستی سکھانا ہوتا ہے، نہ کہ عسکری بیانیے کا خام مال… بدقسمتی سے یہ وہی راستہ ہے، جس پر چل کر ہم ماضی میں ایک پوری نسل کا ستیاناس کرچکے ہیں اور جس کی قیمت، ہم آج تک چکا رہے ہیں اور مستقبلِ بعید میں بھی چکائیں گے۔
عوام یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ ’’ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ بچوں کے لیے کتاب اور قلم کی مثال دینی چاہیے، نہ کہ عسکری لباس اور اسلحے کی۔ ایسے مواد کو پروموٹ کرنا واقعی افسوس ناک ہے۔‘‘
اصل مسئلہ بندوق اصلی یا نقلی ہونے کا نہیں، بل کہ ذہن سازی کا ہے۔ جب بچپن سے یہ نقش ذہنوں میں بٹھا دیا جائے کہ ہیرو وہی ہےم جو مسلح ہے، تو پھر معاشرے سے انتہا پسندی کے خاتمے کی توقع رکھنا محض خود فریبی ہے۔
ایک تبصرہ نہایت تلخ مگر حقیقت پسندانہ ہے: ’’فکری طور پر جنگ جو نسل تیار کرنے کے بعد اُس سے آئن اسٹائن ہونے کی توقع رکھنا حماقت ہے۔‘‘
یہ عمل صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت نہیں، بل کہ آئینی اور قانونی طور پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ ہمارا آئین بچوں کی مناسب ذہنی نشو و نما کی ضمانت دیتا ہے اور انسانی وقار کو ناقابلِ تنسیخ قرار دیتا ہے۔ اسی طرح اقوامِ متحدہ کا کنونشن برائے حقوقِ اطفال واضح طور پر ریاست کو پابند کرتا ہے کہ بچوں کو تشدد، عسکری ماحول اور جنگی سرگرمیوں سے دور رکھا جائے۔ اس کے باوجود اگر اسکولوں میں اسلحہ اور جنگی علامتوں کا کھلم کھلا استعمال ہو رہا ہےم تو یہ محض غفلت نہیں، بل کہ ایک بیانیے کی خطرناک جھلک ہے۔
ایک اور شہری نے نہایت معنی خیز سوال اٹھایا: ’’بینر پر لکھا ہے ’اقرأ‘… پڑھو۔ ساتھ نعرہ ہے ’ہمیں امن چاہیے!‘ کیا آپ بچوں کو بندوق اور جنگی لباس دے کر امن کا پیغام دے رہے ہیں؟‘‘
یہ تضاد نہیں، فریب ہے۔ عوام صاف الفاظ میں کَہ رہے ہیں: ’’ہم جنگ، نفرت اور دہشت گردی سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہمیں جہاد کے نام پر قتل و غارت نہیں، بل کہ امن، تعلیم، اتحاد اور ترقی چاہیے۔ اصل جہاد اپنے معاشرے کو خوف، جہالت اور انتہا پسندی سے بچانا ہے۔‘‘
یاد رہے کہ ہم کسی ایک اسکول یا ایک تقریب کے خلاف نہیں، بل کہ اُس سوچ کے خلاف ہے جو اسکولوں کو عسکری بیانیے کی نرسری سمجھتی ہے۔
اب فیصلہ ریاست، انتظامیہ، اسکول مالکان اور والدین کو کرنا ہے کہ کیا ہمیں کتاب پڑھنے والے بچے چاہییں یا بندوق تھامنے والے؟ ہمیں امن چاہیے، جنگ نہیں۔
بچوں کو محفوظ اور پُرامن مستقبل چاہیے… بم، بارود اور بندوق نہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










