کبھی کبھی یہ فکر بہت پریشان کرتی ہے کہ آخر کیوں ہمارے معاشرے میں عورت کو ایک "Object” کے طور پر دیکھا جاتا ہے؟ لیکن اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ معاشرہ تو عورت کو ایک آبجیکٹ تصور کرتا ہی ہے، عورت خود کو بھی آبجیکٹ ہی سمجھنے لگتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایک مسلم معاشرہ ہونے کے باوجود ہماری نظر عورت پر ایک شے کی مانند ہے… اور ظاہر ہے کہ جب معاشرتی رویہ بار بار دہرایا جاتا ہے، تو وہ صرف باہر سے مسلط نہیں رہتا، بل کہ نفسیاتی طور پر عورت کے ذہن پر سوار ہو جاتا ہے۔
اسی وجہ سے عورت اپنی اصل شناخت اور صلاحیت کو پسِ پشت ڈال کر خود کو معاشرے کی نظر سے دیکھنے لگتی ہے اور محض ایک آبجیکٹ کے طور پر معاشرے کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہمارے اس معاشرتی رویے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن میرے نزدیک سب سے بڑی وجہ ’’سوشل میڈیا‘‘ ہے، جس میں عورت کو "Objectify” کیا جاتا ہے۔
"Fake Beauty Standards” کی وجہ سے بہت غلط تاثر قائم ہوتا ہے۔ ایک 18 سال کی لڑکی جب انسٹا گرام پر ’’سیلیبرٹیز‘‘ (Celebrities) کو دیکھتی ہے، تو خود کو کم تر محسوس کرتی ہے۔
اس حوالے سے ایک تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی کہ کالج کی 1200 میں سے 957 لڑکیاں اپنی شکل و صورت سے مطمئن نہیں تھیں۔
فلموں اور ڈراموں میں بھی عورت کو اس طرح دکھایا جاتا ہے کہ وہ زندگی میں صرف رنگ و روغن کو لے کر پریشان رہے۔ کیوں کہ ان ڈراموں اور فلموں میں عورت کو ایک آلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح مرد حضرات اپنی شریکِ حیات کے فگر کا موازنہ فلموں میں دکھائے گئے ماڈلوں سے کرتے ہیں… اور یہی چیز جب بار بار ذہن پر سوار ہوتی ہے، تو آہستہ آہستہ معمول بن کر معاشرتی روایت کا حصہ بن جاتی ہے۔ یوں مرد حضرات کی زندگی کا مقصد یہی رہ جاتا ہے کہ اُنھیں ہر زاویے سے ایک مکمل عورت ملے اور لڑکی کا زندگی میں سب سے بڑا مقصد یہ بن جاتا ہے کہ اس کا روپ نکھرا رہے اور کپڑے مہنگے ہوں۔
اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، معاشرے کی آدھی سے زیادہ آبادی کا ملک و قوم کی ترقی میں کوئی کردار نہیں۔ شاید ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ عورت کی کیا خدمات ہوسکتی ہیں؟ کیوں کہ ہم نے اُسے کبھی حقیقی خدمت کا موقع ہی نہیں دیا۔ معاشرہ انہیں ’’کنٹری بیوٹر‘‘ (Contributor) سمجھتا ہی نہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواتین نے بھی خود کو ایک ’’شو پیس‘‘ کے طور پر مان لیا۔ اسی لیے وہ آج کل کچھ تعمیری کام کرنے کے بہ جائے ایک بہترین آلہ شو پیس بننے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں، جو کہ غلط ہے۔
تاریخ میں چین کے ایک کلچر کی مثال دی جاسکتی ہےم جسے "Foot Binding” کہا جاتا تھا۔ مذکورہ کلچر میں لڑکیوں کے پاؤں چھوٹے کیے جاتے تھے، تاکہ وہ خوب صورت دِ کھیں۔ مقصد انھیں ایک ’’ڈیکوریشن پیس‘‘ بنانا تھا۔ اس وجہ سے ایسی خواتین پھر چلنے پھرنے سے عاجز ہوگئیں۔ یوں چین معاشرے کی آدھی آبادی کو معذور بناگیا۔ بعد میں اس کلچر کا خاتمہ ہوا۔
اپنے ملک کے اندر سب سے پہلے ہمیں عورت کو انسان کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ اس کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا۔ اس کے جذبات کی قدر کرنا ہوگی اور اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ دوسری طرف عورت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیت کو منوائے، معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے قابل اور باصلاحیت فرد بننے کی کوشش کرے۔ تب کہیں جاکر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں آئے گا۔
جاتے جاتے یہی کہوں گا کہ لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کی جعلی دنیا کے معیار پر یقین نہ کرے۔ اُنھیں چاہیے کہ وہ عقل و فہم سے کام لیں اور خود سوچیں کہ دنیا میں آنے کا مقصد ’’شو پیس‘‘ بننا نہیں، بل کہ کچھ تعمیری کام کرنا ہے۔ اُنھیں سوچنا چاہیے کہ ایک عورت کا جو کردار ہونا چاہیے کیا آج وہ صحیح معنوں میں ادا کر رہی ہے، نہیں…؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










