قومی اسمبلی کے فلور پر مولانا فضل الرحمان مدظلہ کا حالیہ خطاب کسی سیاسی مصلحت کا اسیر نہیں تھا۔ یہ ایک بغاوتِ شعور تھی۔ یہ تقریر اس نظام کے منھ پر طمانچہ تھی، جو خود کو جمہوریت کہتا ہے، مگر اندر سے جبر، منافقت اور غلامی کا مجموعہ بن چکا ہے۔ یہ خطاب اُن ایوانوں کے لیے وارننگ تھا، جو خاموشی کو حکمت اور بے حسی کو ریاستی دانش سمجھ بیٹھے ہیں۔
مولانا نے حزبِ اختلاف کے قائد محمود خان اچک زئی کو مبارک باد دے کر گفت گو کا آغاز کیا، لیکن یہ شایستگی جلد ہی حکم رانوں کے لیے تلخ سوال نامہ بن گئی۔ اُنھوں نے واضح کر دیا کہ اگر مشاورت، مشارکت اور مفاہمت کو دفن کر دیا جائے، تو ریاستیں بندوق اور سرمایہ کے زور پر چل سکتی ہیں، مگر زندہ نہیں رہتیں۔
فلسطین پر مولانا فضل الرحمان کی گفت گو دراصل امتِ مسلمہ کے مردہ ضمیر پر نوحہ نہیں، بل کہ فردِ جرم تھی۔ 70 ہزار لاشیں، جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے، ایک سال میں ایک پوری قوم کا صفایااور پھر انہی قاتلوں کے ساتھ بیٹھ کر ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا ڈھونگ……؟ یہ امن نہیں، جرم میں شراکت ہے۔
امریکہ، جو خود کو منصف بنا کر پیش کر رہا ہے، دراصل اس خون کی ہولی کا سرپرست ہے، اور نیتن یاہو جیسے قصاب کو امن کے ایوان میں بٹھانا انسانیت کی توہین ہے۔ اس موقع پر مولانا نے میرؔ کا شعر پڑھ کر پوری سفارت کاری کو بے نقاب کر دیا۔
مولانا نے وہ سوال بھی اُٹھایا جو کوئی حکم ران سننا نہیں چاہتا…… کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی غیرت سے بنتی ہے، یا عالمی آقاؤں کی رضا سے؟ کیا فلسطین جیسے نازک مسئلے پر قوم، پارلیمان اور کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا؟ نہیں، کیوں کہ یہ حکومت عوام کو شریک نہیں، صرف مطیع دیکھنا چاہتی ہے۔
خطاب کا سب سے لرزا دینے والا حصہ پشتون علاقوں کی حقیقت تھا۔ مولانا نے وہ کہا جو برسوں سے دبایا جا رہا ہے : ریاست کئی اضلاع میں عملاً ختم ہوچکی ہے۔ مسلح گروہ ٹیکس وصول کر رہے ہیں، سرکاری افسر بھتے دے رہے ہیں، تاجر خوف کے سائے میں سانس لے رہے ہیں اور حکم ران، اسلام آباد میں امن کے لیکچر دے رہے ہیں۔ یہ بدنظمی نہیں، دراصل ریاستی پسپائی ہے۔
مولانا نے کھل کر کہا کہ فیصل آباد، لاہور اور اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ پشتون خطے میں زندگی کیسی ہے؟ یہ صرف محرومی نہیں، یہ ایک پوری قوم کو دیوار سے لگانے کی سازش ہے۔
کشمیر اور بنگال کا ذکر چھیڑتے ہوئے مولانا نے تاریخ کے اُن زخموں پر انگلی رکھی جن پر سوال کرنا جرم بنا دیا گیا ہے: بنگال کیوں گیا؟ کشمیر کیوں خاموشی سے دفن کر دیا گیا؟ یہ سوال غداری نہیں، قومی احتساب ہے، مگر اس ملک میں سوال پوچھنے والے ہمیشہ مشکوک ٹھہرتے ہیں۔
جمہوریت پر مولانا فضل الرحمان کا تجزیہ بے حد خطرناک سچ بیان کرتا ہے: دنیا میں جمہوریت مر چکی ہے، اب صرف سرمایہ، بندوق اور آمریت کی مشترکہ حکومت ہے اور پاکستان بھی اسی قبرستان میں داخل ہوچکا ہے۔ آئین جس میں قرآن و سنت کی بالادستی کا وعدہ کیا گیا تھا، آج اُسی آئین کے نام پر اسلام سے متصادم قوانین پاس ہو رہے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ردی کی ٹوکری میں، سود کے خاتمے کے وعدے کاغذوں میں اور پارلیمان محض ربڑ اسٹیمپ…… یہ ہے آج کا نظام……!
زنا اور نکاح سے متعلق قانون سازی پر مولانا کا موقف خاص طور پر حکم ران طبقے کے منھ پر زناٹے دار تھپڑ تھا: نکاح کو مشکل، شادی کو جرم اور مغربی اصطلاحات کو قانون بنا کر خاندانی نظام کو توڑا جا رہا ہے۔ یہ اصلاح نہیں، نسلی تباہی کا منصوبہ ہے۔
’’8فروری‘‘ کو مولانا نے بہ جا طور پر جمہوریت کا قتل قرار دیا۔ عوامی رائے کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا، وہ محض انتخابی دھاندلی نہیں، بل کہ ریاستی ڈاکا تھا۔ اس کے باوجود مولانا تصادم کے بہ جائے اصلاح کی بات کرتے ہیں۔ یہ کم زوری نہیں، اخلاقی برتری ہے۔
آخر میں مولانا فضل الرحمان نے دوٹوک اعلان کیا کہ ن’’یتن یاہو کی موجودگی اور ٹرمپ کی سربراہی میں کوئی ’بورڈ آف پیس‘ پاکستان کے لیے قابلِ قبول نہیں۔‘‘
یہ موقف نہیں، قومی وقار کا اعلان ہے۔ آج جب بیش تر زبانیں بند، ضمیر گروی اور سیاست غلامی بن چکی ہو۔ مولانا فضل الرحمان کی آواز یاد دلاتی ہے کہ ہر دور میں ایک شخص کا سچ، پورے نظام کے جھوٹ پر بھاری ہوتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










