اڑان پاکستان یا تجربات کا تکرار؟

Blogger Ikram Ullah Arif

وفاقی حکومت کے زیرِ اہتمام وزارت منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات نے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس کا مقصد نام ہی سے واضح ہے۔ اللہ کرے پاکستان واقعی اڑان بھرے اور عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہو… مگر شکی مزاجیوں کا کہنا ہے کہ اعلانات سے تقدیریں نہیں بدلتیں۔ دعاؤں کے ساتھ دواؤں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ یہاں فقط دعاؤں سے ترقی کی نویدیں دی جا رہی ہیں اور بس…!
وزارتِ منصوبہ بندی کا قابل وزیر صاحب پروفیسر بھی ہے اور ذاتی صفات میں باکمال بھی ہوں گے۔ ذات ہم زیرِ بحث لانا بھی نہیں چاہتے، مگر عوامی منصب دار کی کارکردگی پر بات چیت ضروری ہے۔ اس لیے ’’اڑان پاکستان‘‘ مہم سے قبل آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ ’’ن لیگ‘‘ کی گذشتہ حکومت میں بھی وزیر موصوف اسی منصب پر بہ حال تھے۔
سر پر یہ سودا سوار تھا کہ ملک بھر کے ہر ضلع میں کوئی ایک سرکاری یا پرائیویٹ یونیورسٹی ضرور ہونی چاہیے۔ اگر مکمل یونیورسٹی نہ بھی ہو، تو کسی اور یونیورسٹی کا کیمپس ہونا چاہیے۔ مقصد اس مہم کا بھی نیک تھا اور ہمیں امید ہے نیت بھی نیک ہی ہوتی ہوگی۔ نتیجتاً ملک بھر میں جامعات کی ’’مشروم گروتھ‘‘ ہوئی۔ مجھے وہ دن یاد ہیں، جب لوگ مظاہرے کیا کرتے تھے کہ پورے ڈویژن میں کم از کم ایک یونیورسٹی ہونی چاہیے، کیوں کہ ملاکنڈ ڈویژن سے پڑھنے والوں کو مجبوراً پشاور یا دیگر بڑے شہروں میں جانا پڑتا تھا۔ پھر اللہ نے کرم کیا اور مشرف کے مارشل لا دور میں چکدرہ کے مقام پر ڈویژن کی پہلی جامعہ، ملاکنڈ کے نام سے، قائم ہوئی… مگر جب ہر ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی کا خمار چڑھا، تو باقی ملک تو رکھ چھوڑئیے، آج صرف ملاکنڈ ڈویژن میں کم از کم 8 سرکاری جامعات اور 3، 4 ان کے کیمپسسز قائم ہو چکے ہیں، جب کہ کم از کم 2 نجی یونیورسٹیوں کے کیمپس سوات اور دیر میں چل رہے ہیں۔
یوں پورے ڈویژن سے جو طلبہ و طالبات ملاکنڈ یونیورسٹی میں داخل ہو رہے تھے، وہ باقی جامعات میں تقسیم ہوگئے، اور اب نتیجہ یہ ہے کہ تمام جامعات خسارے میں چل رہی ہیں۔ یہ کہانی صرف ملاکنڈ ڈویژن تک محدود نہیں، بل کہ ملک بھر میں جامعات کی یہی کہانی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کی اولین اور مرکزی یونیورسٹی، پشاور، کے اساتذہ اور ملازمین گذشتہ کئی مہینوں سے تنخواہوں اور پنشنوں سے محروم ہیں، اور مجبوراً دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ ہے، مگر دیکھنا ہوگا کہ بعد از ترمیم صوبہ جات میں اعلا تعلیم کا معیار بہتر ہوا ہے، یا مزید ابتر ہوگیا ہے۔ ہر ضلع کی سطح پر یونیورسٹی کی تعمیر نے تمام جامعات میں طلبہ و طالبات کے داخلوں کو انتہائی متاثر کیا ہے، اور کئی شعبہ جات میں اساتذہ کی تعداد نئے داخل ہونے والوں سے زیادہ ہے۔ مثلاً: اگر کسی شعبے میں 10 اساتذہ ہیں، تو وہاں داخلہ لینے والوں کی تعداد 5 یا اس سے بھی کم ہے۔ ایسے میں تنخواہوں سمیت دیگر اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟
مَیں یہ نہیں کَہ رہا کہ تعلیم کو پھر مرکزی قبضے میں دیا جائے، مگر گزارش صرف یہ ہے کہ نت نئے تجربات کرنے سے قبل پرانے منصوبہ جات کی جانچ پڑتال بھی ناگزیر ہے، تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ نئے منصوبہ جات کا اجرا لازمی ہے یا پرانے منصوبوں میں موجود خامیوں کو دور کرکے بہتری کا سفر جاری رکھنا چاہیے؟
تعلیم اور جامعات کی بات بہ طور مثال آئی، ورنہ سی پیک، جو کہ وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت ہی ہے، اس میں ایسے دیگر منصوبے بھی شامل ہیں، جن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس لیے ’’اڑان پاکستان‘‘ منصوبہ یقیناً نیک نیتی کے ساتھ شروع کیا گیا ہوگا… مگر کم از کم یہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ کہیں اس کا مستقبل بھی جامعات کی طرح نہ ہوجائے۔ وزیرِ منصوبہ بندی ایک ذہین انسان ہیں، اور اُمید ہے وہ اپنی صلاحیتوں کو میڈیا کی چکاچوند سے دور، برق رفتار، حقیقی اور موثر تبدیلیوں کے لیے بروئے کار لائیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے