طاقت کی پولرائزیشن اور آئینی خلاف ورزیوں کے اثرات

Blogger Lawangin Yousafzai

پاکستان کا موجودہ آئین اس مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا تھا کہ ریاست کے تمام ستونوں کے درمیان توازن قائم رہے، عوام کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور اقتدار قانون کے تابع ہو… مگر گذشتہ کئی دہائیوں سے اس آئین کو بار بار معطل، معطل شدہ صورت میں نافذ یا ترامیم کے ذریعے کم زور کیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک میں طاقت کی پولرائزیشن اور شدید سیاسی تقسیم نے جنم لیا۔ اس صورتِ حال کے اثرات صرف ایوانِ اقتدار تک محدود نہیں رہے، بل کہ معیشت، سماجی ہم آہنگی اور عام شہری کی زندگی تک پھیل گئے ہیں۔
طاقت کی پولرائزیشن سے مراد یہ ہے کہ ریاستی فیصلوں کا اختیار چند اداروں یا شخصیات تک محدود ہو جائے، جب کہ پارلیمان، عدلیہ اور دیگر آئینی ادارے کم زور پڑجائیں۔ پاکستان کی تاریخ میں اس کی نمایاں مثال 1980 عیسوی کی دہائی میں متعارف کرائی گئیں وہ آئینی ترامیم ہیں، جنھوں نے صدر کو منتخب حکومت برطرف کرنے کا اختیار دیا۔ 1988 عیسوی سے 1999 عیسوی کے درمیان چار منتخب حکومتیں اسی اختیار کے تحت تحلیل ہوئیں، جس سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا اور عوام کے دلوں میں جمہوری عمل پر اعتماد کم زور پڑگیا۔ اس دور میں معاشی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوئی؛ عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق مذکورہ برسوں میں سیاسی بے یقینی کے سبب سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی اور ترقی کی شرح اکثر 2 سے 3 فی صد کے درمیان رہی۔
بعد کے برسوں میں بھی آئین کی بالادستی کو چیلنج کرنے والے اقدامات سامنے آتے رہے۔ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان کش مہ کش، ججوں کی معزولی یا دباو، اور سیاسی راہ نماؤں کے خلاف اجتماعی نوعیت کے عدالتی فیصلے اس تاثر کو مضبوط کرتے رہے کہ قانون سب کے لیے یک ساں نہیں رہا۔ مثال کے طور پر گذشتہ چند برسوں میں سیاسی جماعتوں کے درجنوں راہ نماؤں کو طویل سزائیں دی گئیں، جسے ان کے حامی ’’سیاسی انتقام‘‘ قرار دیتے ہیں، جب کہ حکومت اسے قانون کی ’’عمل داری‘‘ کہتی ہے۔ اس طرح کی صورتِ حال معاشرے میں تقسیم کو مزید گہرا کرتی ہے اور اداروں پر عوامی اعتماد کو کم زور کرتی ہے۔
طاقت کی پولرائزیشن اور آئینی کم زوریوں کے معاشی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ غیر یقینی سیاسی ماحول میں غیر ملکی سرمایہ کاری گھٹ جاتی ہے اور مقامی صنعت کار بھی بڑے فیصلے کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس کا بہ راہِ راست اثر روزگار کے مواقع، مہنگائی اور عوامی خدمات پر پڑتا ہے۔ ’’پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چند برسوں میں افراطِ زر بعض اوقات 30 فی صد سے بھی تجاوز کرگئی، جس سے متوسط اور غریب طبقہ شدید دباو میں آگیا۔ جب ریاستی توجہ اقتدار کی کش مہ کش پر مرکوز رہے، تو تعلیم، صحت اور سماجی بہبود جیسے شعبے پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔
سماجی سطح پر بھی اس صورتِ حال کے منفی اثرات گہرے ہیں۔ سیاسی تقسیم خاندانوں، تعلیمی اداروں اور میڈیا تک میں نظر آنے لگتی ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جانے لگتا ہے اور مکالمے کی جگہ الزامات لے لیتے ہیں۔ آئین میں دی گئی آزادیِ اظہار اور اجتماع کی ضمانتیں اُس وقت کم زور محسوس ہوتی ہیں، جب شہری خود کو خوف یا دباو کے ماحول میں پاتے ہیں۔ اقلیتیں، خواتین اور پس ماندہ طبقے ایسے ماحول میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کے تحفظ کے لیے آئینی اداروں کی مضبوطی ناگزیر ہے۔
اس ساری صورتِ حال کے باوجود مستقبل کے لیے امید کی گنجایش موجود ہے۔ پاکستان میں بہتر اور باوقار زندگی کے لیے سب سے پہلے:
آئین کی حقیقی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔
عدلیہ، الیکشن کمیشن اور احتسابی اداروں کی خود مختاری کو مضبوط بنانا ضروری ہے، تاکہ کوئی بھی طاقت قانون سے بالاتر نہ ہو۔
پارلیمان کو مرکزی حیثیت دینا اور قانون سازی کو شفاف بنانا بھی سیاسی اعتماد کی بہ حالی میں مدد دے سکتا ہے۔
شہری شعور کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نصابِ تعلیم اور میڈیا کے ذریعے آئینی حقوق اور فرائض سے آگاہی دی جائے، تاکہ عوام خود احتساب کا مطالبہ کرسکیں۔
سیاسی جماعتوں کو بھی ذاتی یا ادارہ جاتی مفادات کے بہ جائے عوامی فلاح کو ترجیح دینا ہوگی۔
اگر معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، مہنگائی پر قابو پایا جائے اور سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دی جائے، تو عوامی بے چینی کم ہوسکتی ہے اور سیاسی انتہاپسندی میں بھی کمی آئے گی۔
آخر میں کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ آئین پاکستان کے لیے ایک مشترکہ سماجی معاہدہ ہے، جس کی روح قانون کی حکم رانی، اختیارات کی تقسیم اور شہری آزادیوں کے تحفظ میں مضمر ہے۔ طاقت کی پولرائزیشن اور آئینی خلاف ورزیوں نے ملک کو بار ہا عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔ اگر ریاست اور معاشرہ مل کر آئینی اصولوں کی پاس داری کو اپنا نصب العین بنالیں، تو پاکستان ایک زیادہ مستحکم، منصفانہ اور خوش حال مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے