خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران میں منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ایک پیچیدہ سماجی، معاشی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ بہ ظاہر ریاستی سطح پر منشیات کے خلاف آگاہی مہمات جاری ہیں، جن کا اظہار پولیس تھانوں کے گیٹوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر آویزاں بینرز اور پُرکشش نعروں کی صورت میں دکھائی دیتا ہے، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں سے خاصے مختلف نظر آتے ہیں۔ یہ تضاد محض پالیسی اور عمل کے درمیان فرق نہیں، بل کہ طاقت، دولت اور احتساب کے غیر مساوی نظام کی عکاسی کرتا ہے، جو عالمی سطح پر زیرِ بحث موضوعات، خصوصاً دولت اور جرم کے باہمی تعلق، سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔
صوبے کے مختلف اضلاع میں منشیات کی رسائی اب صرف پس ماندہ یا سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہی، بل کہ شہری مراکز، قصبوں اور دیہی بستیوں تک پھیلے ہوئے ایک منظم نیٹ ورک کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اس نیٹ ورک کی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض چھوٹی سطح کے اسمگلروں یا مقامی ڈیلروں کا کام نہیں، بل کہ اس کے پیچھے بااثر اور مالی طور پر مضبوط عناصر کی موجودگی کا قوی امکان پایا جاتا ہے۔ ایسے افراد اکثر سماجی حیثیت، سیاسی روابط یا انتظامی سرپرستی کے باعث بہ راہِ راست قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔ اس صورتِ حال میں ریاستی اداروں کی کارروائیاں زیادہ تر نچلی سطح کے کرداروں تک محدود رہتی ہیں، جب کہ اصل منافع خور اور سرغنہ پس منظر میں محفوظ رہتے ہیں۔
منشیات کے استعمال کا سماجی پھیلاو بھی طبقاتی تفریق کے باوجود ایک مشترکہ بحران کی نشان دہی کرتا ہے۔ عام تاثر کے برعکس نشے کے عادی افراد صرف نچلے معاشی طبقے تک محدود نہیں رہے؛ متوسط اور اعلا طبقے کے افراد بھی اس لت میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ تاہم دونوں کے حالات اور اُن کے ساتھ معاشرتی برتاو میں واضح فرق موجود ہے۔
نشہ کرنے والے غریب افراد عموماً مناسب رہایش، نجی جگہ اور مالی وسائل سے محروم ہوتے ہیں، جس کے باعث اُن کا نشہ سرِ عام نظر آتا ہے۔ مالی تنگی اُنھیں بسا اوقات جرائم، مثلاً چوری یا راہ زنی، کی طرف بھی دھکیل دیتی ہے، جس سے وہ جلد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آجاتے ہیں اور سماجی نفرت کا ہدف بنتے ہیں۔
اس کے برعکس خوش حال طبقے سے تعلق رکھنے والے نشہ کے عادی افراد کو نہ صرف مالی وسائل میسر ہوتے ہیں، بل کہ محفوظ مقامات، نجی محفلیں اور وہ طبی یا نیم طبی سہولیات بھی دست یاب ہوتی ہیں، جن کے ذریعے نشے کے ظاہری اثرات کو کم یا عارضی طور پر چھپایا جاسکتا ہے۔ نتیجتاً اُن کا نشہ نہ تو اتنا نمایاں ہوتا ہے اور نہ اُنھیں وہی سماجی رسوائی یا قانونی دباو برداشت کرنا پڑتا ہے، جو غریب طبقے کے افراد کا مقدر بنتا ہے۔ یوں جرم اور لت کی نوعیت ایک جیسی ہونے کے باوجود احتساب کا پیمانہ طبقاتی بنیادوں پر بدل جاتا ہے۔
یہ دوہرا معیار محض اخلاقی کم زوری نہیں، بل کہ طاقت اور دولت کے اثر و رسوخ کی نشان دہی کرتا ہے۔ جب معاشرہ کھلے عام غریب نشہ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے، مگر منشیات کے بڑے کاروباریوں، سرپرستوں اور بااثر صارفین کے کردار پر خاموشی اختیار کرتا ہے، تو دراصل وہ جرم کے ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے بہ جائے اس کے کم زور ترین حصے کو سزا دے رہا ہوتا ہے۔ اس طرزِ عمل میں وہی ’’پیٹرن‘‘ نظر آتا ہے، جو عالمی سطح پر اُن مقدمات اور اسکینڈلز میں سامنے آتا ہے، جہاں دولت مند اور بااثر افراد طویل عرصے تک قانون کی گرفت سے بچے رہتے ہیں، جب کہ کم زور طبقات فوری اور سخت نتائج بھگتتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے تناظر میں منشیات کا مسئلہ صرف صحت یا اخلاقیات کا مسئلہ نہیں، بل کہ گورننس، احتساب اور سماجی انصاف کا سوال بھی ہے۔ اگر پالیسی سازی صرف علامتی مہمات، بینرز اور وقتی کریک ڈاؤن تک محدود رہے گی اور طاقت کے مراکز تک پہنچنے سے گریز کیا جائے گا، تو یہ بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔ موثر حکمت عملی کے لیے ضروری ہے کہ قانون کا اطلاق سماجی حیثیت سے بالاتر ہو، مالیاتی نیٹ ورکس کی چھان بین کی جائے، سیاسی و انتظامی سرپرستی کے امکانات کی شفاف تحقیقات ہوں اور نشے کے عادی افراد کو مجرم کے بہ جائے مریض سمجھ کر بہ حالی کے موثر نظام قائم کیے جائیں۔
بالآخر، جب تک معاشرہ اور ریاست جرم کو صرف اس کے کم زور چہرے سے پہچاننے کے بہ جائے اس کے طاقت ور ڈھانچے کو دیکھنے کی عادت نہیں اپناتے، منشیات کا یہ پھیلاو محض ایک سماجی برائی نہیں، بل کہ عدم مساوات پر مبنی نظامِ احتساب کی علامت بنا رہے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










