بسنت… تفریح یا ریاستی بے حسی؟

Blogger Suhail Sohrab

آج مریم نواز کی جانب سے بسنت منانے کی اجازت کی خبر سامنے آئی، تو اچانک ماضی کے وہ الفاظ یاد آگئے، جو سید عدنان کاکا خیل نے ایک نہایت حساس موقع پر اُس وقت کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے سامنے کہے تھے۔ مذکورہ الفاظ محض ایک تقریر نہیں تھے، بل کہ ریاست اور عوام کے درمیان موجود اُس خلیج کی عکاسی تھے، جو آج بھی پوری شدت سے محسوس کی جاسکتی ہے۔
سید عدنان کاکا خیل نے کہا تھا: ’’بسنت منانے سے بہ ذاتِ خود کوئی قباحت پیدا نہیں ہوتی۔ اسلام تفریح سے ہرگز منع نہیں کرتا، بل کہ صحت مند تفریح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے… مگر خدارا! غریبوں اور لاچاروں کی آرزوؤں کے مزار پر دھما چوکڑی نہ مچائی جائے۔
جب ایک غریب یہ دیکھتا ہے کہ اس کے پیٹ میں روٹی نہیں اور اس کا صدر پتنگ بازی کر رہا ہے، تو وہ یوں محسوس کرتا ہے، جیسے ریاست اور عوام کے درمیان ایک گہرا خلا موجود ہے۔ غریب یہ سمجھتا ہے کہ شاید حکم رانوں کو اس کے احساسات سے کوئی سروکار ہی نہیں۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسے ایک گھر میں میت پڑی ہو اور برابر والے گھر میں ڈھول بج رہے ہوں، اور یہ پیغام دیا جا رہا ہو کہ میں آزاد ہوں، غم تو تمھارا ہے، میرا نہیں۔ ایسی صورت میں کوئی بھی معاشرہ، کوئی بھی مذہب اس عمل کی اجازت نہیں دیتا۔ ہر مذہب یہی کہتا ہے کہ غم زدہ کے دکھ کو محسوس کرو، اس کے آنسو پونچھو اور اُسے سینے سے لگاؤ۔‘‘
افسوس کہ آج برسوں بعد بھی حالات میں کوئی بنیادی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، بے روزگاری نوجوانوں کے مستقبل کو نگل رہی ہے اور بدامنی نے عام آدمی کا سکون چھین لیا ہے۔ لوگ ایک وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں، گھروں کے چولھے ٹھنڈے پڑے ہیں اور امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔
ایسے میں جب ریاستی سطح پر خوشیوں کے تہوار منانے کے فیصلے کیے جاتے ہیں، تو سوال خود بہ خود جنم لیتا ہے کہ کیا یہ فیصلے زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہیں؟ کیا خوشی کا اعلان اُس ماں کے زخموں پر نمک چھڑکنا نہیں، جو بچوں کو بہلا کر سلا دیتی ہے، کیوں کہ دینے کو اُس کے پاس کچھ نہیں ہوتا؟
تفریح بہ ذاتِ خود کوئی جرم نہیں، ثقافت اور خوشی کسی بھی معاشرے کی روح ہوتی ہے… مگر اصل امتحان یہ ہے کہ خوشیاں سب کی ہوں، صرف طاقت ور طبقے کی نہیں۔ جب تک ریاست اپنے کم زور شہری کے دکھ کو اپنا دکھ نہیں بنائے گی، تب تک پتنگیں آسمان پر ہوں گی، مگر دل زمین پر بوجھ تلے دبے رہیں گے۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم بسنت منانے سے پہلے انسان بننے کا ہنر سیکھیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے