’’کیس نمبر 9‘‘، اردو ادب کی مقصدی روایت کا احیا

Blogger Noor Muhammad Kanju, Swat

​اردو ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ جب داستانوں کے مافوق الفطرت کرداروں اور طلسماتی فضاؤں نے انسانی شعور کو محض تخیلاتی دنیا تک محدود کر دیا تھا، تب سرسید احمد خان نے اپنے قریبی رفیق مولوی نذیر احمد کو ایک نیا راستہ دکھایا تھا۔ سرسید کا موقف تھا کہ ادب محض وقت گزاری یا تفریحِ طبع کا نام نہیں، بل کہ اسے معاشرے کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ انھوں نے مولوی نذیر احمد کو ترغیب دی کہ وہ جنوں، پریوں اور جادوئی قصوں کے بہ جائے ایسی کہانیاں تخلیق کریں، جو ہمارے گھروں، سماجی الجھنوں اور معاشی مسائل کی عکاسی کریں۔
مرشد کی اسی ہدایت نے اردو کے پہلے ناول ’’مراۃ العروس‘‘ (1869) کو جنم دیا، جس نے نہ صرف اردو نثر کو ایک نیا اُسلوب دیا، بل کہ گھروں کی تربیت اور اخلاقی اصلاح کا بیڑا ھی اٹھایا۔ ​اسی ادبی و اصلاحی روایت کے تسلسل میں آج ہمیں ڈراما ’’کیس نمبر 9‘‘ نظر آتا ہے۔ مصنف شاہزیب خانزادہ نے اس ڈرامے کے ذریعے ایک ایسے حساس اور سنگین موضوع کو قلم بند کیا ہے، جس پر بات کرنا ہمارے معاشرے میں آج بھی ایک شجرِ ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ڈراما محض ایک کہانی نہیں، بل کہ ایک ’’ٹیوشن کلاس‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے، جو ناظرین کو قدم بہ قدم قانون اور آگہی کے سفر پر لے جاتا ہے۔
​مصنف نے کمالِ فن سے ان باریک نِکات کو اجاگر کیا ہے، جو کسی بھی المیے کی صورت میں متاثرہ خاندان کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
ڈرامے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ’’ریپ‘‘ جیسے گھناؤنے جرم کے بعد بروقت میڈیکل رپورٹ اور پولیس اندراج (FIR) کیس کی بنیاد ہوتے ہیں۔ وقت کی معمولی سی تاخیر انصاف کی راہ میں کتنی بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے، اسے انتہائی مہارت سے دکھایا گیا ہے۔
ڈراما معاشرے کے اس بھیانک چہرے کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں متاثرہ شخص کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ مصنف نے یہ پیغام دیا ہے کہ متاثرہ فرد ’’گناہ گار‘‘ نہیں، بل کہ وہ ہماری ہم دردی اور انصاف کا مستحق ہے۔ اُسے تنہا چھوڑنے کے بہ جائے اُس کے ساتھ کھڑا ہونا ہی اصل بہادری ہے۔
​جہاں یہ ڈراما ہمارے فرسودہ تفتیشی نظام اور عدالتی پیچیدگیوں پر ضرب لگاتا ہے، وہیں یہ امید کی کرن بھی دکھاتا ہے۔ یہ ناظرین کو بتاتا ہے کہ قانون میں حالیہ برسوں میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں اور نئی دفعات کے تحت متاثرہ فرد کس طرح اپنے تحفظ اور رازداری کو برقرار رکھتے ہوئے انصاف حاصل کرسکتا ہے۔
مختصر یہ کہ ’’کیس نمبر 9‘‘ محض سکرین پر چلنے والی چند تصاویر کا نام نہیں، بل کہ یہ ایک سماجی تحریک ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے مولوی نذیر احمد کی اُس مقصدیت کو زندہ کیا ہے جس کا مقصد تفریح کے ساتھ ساتھ ’’عبرت اور تربیت‘‘ کا سامان پیدا کرنا تھا۔
یہ ڈراما ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، نظام کی خامیوں کو سمجھیں اور انصاف کے حصول کے لیے ڈٹ جائیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے