شریفوں کا کھیل جو سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا

Blogger Noor Muhammad Kanju, lafzuna.com

کرکٹ، جسے کبھی ’’شریفوں کا کھیل‘‘ کہا جاتا تھا، آج محض ایک کھیل نہیں رہا… بل کہ یہ جذبات، سیاست، معیشت اور سماجی اتار چڑھاؤ کا ایک ایسا مرکب بن چکا ہے، جس کی تپش میدان سے باہر کہیں زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔
کھیل انسانی تہذیب کا وہ خوب صورت حصہ ہیں، جو نہ صرف جسمانی توانائی اور ذہنی بالیدگی کا ذریعہ بنتے ہیں، بل کہ معاشروں کو نظم و ضبط اور حوصلہ مندی کا درس بھی دیتے ہیں۔ ایک کھلاڑی جب میدان میں اترتا ہے، تو وہ صرف اپنی ٹیم کے لیے نہیں، بل کہ امن اور بھائی چارے کے اُس پیغام کا علم بردار ہوتا ہے، جو سرحدوں کی قید سے آزاد ہوتا ہے، مگر افسوس کہ موجودہ دور میں کرکٹ کے اس عظیم الشان مقصد کو سیاست کی گرد نے دھندلا دیا ہے۔
جنوبی ایشیا میں کرکٹ کی حیثیت کسی جنون سے کم نہیں، یہاں کا عام آدمی اپنی تمام تر محرومیاں اور پریشانیاں اُس وقت بھول جاتا ہے، جب بلے اور گیند کا ٹکراو ہوتا ہے۔ خاص طور پر پاک بھارت ٹاکرا تو وہ معرکہ ہے، جسے دنیا بھر میں ’’ایشز‘‘ سے بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے خزانے کا ایک بڑا حصہ اسی روایتی حریف کے مقابلوں سے بھرتا ہے، مگر بدقسمتی دیکھیے کہ یہی خوب صورت مقابلے آج سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاو کی ایک طویل تاریخ ہے، لیکن حقیقت پسندانہ نظر ڈالی جائے، تو حالیہ برسوں میں کھیلوں کو سیاست زدہ کرنے کی شروعات سرحد پار سے ہوئی۔ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی سے لے کر پاکستان کی سرزمین پر کھیلنے سے انکار تک، بھارتی حکومت کے رویے نے اس کھیل کی روح کو زخمی کیا ہے۔
حالیہ دنوں میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو سیکورٹی کے نام پر ویزوں کا اجرا نہ کرنا بھی اسی انتہا پسندانہ سوچ کا تسلسل ہے، جس نے کرکٹ کے میدانوں میں تلخی گھول دی ہے۔
اسی صورتِ حال کے ردِعمل میں اب پاکستان نے بھی بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کرتے ہوئے رواں ماہ شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ بلاشبہ کروڑوں شائقین کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں۔ یہ ایک ایسا افسوس ناک موڑ ہے، جہاں کھیل کی جیت نہیں، بل کہ سفارتی محاذ آرائی کی جیت ہو رہی ہے۔ جب تماشائیوں سے بھرے اسٹیڈیم خاموش ہو جاتے ہیں اور ٹیلی وِژن کی سکرینیں بے رنگ رہ جاتی ہیں، تو نقصان صرف ایک بورڈ یا ایک ٹیم کا نہیں، بل کہ اُس عالمی برادری کا ہوتا ہے، جو کھیلوں کو جوڑنے کا ذریعہ سمجھتی تھی۔
وقت کا کڑا تقاضا ہے کہ اب کھیلوں کو سیاست کے آلودہ کھیل سے کلی طور پر پاک کر دیا جائے، کیوں کہ جب سیاست کے ناپاک قدم کھیلوں کے مقدس میدانوں میں پڑتے ہیں، تو وہاں سے اخلاق، رواداری اور کھیل کا اصل جوہر رخصت ہو جاتا ہے۔ کھیل محض ہار جیت کا نام نہیں ہوتے، بل کہ یہ وہ نرم قوت (Soft Power) ہیں، جو بڑی سے بڑی سفارتی بندشوں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب سرحدیں بند ہوئیں اور مذاکرات کی میز ٹوٹ گئی، تب بھی کرکٹ کے میدانوں نے رابطے کی کوئی نہ کوئی صورت نکال کر دونوں اقوام کے مابین جمی برف کو پگھلایا… لیکن اگر ریاستیں اپنے سیاسی مفادات اور انتہا پسندانہ نظریات کی خاطر ان میدانوں کو بھی مہروں کے طور پر استعمال کریں گی، تو اس سے نہ صرف کھیل کی معیشت تباہ ہوگی، بل کہ وہ نسلِِ نو جو ان کھلاڑیوں کو اپنا ہیرو مانتی ہے، وہ بھی نفرتوں کی بھٹی میں جھونک دی جائے گی۔
عالمی امن اور علاقائی استحکام کی بقا اسی میں ہے کہ کھلاڑیوں کو سیاسی جنگوں کا ہتھیار بنانے کے بہ جائے امن کا سفیر تسلیم کیا جائے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کھیلوں میں دشمنی کو فروغ دے کر ہم اپنے معاشروں کو مزید عدم برداشت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور کھیلوں کی عالمی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی ملک کی حکومت کھیل کے عالمی مقابلوں میں رکاوٹ نہ بنے، کیوں کہ جب کرکٹ جیسے مقبول کھیل کو ہائی جیک کیا جاتا ہے، تو دراصل کروڑوں انسانوں کے خوش ہونے کے حق پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کرکٹ کا وہ کھویا ہوا وقار، جو اسے ’’جنٹلمینز گیم‘‘ (Gentleman’s game) کے منصب پر فائز کرتا تھا، تبھی بہ حال ہوسکتا ہے، جب گیند اور بلے کے درمیان ہونے والا مقابلہ صرف مہارت کی بنیاد پر ہو، نہ کہ اس کی قسمت کا فیصلہ بند کمروں میں بیٹھے سیاست دان کریں۔
اگر آج ہم نے کھیلوں کو دشمنی مٹانے اور تعلقات کی بہ حالی کے لیے پل کے طور پر استعمال نہ کیا، تو مستقبل کی تاریخ ہمیں اس جرم کا ذمے دار ٹھہرائے گی کہ ہم نے ایک خوب صورت ثقافتی ورثے کو اپنی انا اور ضد کی بھینٹ چڑھا دیا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے