تعلیم کا مقصد صرف انسان کو روزگار کے قابل بنانا یا اسے معاشی دوڑ میں شامل کرنا نہیں، بل کہ اس کی اصل غایت انسان کو انسان بنانا ہے۔ ایسا انسان جو صرف زندہ رہنا نہ جانتا ہو، بل کہ باوقار، بامقصد اور باشعور زندگی جینے کا سلیقہ بھی رکھتا ہو۔ زندہ رہنا تو فطری جبلت ہے، یہ ہر شخص سیکھ لیتا ہے، مگر جینا ایک شعوری عمل ہے اور یہ شعور صرف حقیقی تعلیم ہی کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔
ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں، جہاں تعلیم کو محض ڈگری، سند یا ملازمت کے حصول کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ والدین بچوں کو اسکول اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ ’’کچھ بن جائیں‘‘، اور اس ’’کچھ‘‘ سے مراد اکثر ایک اچھی نوکری، بہتر تن خواہ اور سماجی حیثیت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ انسان کو بہتر انسان بھی بناتا ہے؟ کیا ہماری تعلیم ہمیں برداشت سکھا رہی ہے، اختلاف کا حوصلہ دے رہی ہے، یا دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا شعور پیدا کر رہی ہے؟
اگر نہیں، تو پھر ہمیں یہ ماننے میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ ہماری تعلیم ادھوری ہے۔
حقیقی تعلیم انسان کے اندر اخلاقی بصیرت پیدا کرتی ہے۔ وہ اسے صرف اپنے فائدے کے دائرے میں محدود نہیں رکھتی، بل کہ اس کی نگاہ کو وسیع کر دیتی ہے۔ وہ اسے سکھاتی ہے کہ وہ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرے، کم زور کے ساتھ کھڑا ہو اور طاقت کو ذمے داری کے ساتھ استعمال کرے۔ ایسی تعلیم انسان کو خود غرضی سے نکال کر انسان دوستی کی طرف لے جاتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے، جہاں تعلیم اپنا اصل مقصد حاصل کرتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارا موجودہ تعلیمی نظام اس بنیادی مقصد سے مسلسل دور ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے تعلیم کو ایک مسابقتی صنعت بنا دیا ہے، جہاں نمبر، گریڈ اور رینک انسان کی قدر کا پیمانہ بن چکے ہیں۔ طالب علم سوچنے کے بہ جائے رٹنے پر مجبور ہے، سوال اٹھانے کے بہ جائے خاموشی کو کام یابی سمجھتا ہے، اور سچ بولنے کے بہ جائے ’’درست جواب‘‘ یاد کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ڈگری یافتہ افراد تو پیدا کر رہے ہیں، مگر باشعور انسان پیدا نہیں کر پا رہے۔
تعلیم اگر انسان کے اندر برداشت پیدا نہ کرے، تو وہ اسے شدت پسند بنا دیتی ہے۔ اگر وہ ذمے داری کا احساس نہ دے، تو طاقت کا غلط استعمال سکھاتی ہے۔ اگر وہ اخلاقی اقدار سے خالی ہو، تو علم کو بھی ہتھیار بنا دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ علم جب اخلاق سے جدا ہو جائے، تو وہ انسانیت کے لیے فائدہ نہیں، بل کہ نقصان کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں میں کس قسم کے انسان تیار کر رہے ہیں؟
آج کے معاشرے میں ہمیں ایسے افراد کی کمی نہیں، جو انتہائی تعلیم یافتہ ہیں، مگر رویوں میں سخت، سوچ میں تنگ اور عمل میں خود غرض ہیں۔ وہ اپنے حقوق سے تو خوب واقف ہیں مگر فرائض سے نابلد… وہ کام یابی کے زینے تو چڑھ گئے ہیں، مگر انسانیت کے درجے پر پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انھیں تعلیم تو ملی، مگر تربیت نہیں ملی؛ علم تو ملا، مگر شعور نہیں ملا۔
حقیقی تعلیم انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ صرف اپنی ذات کے لیے نہ جیے، بل کہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے۔ وہ اسے بتاتی ہے کہ اصل کام یابی دولت یا عہدہ نہیں، بل کہ وہ سکون ہے، جو کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاکر ملتا ہے۔ وہ اسے یہ احساس دلاتی ہے کہ معاشرہ صرف مقابلے سے نہیں، بل کہ تعاون سے آگے بڑھتا ہے، اور انسان صرف لینے سے نہیں، بل کہ دینے سے بڑا بنتا ہے۔
آج ہمیں ایسی تعلیم کی اشد ضرورت ہے، جو ڈگری کے ساتھ ساتھ کردار بھی دے، ہنر کے ساتھ ساتھ حوصلہ بھی دے اور کام یابی کے ساتھ ساتھ انسانیت بھی سکھائے۔ ایسی تعلیم جو نوجوان کو صرف مارکیٹ کی ضرورت نہ بنائے، بل کہ سماج کی امید بنائے۔ جو اسے یہ سکھائے کہ اختلاف دشمنی نہیں، تنوع کم زوری نہیں اور برداشت شکست نہیں، بل کہ طاقت کی علامت ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیم کا تعلق صرف نصاب یا کتابوں سے نہیں، بل کہ استاد کے کردار، تعلیمی ماحول اور مجموعی سماجی رویے سے بھی ہوتا ہے۔ اگر استاد خود سوال سے خوف زدہ ہو، اگر ادارہ تنقیدی سوچ کو خطرہ سمجھے اور اگر معاشرہ سچ بولنے والے کو سزا دے، تو پھر نصاب میں جتنی مرضی اخلاقیات شامل کرلی جائیں، نتیجہ وہی رہے گا جو آج ہمارے سامنے ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم محض ریاست یا ادارے کی ذمے داری نہیں، بل کہ ایک اجتماعی عمل ہے۔ والدین، اساتذہ، میڈیا اور معاشرہ سب اس میں برابر کے شریک ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک باشعور قوم بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں تعلیم کو صرف روزگار سے جوڑنے کے بہ جائے زندگی سے جوڑنا ہوگا۔ ہمیں بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کام یاب وہ نہیں، جو سب سے آگے نکل جائے، بل کہ وہ ہے جو پیچھے رہ جانے والوں کا ہاتھ تھام لے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تعلیم اگر صرف روزگار دے اور شعور نہ دے، تو وہ ادھوری ہے۔ ایسی تعلیم وقتی سہولت تو فراہم کرسکتی ہے، مگر دیرپا سمت نہیں دے سکتی… اور اگر تعلیم شعور دے دے، تو انسان کی پوری زندگی کا راستہ روشن ہو جاتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے لیے، بل کہ دوسروں کے لیے بھی چراغ بن جاتا ہے۔
شاید یہی وہ تعلیم ہے، جس کی ہمیں آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










