نرگسیت کا لفظ یونانی افسانے کے ایک کردار ’’نارسس‘‘ (Narcissus) سے ماخوذ ہے۔ نارسس حسن و جمال کا پیکر تھا اور وہ حسن اور خوب صورتی کا ضرب المثل تھا۔ اُس نے جب پہلی مرتبہ صاف و شفاف پانی میں اپنا عکس دیکھا، تو وہ اپنے حسن پر فریفتہ ہوگیا۔ اپنی خوب صورتی کے سحر میں وہ اس طرح گرفتار ہوا کہ دنیا و فیہا سے بے خبر ہوگیا۔ وہ خود پسندی اور خود فریفتگی میں اپنی ہلاکت کی حد تک بڑھ گیا۔
روایت ہے کہ اُس کے مرنے کے بعد اُسی مقام پر ایک نازک و لطیف پھول کھلا، جسے ’’نرگس‘‘ کا نام دیا گیا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ نرگس کا پھول خود پسندی اور خود فریفتگی کا ایک ادبی استعارہ بن گیا۔
نرگسیت ایک نفسیاتی کیفیت یا بیماری ہے، جس میں انسان اپنی ذات کو تمام توجہات کا محور سمجھنے لگتا ہے۔ نرگسیت دراصل خود پسندی، اپنی ذات میں غیر معمولی محبت اور خود پرستی کا نفسیاتی رجحان ہے۔ نرگسیت میں مبتلا شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ وہ ہر قسم کی تعریف، ستایش اور اہمیت کا فطری طور پر حق دار ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر محفل میں اُسے نمایاں مقام ملے۔ ہر گفت گو میں اُس کی شخصیت کا حوالہ ہو اور اُس کی غیر موجودگی میں بھی اُس کی تعریف و توصیف کی جائے۔
ایسے افراد اپنی ظاہری شخصیت، خوبیوں اور ضروریات کو دوسروں پر فوقیت دیتے ہیں۔ ایسے لوگ مسلسل تعریف کے طلب گار رہتے ہیں اور دوسروں کے جذبات یا احساسات کی پروا نہیں کرتے۔
نرگسیت کا شکار شخص خود کو مرکزِ کائنات سمجھتا ہے اور اپنی انا (Ego) کو بہت اہم سمجھتا ہے۔ نفسیاتی ماہرین اسے خود پسندی کا عارضہ سمجھتے ہیں۔
بعض ماہرین کہتے ہیں کہ انسان کا خود اپنے آپ سے پیار کرنا تو فطری جذبہ ہے، مگر جب یہ معاملہ فریفتگی سے ہوتا ہوا محویت اور خود پرستی کی شکل اختیار کرلے اور انسان اپنی ہر ادا پر دل و جاں سے فدا ہونے لگے، تو اس نفسیاتی عارضے کو ’’نرگسیت‘‘ کہا جاتا ہے۔
نرگسیت کی بنیادی تاریخ جتنی گہری ہے، اس کے اثرات بھی اُتنے ہی نمایاں اور وسیع ہیں۔ درباروں میں ’’قصیدہ خوانی‘‘ سے لے کر خانقاہوں میں ’’تحدیثِ نعمت‘‘ تک ہر جگہ انسانی انا کی وہی جھلک دکھائی دیتی ہے، جو کسی نہ کسی صورت اپنی برتری اور فضیلت کی متلاشی رہتی ہے۔
نرگسیت کی کیفیت پہلے صرف خواص تک محدود تھی اور اصحابِ فضل و کمال ہی کبھی کبھار خود فریفتگی میں مبتلا ہوا کرتے تھے، مگر اب یہ معاملہ بہت آگے بڑھ چکا ہے۔
نرگسیت تخت و تاج کے ایوانوں اور بوریا نشین کے حجروں سے نکل کر عام انسانوں کی روزمرہ زندگی میں اس طرح سرایت کرگئی ہے کہ گویا یہ ایک اجتماعی مرض بن چکی ہے۔ پہلے ایک آئینہ تھا، جس میں انسان اپنے آپ کو دیکھتا تھا، لیکن جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور کیمرے کی آنکھ نے انسان کو ایسی خود نمائی میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور الیکٹرانک میڈیا کے ہر سکرین پر دیکھنا چاہتا ہے۔
اب نرگسیت کا یہ پودا ایک تن آور درخت بن کر ہر طرف اپنی شاخیں پھیلاتا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ’’سیلفی‘‘ کا جنون نرگسیت کا ایسا بد نما پہلو ہے کہ ہر کوئی موبائل اُٹھائے سیلفی بنانے کے شوق میں مبتلا نظر آ رہا ہے، تاکہ وہ دوسروں سے نمایاں نظر آئے۔ وہ چاہتا ہے کہ اُس کی تعریف و توصیف کی جائے اور ہر کوئی اُسے پسند کرے۔ وی لاگز، مختصر ویڈیو بنانے اور ٹک ٹاکر کے شوق نے انسان کو کیمروں کا اسیر بنا دیا ہے، جو اپنی ہر حرکت، ہر گفت گو، ہر تقریر، اپنا ہر انداز اور چہرے کا ہر زاویہ ریکارڈ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔
نرگسیت اور خود پسندی کا یہ عارضہ بعض اوقات انسان کو زندگی سے محروم کر دیتا ہے۔
انسانی تاریخ میں نرگسیت کی بد ترین مثال فرعون اور اُس جیسے وہ حکم ران ہیں، جو خود کو نہ صرف ہر طرح کی تعریف و ستایش کا، بل کہ بندگی اور اطاعت کا بھی پورے طور پر مستحق سمجھتے تھے یا اب بھی سمجھ رہے ہیں۔ اُن کے ذہنوں پر اپنی عظمت اور برتری کا ایسا خبط سوار تھا… جو آج بھی ہے۔ کل کا فرعون لوگوں کو سر بہ سجود ہونے کا حکم دیتے تھے۔ آج کے حکم ران بھی کسی نہ کسی طور ایسا چاہتے ہیں۔
نرگسیت زدہ شخصیت جب کسی قوم لو لیڈ کرتی ہے، تو ریاست، سیاست، سماج و معاشرت کو برباد کر دیتی ہے۔ ذہنی مریضوں کا ایک گروہ اُس کے پیچھے چل پڑتا ہے، جو ہر لمحہ اُس کی خود پسندی اور نرگسیت کو ہوا دیتا ہے، جس سے ملک و قوم پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نرگسی لیڈر کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ قوم کی اجتماعی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دے، کیوں کہ ایسے سیاسی راہ نماؤں کے اذہان کسی کے لیے بھی ہم دردی سے خالی ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان کے سیاسی راہ نما نرگسیت اور خود پسندی کے عارضے میں مبتلا ہیں، جس نے ملک و قوم کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اس لیے قومی زندگی کا محفوظ طریقہ یہی ہے کہ لیڈر کا انتخاب عقلی بنیادوں پر کیا جائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










