’’مملکتِ خدادا‘‘ پاکستان میں سوشل ازم کو ماضی کا ایک ناکام خواب بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ سوشل ازم کو بدنام کرنے کا عمل آج بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ کام بندوق، کوڑے اور فتوے سے ہوتا تھا، آج یہ کام معاشی پالیسی، نج کاری اور ’’ناگزیر فیصلوں‘‘ کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ مارکسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، تو آج کا پاکستان اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ سوشل ازم اس لیے نہیں ہارا کہ وہ غلط تھا، بل کہ اس لیے کہ سرمایہ داری نے اپنی بقا کے لیے اسے مسلسل کچلا۔
آج پاکستان ایک ایسے معاشی جکڑ میں جکڑا ہوا ہے، جہاں ریاست عملاً آئی ایم ایف، عالمی بینک اور مقامی سرمایہ دار طبقے کی ایجنسی بن چکی ہے۔ بجٹ دستاویزات کھول کر دیکھ لیں، تو طے شدہ نظر آئے گا کہ تعلیم اور صحت ’’اخراجات‘‘ ہیں، سبسڈی ’’غیر ضروری بوجھ‘‘ ہے، مگر قرضوں کا سود ’’قومی فرض‘‘ ہے۔
یہ وہی ریاست ہے، جسے مارکس حاکم طبقے کی ’’ایگزیکٹو کمیٹی‘‘ کہتا ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں پوچھا جاتا کہ عوام کو کیا درکار ہے، بل کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ سرمایہ کو کیا تحفظ چاہیے؟
نج کاری کے عمل کو آج نجات کا ذریعہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ریلوے، بجلی، گیس، صحت اور تعلیم وغیرہ سب کچھ منڈی کے حوالے کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ مارکسی تجزیہ بتاتا ہے کہ نج کاری دراصل اجتماعی دولت کو چند ہاتھوں میں منتقل کرنے کا عمل ہے۔ ریاست، وہ ادارے جو عوام کے ٹیکس سے بنے، اُنھیں اونے پونے داموں سرمایہ داروں کے حوالے کر دیتی ہے، اور پھر ناکامی کا الزام خود ریاست پر ڈال کر کہتی ہے: ’’سرکار کاروبار نہیں چلا سکتی۔‘‘
یہی وہ مقام ہے جہاں سوشل ازم کا سوال خطرناک ہو جاتا ہے، کیوں کہ سوشل ازم پوچھتا ہے: ’’جب ادارے عوام کے پیسے سے بنے، تو اُن پر اختیار عوام کا کیوں نہیں؟‘‘ یہ سوال آج بھی اُتنا ہی خوف ناک ہے، جتنا 1950ء میں تھا۔
آج کے پاکستان میں محنت کش طبقہ پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔ کنٹریکٹ سسٹم، ڈیلی ویجز، گیگ اکانومی، یہ سب سرمایہ داری کی نئی شکلیں ہیں، جن کا مقصد مزدور کو مستقل روزگار، یونین اور اجتماعی طاقت سے محروم رکھنا ہے۔ مارکس کے الفاظ میں یہ ’’اضافی قدر‘‘ یا منافع نچوڑنے کا جدید طریقہ ہے… مگر اس استحصال پر بات کرنے کے بہ جائے، میڈیا محنت کش کو سستی، کاہلی اور نااہلی کا طعنہ دیتا ہے۔
