فلسطین اور کشمیر کا تنازع طویل عرصہ سے عالمی سیاست کا موضوع بنا ہوا ہے۔ گذشتہ ڈھائی سالوں سے اسرائیل کی بربریت، تشدد، بمباری اور ظلم و ستم نے فلسطینیوں کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی۔ امریکہ کی اشیرباد اور پشت پناہی سے نتین یاہو نے فلسطین کی نسل کشی، غزہ کو تباہ و برباد کرنے، حماس کو غیر مسلح کرنے اور اپنے مذموم منصوبے کی تکمیل کے لیے تمام عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال قائم کی۔
’’بورڈ آف پیس‘‘ (Board of Peace) کا ذکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 29 ستمبر 2025ء کو اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ میں جنگ ختم کرنے کے منصوبے کے دوران کیا تھا۔ ساتھ ہی 20 نِکاتی منصوبے کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس منصوبے میں اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی، حماس کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنا اور غزہ کی پٹی میں عبوری حکم رانی کا ایک ڈھانچا بنانا شامل تھا، تاکہ غزہ میں مستقل امن اور غزہ کی تعمیرِ نو کے کاموں کو آگے بڑھایا جائے۔
17 نومبر 2025ء کو اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے قرارداد نمبر 2803 میں ’’بورڈ آف پیس‘‘ کو صرف غزہ کے لیے 2027ء تک کی منظوری دی، جس میں ’’ٹرمپ غزہ امن منصوبے‘‘ کی توثیق کی گئی تھی۔ قرارداد پر رائے شماری میں روس اور چین نے حصہ نہیں لیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ قرارداد میں اقوامِ متحدہ کا کردار واضح نہیں۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کو ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر خوش آمدید کہا جاتا ہے، ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کی دوبارہ آباد کاری کے لیے فریم ورک وضع کرے گا اور فنڈز کو منظم کرے گا، جب تک فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات مکمل نہ ہو جائیں۔
قرارداد کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورس، اسرائیل، مصر اور نئی تربیت یافتہ مگر تصدیق شدہ فلسطینی پولیس فورس سرحدی علاقوں کی سیکورٹی اور حماس سمیت ریاست مخالف گروہوں کو غیر مسلح کرنے میں مدد دے گی۔
اس قرارداد کے تحت بورڈ کو غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی سیکورٹی فورس بھیجنے کی اجازت بھی دی گئی۔ قرارداد کے مطابق ہر چھے ماہ بعد پندرہ رکنی سیکورٹی کونسل کو اپنی ’’پراگریس رپورٹ‘‘ دینا ہوگی۔
وائٹ ہاؤس نے بیس نِکاتی امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ارکان کا اعلان کیا، جس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چیئرمین ہوں گے، جب کہ دیگر ارکان میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی نائب وزیر دفاع/ مشیر رابرٹ کیبریل، ٹرمپ کے داماد، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور دیگر شامل ہیں، جب کہ مستقل رکن بننے کے لیے ایک ارب ڈالر جمع کرنا لازمی ہوگا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق 59 ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے دست خط کیے ہیں، لیکن ڈیوس (ڈوس) میں ’’ورلڈ اکنامک فورم‘‘ کے دوران میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں صرف 19 ممالک کے نمایندے موجود تھے۔
’’بورڈ آف پیس‘‘ میں پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ، انڈونیشیا، بحرین، مصر، اردن، قازقستان، ازبکستان اور متحدہ عرب امارات شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔
’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پسِ پردہ امریکہ کے کیا عزائم ہیں؟ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم ’’غزہ امن بورڈ‘‘ پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین، تجزیہ نگار اور ماہرین اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض اس کی حمایت اور کچھ اس کی مخالفت میں دلائل دے رہے ہیں۔
سفارتی ماہرین اور عالمی راہ نماؤں نے اس بورڈ کے وسیع اختیارات، ٹرمپ کی غیر معینہ سربراہی اور اقوامِ متحدہ کے کردار پر ممکنہ اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پہلا خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بورڈ میں مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط بدعنوانی کے خدشات کو جنم دے سکتی ہے۔
دوسرا خدشہ یہ ہے کہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ اقوامِ متحدہ کا متوازی ادارہ بن سکتا ہے۔
تیسرا خدشہ یہ ہے کہ غزہ جنگ میں ملوث ممالک بھی اس بورڈ میں شامل ہیں، جو امن کے مقصد سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔
سینئر سفارت کار، اقوامِ متحدہ، امریکہ اور برطانیہ میں پاکستان کی سابق سفیر، محترمہ ملیحہ لودھی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ اقدامات اور ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے اور کئی اہم نِکات اٹھائے ہیں۔
محترمہ ملیحہ لودھی کے مطابق ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت اسلام آباد کا ایسا فیصلہ ہے، جو واشنگٹن کے ساتھ صف بندی کرنے کے سیاسی اخراجات پر خاطر خواہ توجہ دیے بغیر کیا گیا ہے۔ اس سے پاکستان کی علاقائی اور اسلامی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر غزہ جنگ کے انتہائی حساس ماحول میں۔
ملیحہ لودھی کے مطابق ٹرمپ نے جو منصوبہ تیار کیا ہے، پاکستان کے ایسے اقدامات اس منصوبے پر مہر ثبت کرنے اور ٹرمپ کے آلۂ کار کا کردار ادا کرنے کے مترادف ہیں۔ حماس جیسے مسلح گروہ کو جبری طور پر غیر مسلح کرنا اسلامی ممالک سمیت پاکستان کو فلسطینیوں کے ساتھ بہ راہِ راست تنازع میں ملوث کرسکتا ہے… اور پاکستان کا کوئی بھی ایسا قدم فلسطینی کاز کی حمایت میں پاکستان کے روایتی اور اعلان کردہ موقف سے مکمل طور پر متصادم ہے۔
اقوامِ متحدہ میں بھارت کے سابق سفیر سید اکبر الدین نے 23 جنوری کو ’’ٹائم آف انڈیا‘‘ میں لکھا کہ بھارت کو اس بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا ’’بورڈ آف پیس‘‘ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 سے متصادم ہے۔ اس بورڈ کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی۔ اسے غزہ کے باہر دیگر ممالک میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جو اسے ایک بین الاقوامی ادارے کے بہ جائے نجی ڈھانچے کی صورت دے سکتا ہے۔
حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ مشیر طاہر انون کے مطابق اصل مسئلہ ہتھیار نہیں، بل کہ قابض اسرائیل کا مسلسل غاصبانہ تسلط اور اسے برقرار رکھنے کی پالیسی ہے۔ کیوں کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں امن قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اُن کے مطابق مزاحمت اور آزادی کے لیے جد و جہد فلسطینیوں کا بنیادی حق ہے، جسے عالمی ادارے تسلیم کرچکے ہیں۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کے مطابق پاکستان ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ میں خلوصِ نیت سے شامل ہوا ہے۔ اُن کے مطابق دیگر اہم 7 ممالک نے بھی پاکستان سمیت بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ پاکستان، فلسطین میں امن، تعمیرِ نو اور بہتری کے لیے بورڈ کا حصہ بنا ہے۔ ’’بورڈ آف پیس‘‘ پر ’’ابراہیم اکارڈ‘‘ کا الزام بے بنیاد ہے۔
قارئین! اس کے باوجود فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے والے غیر تسلیم شدہ ملک اسرائیل کے سیکورٹی (تحفظ) کے لیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں پاکستان کا حصہ بننا عقل و دانش سے باہر اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










