یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آج سوشل میڈیا (خصوصاً TikTok جیسی تیز رفتار اور وائرل کلچر کو فروغ دینے والی ایپس) خاموشی سے، مگر غیر معمولی تیز رفتاری کے ساتھ ہمارے معاشرے کی ترجیحات کو تبدیل کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض تفریح یا اظہارِ رائے تک محدود نہیں، بل کہ ہماری فکری سمت، اخلاقی اقدار اور کام یابی کے تصورات کو جڑ سے متاثر کر رہی ہے۔ تعلیم، کردار سازی، صبر، محنت اور مسلسل جد و جہد جیسی قدریں پس منظر میں جا رہی ہیں، جب کہ لمحاتی شہرت، وائرل ہونے کی دوڑ اور ’’آسان پیسے‘‘ کے خواب کو کام یابی کا نیا معیار بنا دیا گیا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سوشل میڈیا بہ ذاتِ خود ایک برائی ہے۔ مسئلہ پلیٹ فارم نہیں، بل کہ اس کا استعمال ہے۔ مَیں یہ حقیقت تسلیم کرتا ہوں کہ یورپ اور ترقی یافتہ معاشروں میں بھی سوشل میڈیا کا استعمال عام ہے، مگر فرق نیت، حدود اور نظام کا ہے۔ وہاں یہ پلیٹ فارمز زیادہ تر اظہارِ رائے، تخلیقی صلاحیت، تحقیق، تعلیم اور علم کے تبادلے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ وہاں ریاستی قوانین، سماجی اقدار اور خاندانی تربیت ایک ایسا فریم ورک فراہم کرتے ہیں، جس کے اندر آزادی بھی ہے اور ذمے داری بھی۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں سوشل میڈیا کو اکثر بے مقصد مشغلے، سطحی نمایش اور بدقسمتی سے فحاشی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہاں ’’دیکھا جانا‘‘ اہم ہے، ’’سمجھا جانا‘‘ نہیں۔ یہاں معیارِ کام یابی یہ نہیں کہ آپ نے کیا سیکھا… بل کہ یہ ہے کہ آپ کو کتنے لوگوں نے دیکھا…! یہ فرق محض ثقافتی نہیں، بل کہ تہذیبی اور فکری زوال کی علامت ہے۔
آج کم عمر بچے، جو کتاب، قلم اور اُستاد کے سائے میں پروان چڑھنے چاہییں، کیمرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ اُنھیں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ محنت کا راستہ طویل اور غیر ضروری ہے، جب کہ چند سیکنڈ کی ویڈیو، چند بولڈ حرکات، یا کسی اور کی نقل کرکے وائرل ہونا کام یابی کی کنجی ہے۔ یہ سوچ صرف انفرادی سطح پر نقصان دہ نہیں، بل کہ اجتماعی طور پر ایک ایسی نسل تیار کر رہی ہے، جو فوری داد کی عادی ہے، مگر گہرے علم، مہارت اور کردار سے محروم۔
یہ رجحان ہمیں ایک خطرناک موڑ پر لاکھڑا کرتا ہے۔ جب قوموں کے بچے خواب دیکھنا چھوڑ دیں، محنت سے کترانے لگیں… اور شہرت کو قابلیت پر ترجیح دینے لگیں، تو پھر زوال کسی سازش کا نتیجہ نہیں ہوتا، بل کہ خود پیدا کردہ انجام بن جاتا ہے۔
اس پورے منظر نامے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے فحاشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ اخلاقی حدود تیزی سے ٹوٹ رہی ہیں، حیا کو قدامت پسندی کا طعنہ دیا جا رہا ہے اور وہ اقدار جن پر معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی ہے، آہستہ آہستہ کم زور پڑتی جا رہی ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس عمل میں بعض اوقات خود خاندان، نادانستہ طور پر، شریک ہو جاتے ہیں، جب وہ بچوں کو بلا نگرانی ڈیجیٹل دنیا کے حوالے کر دیتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ اس کے اسباب واضح ہیں: غیر ذمے دارانہ آزادی، کم زور تربیت، اور ریاستی سطح پر مؤثر پالیسیوں کی عدم موجودگی۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس کے خلاف کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم محض تنقید کرکے خود کو بری الذمہ سمجھ رہے ہیں، یا واقعی اس فکری یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟
میری نظر میں اس مسئلے کا حل محض پابندی یا سخت تنقید میں نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب تک شعور بیدار نہ ہو، پابندیاں عارضی ثابت ہوتی ہیں۔ اصل حل اجتماعی شعور کی بیداری میں ہے۔
اوّل، والدین کو اپنی ذمے داری کا ازسرِنو احساس کرنا ہوگا۔ بچوں کے ہاتھ میں موبائل دینا آسان ہے، مگر اُن کے ذہن اور کردار کی حفاظت محنت، وقت اور توجہ مانگتی ہے۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈیجیٹل آزادی بغیر راہ نمائی کے، آزادی نہیں، بل کہ غفلت ہے۔ بچوں کے ساتھ مکالمہ، نگرانی اور مثال بننا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
دوم، تعلیمی اداروں کو محض نصاب پڑھانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ آج کے دور میں ڈیجیٹل اخلاقیات، میڈیا لٹریسی اور ذمے دارانہ آن لائن رویّے کی تعلیم اُتنی ہی ضروری ہے، جتنی ریاضی یا سائنس۔ بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا کو کیسے استعمال کرنا ہے… اور یہ کہ ہر وائرل چیز قابلِ تقلید نہیں ہوتی۔
سوم، ریاست اور پالیسی سازوں کو واضح اور مؤثر حدود متعین کرنا ہوں گی۔ بچوں کے استحصال، فحاشی کے فروغ اور غیر اخلاقی مواد کے خلاف قوانین موجود ہیں، مگر اُن پر عمل درآمد کم زور ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ سنجیدہ ریگولیٹری مکالمہ اور قومی اقدار کے مطابق پالیسیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ہمیں بہ حیثیتِ قوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کا مستقبل چاہتے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں، جو کیمرے کے سامنے تو پراعتماد ہو، مگر زندگی کے امتحان میں ناکام… یا ہم ایک ایسی نسل کی تعمیر چاہتے ہیں جو شعور، اخلاق اور قابلیت کے ساتھ دنیا کا سامنا کرے؟
سوشل میڈیا ہماری تقدیر نہیں، ایک ذریعہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اسے اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں، یا یہ ہمیں اپنے مکمل قبضے میں لیتا ہے؟ اگر ہم نے آج اس سوال کا سنجیدگی سے جواب نہ دیا، تو کل ہمارے پاس شکوے تو ہوں گے، مگر اصلاح کا وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