یہی میڈیا جب سوشل ازم کا ذکر کرتا ہے، تو فوراً قطاریں، خالی شیلف اور ناکامی کی تصویریں دکھاتا ہے، مگر کبھی یہ سوال نہیں اُٹھاتا کہ بھئی، نجی ہسپتال مہنگے کیوں ہیں، نجی اسکول علم کو کاروبار کیوں بناتے ہیں، بجلی، آٹا اور پٹرول منافع کی منڈی کیوں بن چکے ہیں؟
یہ خاموشی دراصل طبقاتی وفاداری کی علامت ہے۔
مذہب آج بھی اُسی طرح استعمال ہو رہا ہے، مگر زیادہ نفیس انداز میں۔ اب سوشل ازم پر کھلے فتوے کم ہیں، مگر ’’رزق اللہ دیتا ہے‘‘، ’’امیری غریبی آزمایش ہے‘‘، ’’تقدیر میں جو ہوگا ملے گا‘‘، ’’ہر کسی کو قسمت سے ملتا ہے‘‘، ’’دولت بیوی کی قسمت میں ہوتی ہے‘‘، ’’ہر پیدا ہونے والا اپنا رزق خود لاتا ہے‘‘، ’’دانے دانے پہ لکھا ہے کھانے والے کا نام‘‘، ’’جو جس کے نصیب میں ہے، وہ کوئی نہیں چھین سکتا‘‘ جیسے جملوں کے ذریعے غربت کو فطری اور مقدر بنا دیا گیا ہے۔ مارکس نے جس ’’افیم‘‘ کی بات کی تھی، وہ آج بھی کام کر رہی ہے: ’’درد کا علاج نہیں، درد کو برداشت کرنے کا درس۔‘‘
دل چسپ بات یہ ہے کہ آج جب ریاست خود تعلیم، صحت اور روزگار کی ذمے داری سے دست بردار ہوچکی ہے، تب بھی سوشل ازم کو غیر حقیقی اور ناقابلِ عمل کہا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سرمایہ داری اتنی ہی کام یاب ہے، تو پھر غربت کیوں بڑھ رہی ہے، عدم مساوات کیوں شدید تر ہو رہی ہے اور نوجوان کیوں بے روزگار اور مایوس ہیں؟
مارکسی تجزیہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ سرمایہ داری کا بحران ہے، مگر پاکستان میں اسے ’’قومی بدانتظامی‘‘ کَہ کر چھپا دیا جاتا ہے، تاکہ نظام پر سوال نہ اٹھے… اور یہ سوشل ازم کی بدنامی آج اس لیے بھی ضروری ہے، کیوں کہ اگر عوام نے یہ سمجھ لیا کہ اُن کے مسائل انفرادی نہیں، بل کہ نظام کی پیداوار ہیں، تو پھر خیرات، سبسڈی اور وقتی ریلیف سے بات نہیں بنے گی۔ پھر سوال پیداوار کے ذرائع، دولت کی تقسیم اور ریاست کے طبقاتی کردار تک پہنچ جائے گا اور یہی وہ حد ہے، جہاں حاکم طبقہ گھبرا جاتا ہے۔
آج کا پاکستان دراصل اُس مارکسی سچائی کی تصدیق ہے کہ جب تک سرمایہ دارانہ نظام برقرار ہے، بحران مستقل رہے گا۔ مہنگائی، بے روزگاری اور قرض محض پالیسیاں نہیں، بل کہ اس نظام کی فطری پیداوار ہیں… اور یہی وجہ ہے کہ سوشل ازم کو آج بھی زندہ رہنے نہیں دیا جاتا۔ کیوں کہ وہ ان بحرانوں کو حادثہ نہیں، بل کہ نتیجہ قرار دیتا ہے۔
آخر میں سوال سوشل ازم کے ماضی کا نہیں، پاکستان کے مستقبل کا ہے۔ اگر دولت اسی طرح چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی رہی، اگر ریاست صرف سرمایہ کی محافظ رہی، تو سوشل ازم کا سوال خود بہ خود لوٹ آئے گا، چاہے اسے جتنا بھی بدنام کیوں نہ کیا جائے۔ کیوں کہ تاریخ میں نظریات اُس وقت مرتے نہیں، جب انھیں دبایا جائے، بل کہ اُس وقت زندہ ہوتے ہیں، جب حالات انھیں سچ ثابت کر دیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










