نیا سال شروع ہوئے پورا ایک مہینا گزر چکا ہے، مگر طبیعت ابھی مائل نہیں ہوئی۔ دل لکھنے کو بالکل نہیں چاہ رہا۔ گاؤں میں تعطیلات سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ چہار سو پہاڑوں نے برف کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ چمکتی دھوپ میں خنک ہوا کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ اس ماحول میں بھی لکھنے کو دل کیوں نہیں کرتا… اس کا سبب معلوم کرنا پڑے گا۔ خیر، ان حالات میں بھی کچھ ایسا ضرور ہوا، جس نے لکھنے پر مجبور کیا، اور وہ ہیں بلوچستان کے حالات۔
صحافت کے طالب علمانہ دور میں ایک تحقیقی مقالے پر گفت گو کرتے ہوئے یہ بات سامنے آئی تھی کہ بڑے شہروں اور دور دراز دیہاتوں کے مابین میڈیائی فرق کیوں ہوتا ہے؟ مثلاً شہر میں ’’کھلے مین ہول‘‘ پر خبر بنتی ہے، جب کہ گاؤں میں دو تین لوگوں کے قتل کو بھی معمول واردات سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ دیگر جوابات کے علاوہ ایک جواب یہ بھی تھا کہ چوں کہ میڈیا کو اشتہارات بڑے شہروں سے ملتے ہیں، اس لیے بڑے شہروں میں غیر اہم خبر بھی اہم بن جاتی ہے۔ آسان لفظوں میں ’’پیسا پھینک، تماشا دیکھ‘‘ والی بات ہے۔
روایتی میڈیا کی اس مجبوری یا مستی کا توڑ سوشل میڈیا نے نکالا، مگر غریب ممالک میں سوشل میڈیا کو بند کرنا حکومتوں کے لیے آسان ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند دنوں قبل بلوچستان میں اندوہ ناک واقعات ہوئے، تو حکومت نے انٹرنیٹ کو بند رکھا، تاکہ غیر جانب دار معلومات تک رسائی ممکن نہ ہوسکے۔ یوں روایتی میڈیا پر روایتی بیانات جاری کیے گئے کہ ’’150 سے زائد عسکریت پسندوں کو مارا گیا‘‘، ’’عسکریت پسندوں کو افغانستان اور بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے‘‘، ’’دہشت گردانہ حملوں کو ناکام بنایا گیا‘‘، وغیرہ وغیرہ۔
مَیں حکومتی مجبوریوں کو سمجھتا ہوں کہ ایسے بیانات کیوں دیے جا رہے ہیں… مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسے بیانات سے مسائل حل ہوتے ہیں؟
بلوچستان میں یہ جو بدقسمت واقعات ہوئے، اس کو ’’بلوچ لبریشن آرمی‘‘ نے ’’آپریشن ہیروف ٹو‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس آپریشن کا پہلا فیز پچھلے سال ہوا تھا، جس میں بلوچستان سے پنجاب آنے والے راستے پر ضلع موسیٰ خیل کے حدود میں مسافر بسوں سے لوگوں کو اُتار کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ مقتولین میں زیادہ تعداد عام پنجابی مزدوروں کی تھی۔
اُس خوف ناک سانحے کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ بلوچستان آئے اور کسی بھی فوجی آپریشن کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’’دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں!‘‘ اُس وقت بھی اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا تھا کہ یہ بلوچستان کے حالات سے ناواقفیت کا اظہار ہے۔ خیر، ایک سال بعد اَب جب عسکریت پسندوں نے ’’ہیروف ٹو‘‘ پر عمل کیا، تو حیران کن طور پر بلوچستان بھر میں تقریباً 12 اضلاع میں ایک ہی دن تشدد کیا، نجی اور سرکاری املاک کو پامال کیا، اور یہاں تک کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ریڈ زون تک پہنچ گئے۔ کوئٹہ شہر ہی میں کئی ایک بینکوں، سرکاری دفاتر اور پولیس تھانوں کو نذرِ آتش کر دیا۔
سوال یہ ہے کہ اگر دہشت گرد واقعی ایک ایس ایچ او کی مار ہوتے، تو کیا وہ صوبائی دارالحکومت تک پہنچتے؟ یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ یہ لوگ اچانک اکٹھے ہوئے اور شہر کے شہر تاراج کیے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ لوگ ایک طویل منصوبہ بندی کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے ہیں… اور مقامی آبادی میں گڈ مڈ ہوئے ہیں۔ اب مقامی آبادی کیوں خاموش رہی… اور کیوں بروقت عسکریت پسندوں کی آمد پر چشم پوشی اختیار کی؟ یہ ایک اہم ترین معاملہ ہے، جس پر قانون نافذ کرنے والوں کو سوچنا ہوگا۔
کیوں کہ یہ قلم کار ایک عرصے سے کَہ رہا ہے کہ جنگیں صرف توپ و تفنگ سے نہیں جیتی جاتیں، بل کہ بیانیہ بھی جنگ جیتنے کا ایک اہم حربہ ہے، مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں رہنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ حکومتی اور ریاستی جوابی بیانیہ ابھی اس قابل نہیں کہ عام لوگوں کے دل و دماغ کو جیتا جائے… اور عسکریت پسندوں کے لیے اگر کسی دل میں نرم جگہ موجود ہے، تو اس کا محاسبہ کیا جائے۔
یقین تو یہ ضرور ہے کہ ریاست سے جیتنا آسان نہیں، بالآخر جیت ملک و قوم ہی کی ہوگی، مگر بدامنی ترقی کی دشمن ہے۔ صوبائی دارالحکومت تک اگر دہشت گردی سے محفوظ نہیں، تو ترقی کیسے ہوگی؟ اس لیے مودبانہ گزارش یہ ہے کہ بلوچستان میں طاقت کے ساتھ دلیل کو بھی موقع دیجیے۔ حقیقی عوامی نمایندوں کو حکومت میں لائیں، تاکہ عوام کے ساتھ رابطہ کاری مضبوط ہو، اور قوم پرستی کے نام پر نوجوانوں کو ورغلانے کا راستہ بند ہوجائے۔ بیانیے کو مؤثر کیا جائے، کیوں کہ حالیہ واقعات میں خواتین جنگ جوؤں نے بھی حصہ لیا ہے۔ حالیہ دہشت گردی کی بروقت اور مؤثر روک تھام لازمی ہے، کیوں کہ پُرامن پاکستان کے لیے پُرامن بلوچستان نہایت اہم ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










