’’پھر وہی شام ہے اور ’یارانِ شام‘ اکھٹے ہوئے ہیں۔‘‘
فیاض ظفر کے کہے ہوئے یہ الفاظ ایک ٹرینڈ، بل کہ برانڈ بن گئے ہیں، مگر شاید بہت سارے لوگوں کو اس شام میں پکا ہوا کھانا اور سنائی جانے والی موسیقی کے سوا کچھ نام ہی پتا ہوں گے، جو اس شام کا حصہ ہوتے ہیں، مگر اس میں شامل افراد کے صحیح معنوں میں تعارف سے شاید ناواقف ہوں… تو چلیں، آج ذکر شدہ مخصوص شام، جو ہر ہفتے کو مغرب کے وقت شروع ہوتی ہے، کے لیے خصوصی طور پر جمع ہونے والے کچھ لوگوں کا تعارف ہو جائے۔
اس شام میں فیاض ظفر، ایڈوکیٹ عطاء اللہ جانؔ، پروفیسر عطاء الرحمن عطاؔ، پروفیسر بابر اعظم (احساس یوسف زئی)، پروفیسر امجد، فضل خالق، کامریڈ امجد علی سحابؔ، بابر علی، شہاب شاہین، ڈائریکٹر ریٹائرڈ ظہور احمد صاحب، اسحاق کریم، سعد، پرویز عالم پاپا، انور انجم اور راقم (کامریڈ ساجد امان)۔ یہ وہ نام ہیں، جو خاص طور پر اسی شام کے لیے آتے ہیں۔
سب سے پہلے آتے ہیں اس محفل کی جان فیاض ظفر کی طرف، جن کو ایک عالم جانتا ہے۔ سیدوشریف میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی میں صحافت اور صحافیوں سے متاثر ہوئے اور پھر اس کو پیشے کے طور پر اپنالیا۔ مقامی اخبارات کے علاوہ صوبائی اور قومی اخبارات میں بھی خدمات انجام دیں۔ اپنے شہر کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی پیشہ ورانہ فرائض کی ادائی کے لیے قیام کیا۔ بین الاقوامی امریکی ادارے ’’وائس آف امریکہ‘‘ کے ملاکنڈ ڈویژن کے لیے نمایندے کے طور پر فرائض انجام دیتے آئے ہیں۔ کئی اخبارات میں لکھا۔ ویب سائٹ پر بلاگز کے علاوہ اپنا پلیٹ فارم ’’باخبر سوات ڈاٹ کام‘‘ اور سوشل میڈیا اکاونٹس بھی رکھتے ہیں۔
فیاض ظفر کے سماجی اور قومی خدمات پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ناچیز (کامریڈ ساجد امان) نے بھی ’’ون مین آرمی‘‘ کے نام سے کئی سال پہلے ان پر ایک چھوٹی سی تحریر، جسے لفظونہ ڈاٹ کام کے مدیر بلاگ گردانتے ہیں، لکھی تھی۔ مذکورہ تحریر لفظونہ ڈاٹ کام کے ساتھ ساتھ مقامی اخبارات میں بھی چھپ چکی ہے۔
اس شام کی چھت جن ستونوں پر کھڑی ہے، ان میں سے ایک مضبوط ستون ایڈوکیٹ عطاء اللہ جانؔ ہیں… جو ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ ماہر وکیل ہونے کے علاوہ جانؔ پشتو ادب کے منجھے ہوئے نقاد اور کہنہ مشق شاعر ہیں۔ یہ جانؔ کی خوبی ہے کہ وہ کوئی بھی پشتو شعر سنتے ہیں، تو فوراً شاعر کا نام بتا دیتے ہیں۔ اولسی پاسون تحریک کے اکابرین میں شمار ہوتے ہیں۔ نیز منظور پشتین کے ’’پختون تحفظ موومنٹ‘‘ کے تھنک ٹینک کا حصہ ہونے کے ساتھ اُن کے قانون مشیر بھی ہیں۔
جانؔ کی شخصیت، خدمات اور خاندانی پس منظر پر ایک مضمون ’’عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ‘‘ بھی ناچیز تاریخی صفحات میں محفوظ کرچکا ہے، جو لفظونہ ڈاٹ کام کے علاوہ مقامی اخبارات کی زینت بن چکا ہے۔
اب باری آتی ہے ڈاکٹر عطاء الرحمان عطاؔ کی، جن کی خدمات کو اگر سراہا نہیں گیا، تو یہ پختون تہذیب، ادب اور شعبۂ درس و تدریس کی بے ادبی ہوگی۔ ڈاکٹر عطاؔ خود ایک اچھے شاعر ہیں، مگر اس سے بڑھ کر جہانزیب کالج میں پختو ڈیپارٹمنٹ کی از سر نو تشکیل، اسے توانا بنانے اور اس کے اثرات نئی نسل کے خون میں دوڑانے میں ڈاکٹر عطاؔ کا بڑا ہاتھ ہے۔ مصنف، شاعر، ڈراما نگار اور سب سے بڑھ کر استاد کے طور پر ڈاکٹر عطاؔ کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ اُن کے روشن کیے ہوئے دیے سے کئی دیے روشن ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ تا دمِ تحریر جاری ہے۔ ڈاکٹر عطا کا مذکورہ عمل سوات میں پشتو ادب کی تحقیق، ترویج اور فروغ میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
پروفیسر احساس یوسف زئی، جن کا اصل نام بابر اعظم ہے، کے بارے میں، مَیں نے جو کچھ سوشل میڈیا پر لکھا تھا، وہی نقل کرنے جا رہا ہوں:
احساس یوسف زئی کے ساتھ پیدایشی غلطی یہ ہوئی ہے کہ اس نفیس انسان کا نام ’’بابر اعظم‘‘ رکھ دیا گیا۔ بابر دراصل وحشی مغل خاندان کا ایک نشئی چشم و چراغ تھا، جس کو تاریخ نے کبھی عظیم نہیں کہا… مگر احساس یوسف زئی کے ساتھ استحصال نام رکھنے کے عمل ہی سے شروع ہوا۔
جب احساس، احساس کی حدوں تک پہنچا، تو سب سے پہلا کام حاصل شدہ نام کو بدلنے کا کیا، یوں اب بابر اعظم احساس یوسف زئی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ڈاکٹر احساس یوسف زئی کے ساتھ دوسرا ظلم یہ ہوا کہ یہ ایک ادبی انسان تھا، ادب کو پروان چڑھانے کے لیے پیدا ہوا تھا، اس سوختہ نصیب کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم دی گئی۔ احساس لائق و فائق تو تھا ہی، اپنے منتخب شدہ مضمون طبیعیات (فزکس) میں پی ایچ ڈی کرکے ہی دم لیا۔ اب روغانی کی شاعری کو طبیعیاتی انداز سے پرکھ کر ہم جیسوں کو خیالوں میں گھورنے پر مجبور کرتے ہیں۔ نتیجتاً ایک دوہری قسم کی عجیب سی زندگی کا انتخاب کیے ہوئے ہیں… ایک ڈاکٹر بابر اعظم، جدیدیت کے علم بردار استاد اور دوسری احساس یوسف زئی، ایک حساس، شرمیلی، مہذب اور شائستہ روح والی زندگی۔ اب احساس دونوں زندگیوں کو ایک دوسرے سے فاصلے پر رکھ کام یابی سے چلانے میں منہمک ہیں۔
عموماً سائنس جیسے خشک اور بور مضامین کے نام لیوا ادب یا شاعری کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے… مگر احساس کو اس حوالے سے استثنا حاصل ہے۔ بہترین حسِ مزاح، ادب شناسی، ماحول میں رنگنا، زبردست حافظہ، منفرد اندازِ بیان، بہترین انتخاب اور رویے کی شایستگی، احساس کو خود سے محبت یا رشک پر اُکساتی ہے۔ وقت اُس کے ساتھ ٹھہر کر رہ جاتا ہے۔ لمحات ساکن ہوجاتے ہیں۔
مَیں بہت قریب سے دیکھتا ہوں اور ہر دفعہ وقت اور موقعے کی کمی کو قسمت کے نام کرکے اپنی کم نصیبی کی فہرست میں چند سطور کا اضافہ کردیتا ہوں۔ یقیناً ایک بڑے ذہن، بڑی شخصیت اور وسیع القلب شخص کے ساتھ طے شدہ وقت اگر کوئی غیر سنجیدہ فرد غارت کرے، تو دکھی ہونا فطری عمل ہے۔
اب ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر امجد کی طرف آتے ہیں۔ پروفیسر صاحب بھی زندگی کو بہت قریب سے دیکھنے کے عادی افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ وہ بیماری کی حد تک حساس انسان ہیں، مگر اس کو ہمیشہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انگریزی ادب سے اُن کا تعلق عشق کی حد تک ہے۔ اچھا بولنے والے اور بہترین سننے والے ہیں۔
پروفیسر امجد کو صحیح معنوں میں سیلف میڈ انسان کہا جاسکتا ہے۔ خود بچوں کی طرح پڑھ پڑھ کر ادب کے اُستاد کی حثیت تک پہنچنا ایک ایسا اعزاز ہے کہ اب پروفیسر صاحب کی موجودگی ماحول کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔
اس شام کی چھت کا ایک اور مضبوط ستون فضل خالق صاحب ہیں، جن کے تعارف کے لیے کئی حوالے ہیں۔ وہ پاکستان کے موقر انگریزی اخبار ’’ڈان‘‘ کے نمایندے ہیں، جس کو بیوروکریسی اور سنجیدہ حلقے سنجیدگی سے پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ فضل استاد ہیں، جہاں وہ انگریزی، سائنس اور جدید سائنسی علوم (روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت) پڑھاتے ہیں۔ آرکیالوجی اور آرکیالوجی میں اورینٹل آرکیالوجی اور اُس میں ساؤتھ ایشین تہذیبیں، وادیِ سندھ کی تہذیب اور گندھارا تہذیب پر اچھا مطالعہ رکھتے ہیں۔ اسی موضوع پر فضل کی ایک کتاب بھی شائع ہوچکی ہے جس کو ملک اور بیرونِ ملک ریفرنس بک کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔
ان کاموں کے علاوہ فضل باقاعدہ ایک ٹریکنگ کلب (اُدھیانہ ٹریکنگ کلب) کے بانی ممبران میں سے ہیں۔ بین الاقوامی ٹیموں کے ساتھ الفائن زونز میں ہاکنگ اور ٹریکنگ کرتے ہیں۔ سب سے اہم حوالہ، فضل بہت جلد اپنی پی ایچ ڈی کی تیاری شروع کرنے والے ہیں۔
کامریڈ امجد علی سحابؔ… ایک سچے مینگروال ہونے کے علاوہ اردو زبان و ادب سے شغف رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُردو بہ طور مضمون پڑھاتے ہیں۔ سوات کے ایک موقر نجی ادارے (ایس پی ایس کالج) میں تدریسی خدمات انجام دینے کے علاوہ قومی نشریاتی اداروں (ڈان اُردو سروس، وی نیوز) کے ساتھ فری لانس جرنلسٹ کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن کے لیڈنگ اخبار (روزنامہ آزادی سوات/ اسلام آباد) میں 17 سال ادارتی خدمات انجام دینے کے بعد حالیہ مستعفی ہوکر اب لفظونہ ڈاٹ کام کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔
بہ حیثیت لکھاری سحابؔ کی شخصیت اور نظریات جھلکتے تو ہیں ہی، مگر وہ چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ وہ ایک مہلک بیماری ’’احساس‘‘ کا شدید شکار ہے، جس سے اس کی کوالٹی آف لائف ہمیشہ متاثر رہتی ہے۔ اُردو میں ماسٹرز سطح کی علمی قابلیت رکھنے والا سحابؔ طبقاتی جد و جہد کا حامی اور طبقاتی تقسیم کا سخت ناقد ہے۔
اب آتے ہیں بابر علی (ایم فل سکالر) سافٹ ویئر کی دنیا میں اعلا قابلیت رکھتے ہیں۔ اپنی قابلیت، اہلیت اور صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کاروبار بھی کرتے ہیں، ضلعی کچہری بھی خدمات بھی انجام دیتے ہیں… مگر جب اس کے ہاتھ میں رباب آ جائے، تو غنی خان کے بہ قول
رباب سہ دے مڑ گڈورے
یعنی رباب کیا ہے مردہ بھیڑ کا بچہ، مگر جب یہ ماہر کے ہاتھ آتا ہے،تو کائنات کی تفسیر کرتا ہے۔
اس ٹیم کے کم عمر کھلاڑیوں میں سے ایک شہاب شاہین توروالی ہے، جس نے ملک کے اعلا اداروں سے ماس کمیونی کیشن، ٹھیٹر، فلمنگ اینڈ آرٹ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور اب ایم فل جاری ہے۔ فوک، پوپ، کلاسیکی، نیم کلاسیکی، مشرقی اور مغربی موسیقی پر کا بلینڈ پیش کیا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ موسیقی کے جدید اور قدیم آلات کا علم بھی رکھتا ہے۔ شاعری اور ادب سے شغف کی وجہ سے ان کا ہنر احمد فراز کے اس مصرعے
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
کے مصداق دو آتشہ ہوجاتا ہے۔
