یہ پاؤں شاید عام نگاہ میں محض تھکے ہوئے قدم ہوں، مگر اہل بصیرت جانتے ہیں کہ یہی قدم تاریخ کے وہ روشن صفحات ہیں، جن پر دین اور انسانیت کی خدمت کے نقوش ثبت ہوتے ہیں۔ خاک آلود اُنگلیاں، گھسے ہوئے ناخن، چلچلاتی دھوپ اور پتھریلے راستوں کی تھکن، یہ سب قربانی نہیں، بل کہ ایثار کی خوش بو ہیں۔
یہ قدم اُس راستے کے مسافر ہیں جو آرام گاہوں سے نہیں گزرتا، بل کہ محروموں کی بستیوں، بے سہارا گھروں، ضرورت مندوں کے دروازوں اور اُمّت کے درد مند دلوں تک جاتا ہے۔ یہ علما کے قدم ہیں۔ جی ہاں وہ علما، جو اپنے آرام، اپنی سہولت، اپنی تھکن کو پسِ پشت ڈال کر انسانیت کی خدمت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
جمعیت العلما کی تاریخ انھی قدموں کی کہانی ہے۔
یہ وہ جماعت ہے، جس کے راہ نماؤں نے ہمیشہ فرشِ خاک پر چل کر آسمانِ انسانیت پر ستارے جلائے ہیں۔ کبھی کسی یتیم کے آنسو پونچھے، کبھی کسی بے بس کے سر پر دستِ شفقت رکھا، کبھی کسی بکھرے دل کو کلمۂ اُمید دیا، اور کبھی کسی مظلوم کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔
ان تھکے ہوئے قدموں میں وہ عزم چھپا ہے، جو طوفانوں کا رُخ موڑ دے اور ان زخمی نشانات میں وہ ہمت پوشیدہ ہے، جو حالات کے جبر کے سامنے کبھی نہیں جھکتی۔ یہ قدم گواہ ہیں کہ علما کی انسان دوستی کتابوں کے اوراق تک محدود نہیں، بل کہ زندگی کی سخت زمین پر چل کر حقیقت بنتی ہے… اور جمعیت العلمائے اسلام کی خدمت صرف نعروں کی گونج نہیں، بل کہ پسینہ، مشقت، خاک، ایثار اور قربانی کا نام ہے۔
یہ پاؤں اُمّت کے دکھوں کی دھول میں اَٹ کر بھی روشن ہیں اور اُن کے ہر نشان میں ایک ہی صدا ہے کہ ’’ہم انسانوں کے ہیں، انسانیت کے لیے ہیں، اور اس راستے پر جب تک سانس باقی ہے، اِن شاءاللہ چلتے رہیں گے، چلتے رہیں گے، چلتے رہیں گے!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










