ایپسٹین فائلز (The Epstein files) کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں۔ یہ طاقت، دولت اور ریاستی نظام کے درمیان ایسے روابط کی داستان ہے، جنھیں برسوں تک پردۂ راز میں رکھا گیا۔ سب سے پہلا سوال یہی ہے: ’’جیفری ایپسٹین آخر تھا کون… اور وہ اس قدر طاقت ور کیسے بنا؟
جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک اسکول ٹیچر کے طور پر کیا… لیکن چند ہی برسوں میں وہ امریکی مالیاتی دنیا کے مرکز، وال اسٹریٹ، تک جا پہنچا۔ اُس کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ اُس وقت آیا، جب اُس کا تعلق ارب پتی امریکی سرمایہ کار ’’لیسلی ویزنر‘‘ (Leslie Herbert Wexner) سے قائم ہوا۔ ویزنر نے ایپسٹین کو اپنی دولت اور مالی معاملات سنبھالنے کے غیر معمولی اختیارات دیے۔
تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، یہی وہ مرحلہ تھا، جہاں سے ایپسٹین کے مالی اور سماجی اثر و رسوخ کی بنیاد پڑی۔ تاہم کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کی اصل طاقت دولت نہیں، بل کہ ’’حساس معلومات‘‘ تھیں۔ وہ بااثر افراد کو غیر قانونی اور اخلاقی طور پر قابلِ اعتراض سرگرمیوں میں ملوث کرتا… اور ان سرگرمیوں کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے اُنھیں اپنے اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرتا تھا۔
ایپسٹین کے روابط سیاست، کاروبار اور شاہی خاندانوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ 2002 عیسوی میں امریکی بزنس میگزین ’’نیویارک میگزین‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا: ’’مَیں جیفری کو 15 سال سے جانتا ہوں۔ وہ دل چسپ شخصیت ہے… اور خوب صورت عورتوں کو پسند کرتا ہے، جن میں اکثر کم عمر ہوتی ہیں۔‘‘
یہ بیان بعد میں سیاسی تنازع کا حصہ بن گیا۔ اگرچہ ٹرمپ نے بعد میں دعوا کیا کہ اس کا ایپسٹین سے تعلق ختم ہوچکا تھا… لیکن دست یاب شواہد کے مطابق دونوں کئی نجی تقریبات میں شریک رہے۔
ایپسٹین کے نجی طیارے کو میڈیا نے ’’لولیتا ایکسپریس‘‘ کا نام دیا۔ اس طیارے کے لاگ بکس میں دنیا کے بااثر افراد کے نام درج ہیں، جو ایپسٹین کے نجی جزیرے ’’لٹل سینٹ جیمز‘‘ کا سفر کرتے رہے۔ تحقیقاتی صحافت کے مطابق، یہ جزیرہ ایپسٹین کے نیٹ ورک کا مرکزی مرکز تھا، جہاں کم عمر لڑکیوں کے استحصال کے الزامات سامنے آئے۔
اس پورے نیٹ ورک میں ’’غیسلین میکسویل‘‘ (Ghislaine Maxwell) کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالتی دستاویزات اور متاثرہ لڑکیوں کے بیانات کے مطابق، وہ کم عمر لڑکیوں کو تلاشتی، اُنھیں مختلف بہانوں سے ایپسٹین کے قریب لاتی اور اُن کے استحصال کے عمل میں سہولت کاری کرتی تھی۔ اہم گواہ ورجینیا جوفرے کے مطابق، غیسلین ہی نے اُسے کم عمری میں ایپسٹین کے حوالے کیا اور اُسے شہزادہ اینڈریو کے ساتھ تعلق پر مجبور کیا۔
2020 عیسوی میں غیسلین میکسویل کو گرفتار کیا گیا۔ 2021 عیسوی میں امریکی عدالت نے اُسے ’’سیکس ٹریفکنگ‘‘ سمیت سنگین جرائم میں مجرم قرار دے کر 20 سال قید کی سزا سنائی۔
2008 عیسوی میں جب ایپسٹین پر درجنوں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزامات تھے، تو امریکی پراسیکیوٹر ’’الیگزینڈر اکوسٹا‘‘ (Alexander Acosta) نے اُس کے ساتھ ایک غیر معمولی نرم معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ایپسٹین کو عمر قید کے بہ جائے صرف 13 ماہ کی سزا ملی… اور وہ بھی اس سہولت کے ساتھ کہ دن میں جیل سے باہر جاسکتا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ امریکی عدالتی تاریخ کی متنازع ترین ڈیلز میں سے ایک تھی۔ بعد ازاں یہی اکوسٹا، ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں وزیرِ محنت بنا، جس پر شدید تنقید ہوئی اور 2019 عیسوی میں اسے استعفا دینا پڑا۔
اس کیس کا پہلا باضابطہ سراغ 2005 عیسوی میں ملا، جب فلوریڈا پولیس کو ایک 14 سالہ لڑکی کی شکایت موصول ہوئی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایپسٹین کم عمر لڑکیوں کو اپنے گھر بلا کر جنسی استحصال کرتا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا، جہاں سے ایک عالمی اسکینڈل کی بنیاد پڑی۔ پھر کئی برسوں کی خاموشی کے بعد، 2019 عیسوی میں امریکی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹنگ نے اس کیس کو دوبارہ زندہ کیا۔ اسی سال ایپسٹین کو سیکس ٹریفکنگ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا، لیکن اگست 2019 عیسوی میں وہ جیل میں مردہ پایا گیا۔ حکام نے اسے خودکشی قرار دیا، تاہم اس واقعے پر آج بھی سوالات موجود ہیں۔
2024 عیسوی کے آغاز میں عدالت کے حکم پر ہزاروں صفحات پر مشتمل عدالتی دستاویزات منظرِ عام پر آئیں۔ ان دستاویزات نے طاقت ور افراد کے نام، روابط اور خفیہ تعلقات کو ایک بار پھر عالمی بحث کا مرکز بنا دیا۔
ایپسٹین کیس کسی ایک مجرم کی داستان نہیں، بل کہ یہ عالمی طاقت کے ڈھانچے، نظامِ انصاف کی کم زوریوں اور طاقت ور طبقے کے تحفظ کی کہانی ہے۔ یہ سوال آج بھی باقی ہے: ’’اگر ایپسٹین نہ مرتا، تو کتنے نام بے نقاب ہوتے…؟‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










