ہمارا سماج آج جس کیفیت سے گزر رہا ہے، اُسے بیان کرنے کے لیے شاید کسی فلسفیانہ اصطلاح کی ضرورت نہیں۔ ایک سادہ سا طنزیہ جملہ ہی کافی ہے:’’سماج کا مساج ضروری ہے…!‘‘
یعنی معاشرے کی رگوں میں جو بےحسی جم چکی ہے، اُسے جھنجھوڑنا لازم ہے۔ جیسے جسم میں درد ہو، تو مساج کیا جاتا ہے، تاکہ خون کی گردش بہ حال ہو، ویسے ہی جب سماج میں ظلم، ناانصافی، کرپشن اور محرومی کی گردش رُک جائے، تو پھر احتجاج کی حرارت ضروری ہو جاتی ہے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا سماج بیمار ہے، اور بیماری بھی معمولی نہیں۔ یہ وہ بیماریاں ہیں, جو قوموں کو اندر سے کھا جاتی ہیں۔ انصاف کم زور ہو، تعلیم بےاثر ہو، قانون طاقت ور کے سامنے خاموش ہو… اور نوجوان مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبتے جائیں، تو پھر سماج کا مساج نہیں، جھٹکا ضروری ہو جاتا ہے۔ اسی لیے: ’’مساج کے لیے احتجاج ضروری ہے۔‘‘
احتجاج دراصل عوام کی آخری آواز ہے۔ یہ اعلان ہے کہ لوگ زندہ ہیں، سوال کرسکتے ہیں، حق مانگ سکتے ہیں… لیکن ہمارے ہاں احتجاج بھی عجیب مزاج رکھتا ہے۔ یہاں احتجاج اکثر ایک دن کا جذبہ ہوتا ہے، ایک وقتی طوفان… اور پھر سب کچھ ویسا ہی۔ جلسے ہوتے ہیں، نعرے لگتے ہیں، سڑکیں بند ہوتی ہیں، کیمرے چلتے ہیں، سوشل میڈیا گرم ہوتا ہے اور پھر چند دن بعد قوم پھر اُسی حالت میں واپس آجاتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ کیوں کہ مسئلہ صرف احتجاج نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ احتجاج کے لیے علاج ضروری ہے۔
صرف شور کافی نہیں، صرف الزام کافی نہیں، صرف مطالبہ کافی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ سماج کی بیماری کا علاج کیا ہے، ہم کن خرابیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں؟ ہمارا سماج جن بیماریوں میں مبتلا ہے وہ واضح ہیں: کرپشن کو “مہارت” سمجھا جاتا ہے، سفارش کو ’’حق‘‘ مانا جاتا ہے، نااہلی کو ’’مجبوری‘‘ کہا جاتا ہے اور ظلم کو ’’روایت‘‘ بنا دیا گیا ہے۔ یہ بیماریاں عام دوا سے ختم نہیں ہوتیں۔
یہاں بات طنز سے حقیقت کی طرف جاتی ہے: علاج کے لیے کیمو فلاج ضروری ہے۔ کیمو تھراپی کینسر کے لیے ہوتی ہے… اور اگر غور کریں, تو ہمارا معاشرہ بھی کئی خطرناک کینسروں میں مبتلا ہے، جیسے کرپشن کا کینسر، منافقت کا کینسر، اقرباپروری کا کینسر اور طاقت ور طبقے کی لوٹ مار کا کینسر۔ یہ وہ بیماریاں ہیں، جو اندر ہی اندر ریاست کی بنیادیں کھوکھلی کر دیتی ہیں۔ ان کے لیے نرم باتیں، رسمی تقاریر اور وقتی وعدے کافی نہیں۔ اس کے لیے سخت اصلاح، دیانت دار قیادت اور حقیقی احتساب چاہیے۔
لیکن ہمارے ہاں علاج بھی ’’سیاست‘‘ بن جاتا ہے۔ پھر بات ہی ہوگی کیمو فلاج کی… کیمو فلاج کے لیے لانگ مارچ ضروری ہے۔ لانگ مارچ اب ہمارے معاشرے میں احتجاج نہیں رہا، ایک روایت بن گیا ہے۔ ہر کچھ عرصے بعد کوئی نہ کوئی قافلہ نکلتا ہے۔ انقلاب کے نعرے لگتے ہیں۔ عوام امید باندھتے ہیں کہ اب کچھ بدل جائے گا… لیکن حقیقت یہ ہے کہ لانگ مارچ بھی اب ایک “سیزنل پروگرام” بن چکا ہے۔
مارچ کے بعد کچھ مذاکرات، کچھ تصویریں، کچھ وعدے، کچھ بیان بازی اور پھر وہی نظام، وہی چہرے، وہی لوٹ مار۔ یوں لگتا ہے، جیسے احتجاج بھی اب ایک رسم ہے، انقلاب بھی ایک تقریب ہے اور تبدیلی بھی ایک کاروبار۔ اسی لیے لانگ مارچ کی خاطر رواج ضروری ہے۔ ہم نے مزاحمت کو رواج بنا دیا۔ ہم نے اصلاح کو رواج بنا دیا۔ ہم نے انقلاب کو رواج بنا دیا۔
اور پھر آخری طنز یہ سامنے آتا ہے: ’’رواج یہ ہے کہ رواج ضروری نہیں۔‘‘
یعنی ہم نے ہر چیز کو روایت بنا دیا، مگر اصل مقصد بھول گئے۔ ہم نعرے بہت لگاتے ہیں، مگر خود بدلنے کو تیار نہیں۔ ہم احتجاج کرتے ہیں، مگر کردار کی اصلاح نہیں کرتے۔ ہم تبدیلی مانگتے ہیں، مگر اپنی ذمے داری قبول نہیں کرتے۔ سماج کا اصل علاج لانگ مارچ نہیں۔
سماج کا اصل علاج ہے تعلیم کی اصلاح، انصاف کی بالادستی، قانون کی مضبوطی، نوجوانوں کی تربیت اور سب سے بڑھ کر خود احتسابی…! جب تک ہم خود نہیں بدلیں گے، کوئی مارچ، کوئی احتجاج، کوئی نعرہ ہمیں نہیں بچاسکتا۔ سماج کا مساج ضروری ہے، مگر مساج صرف شور سے نہیں ہوتا۔ احتجاج ضروری ہے، مگر احتجاج شعور کے ساتھ۔
علاج ضروری ہے، مگر علاج قربانی مانگتا ہے۔
ورنہ ہم اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے: مساج… احتجاج… علاج… لانگ مارچ… اور پھر رواج…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