پاسپورٹ محکمہ سوات کے سابق ڈائریکٹر ظہور احمد صاحب کا تجربہ اور قلم کی کاٹ مل کر پوری ٹیم کی مسیحائی کرتی ہے۔ ان کے پاس وسیع النظری، مطالعہ اور مشاہدہ ایسے ہتھیار ہیں، جو اس محفل میں شاید ہی کسی اور کے ساتھ ہوں۔ اپنی سماجی حیثیت اور خدمات، ادبی دل چسپی اور لکھنے کی طاقت ڈائریکٹر صاحب کو روشن دیے کی طرح نمایاں رکھتی ہے۔ ان کی موجودگی محفل کو جلا بخشنے کے لیے کافی شافی ہوتی ہے۔
ٹیم کے ایک اور چھوٹے کھلاڑی اشراق کریم کو اگر ہم پروفیسر احساس یوسف زئی کا ’’ساشے پیک‘‘ کہیں، تو بے جا نہ ہوگا… مگر اشراق میں اس کے والدین (خاص کر والد پروفیسر فضل کریم) کی تربیت اس کی کم عمری کو چھپا کر اُسے ایک دانش ور بنا دیتی ہے۔
اشراق کو بہترین شاعری ازبر ہے۔ احساس یوسف زئی کی طرح موقع محل کے مطابق شعر کہنا اشراق کا طرۂ امتیاز ہے۔ علم و دانش کی محافل میں شرکت اس کی تشنگی کو اور بڑھاوا دیتی ہے۔ مَیں مستقبل میں اُسے ایک کام یاب وکیل کی صورت میں دیکھتا ہوں گو کہ اس پر کبھی اشراق کے ساتھ گفت گو نہیں ہوئی۔
سعد نوجوان لیڈر، سوشل میڈیا اینفلوئنسر، ایک مغنی، مستقبل کا کاروباری ٹائیکون اور ایک مہذب انسان ہے۔ بہ قول شاعر
غم مجھے، حسرت مجھے، وحشت مجھے، سودا مجھے
ایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے
سعد سماجی خدمات میں پیش پیش ہوتا ہے۔ نوجوانوں کی ایک باقاعدہ تنظیم قائم کی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ نئی نسل میں اعتدال پسندی، تہذیب و ثقافت سے آشنائی پر کام کرتے ہیں۔ سعد پوسٹ گریجویٹ ہیں اور باقی جو جو کچھ ہیں، وہ محولہ بالا شعر میں بیان ہوچکا۔
’’نن بیا ھغہ ماخام دے‘‘ میں ایک کردار پرویز عالم پاپا کا بھی ہے۔ وہ روزنامہ ہم عوام کے چیف ایڈیٹر ہیں اور سوشل میڈیا پر وی لاگ کے ذریعے مختلف مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں۔
انور انجم بھی اس ٹیم کا حصہ ہے۔ آج ٹی وی کا نمایندہ ہے اور ’’انجم نامہ‘‘ کے نام سے پوڈ کاسٹ میں حالات حاضرہ پر کڑی نظر رکھتا ہے۔
’’بیا ھغہ ماخام دے‘‘ میں کیمرہ بند ہوتے ہی جو ماحول ہوتا ہے، وہ ایسے لوگوں کا گل دستہ ہوتا ہے، جس کا اثر ایک ہفتہ تو برقرار رہتا ہی ہے۔ یہ ایک ایسا اجتماع ہوتا ہے، جہاں سنجیدگی اور تازگی کی آمیزش ہوتی ہے۔ یہاں گفت گو سطحی نہیں ہوتی، بل کہ ہر کہی ہوئی بات کے پیچھے قابلیت اور دلائل ہوتے ہیں اور ان باتوں پر تنقید کے لیے منطق اور فلسفہ ہوتا ہے۔
قارئین! ایک دور تھا کہ مینگورہ شہر میں امین لائبریری تھی، سوات کلب (نزد سکواش کورٹ سیدو شریف) تھا، پاکستان نیشنل سنٹر تھا، شعیب سنز (اب بھی قائم ہے) اور دیگر کئی مقامات تھے، جہاں موقع فراہم ہوتا تھا کہ اظہارِ خیال پر قدغن نہ ہو، جو جس کے جی میں آئے، بلا جھجھک کہے… مگر اب پچھلے چند سالوں سے واحد جگہ فیاض ظفر کا دفتر ہے… جہاں ادب، ثقافت، تہذیب، نظریہ اور فلسفہ پر آزادنہ تبادلۂ خیال کیا جاتا ہے۔ نہ صرف کہا جاتا ہے، بل کہ سنا بھی جاتا ہے اور تنقید بھی ہوتی ہے۔
مینگروال تہذیب کی علامت کے طور پر فیاض ظفر کا دفتر ایک عرصے سے قائم ہے اور اس پر بہ جا طور پر فخر بھی کیا جاسکتا ہے۔ پاک ٹی ہاؤس کے علامت کے طور پر ایک گوشہ شعیب سنز تھا، مگر فضل ربی راہیؔ صاحب کے سات سمندر پار جانے کے بعد اب صاحبِ قلم، صاحبِ علم اور ادب کا سر فخر سے بلند رکھنے والوں کے لیے گوشۂ عافیت فیاض ظفر کا دفتر ہی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










