کرسٹل میتھ (آئس): نوجوان نسل پر مہلک یلغار

Blogger Sajid Aman, Swat

پاکستان میں منشیات کے مسئلے کو طویل عرصے تک روایتی زاویے سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ افیون، ہیروئن اور چرس ہماری اجتماعی سوچ میں اس مسئلے کی نمایندہ علامات بن چکی ہیں…… مگر گذشتہ ایک دہائی میں کچھ اس قسم کی منشیات تیزی سے پھیلی ہیں، جنھوں نے نشہ آور چیزوں کے پورے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ منشیات ’’کرسٹل میتھ‘‘ (Crystal Methamphetamine) کہلاتی ہیں، جسے عرفِ عام میں ’’آئس‘‘ (Ice) کہا جاتا ہے۔ ایک ’’سنتھیٹک‘‘ (Synthetic) یعنی ’’بنایا گیا‘‘ یا ’’غیر قدرتی‘‘ نشہ، جو خاموشی سے مگر غیر معمولی رفتار کے ساتھ ہمارے شہری معاشرے، خصوصاً نوجوان طبقے، کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
عالمی سطح پر ’’اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات و جرائم‘‘ (UNODC: United Nations Office on Drugs and Crime) مسلسل اس امر کی نشان دہی کر رہا ہے کہ ’’سینتھیٹک ڈرگز‘‘ (Synthetic Drugs) دنیا بھر میں منشیات کا سب سے تیزی سے پھیلتا ہوا رجحان ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ آئس کے استعمال پر تازہ اور جامع قومی سروے دست یاب نہیں، تاہم ’’نیشنل ڈرگ یوز سروے‘‘، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعداد و شمار اور بہ حالی مراکز کی رپورٹس ایک واضح اور تشویش ناک تصویر پیش کرتی ہیں، جو اس خطرے کی سنگینی کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔
ان رپورٹس کے مطابق 2015ء کے بعد آئس کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بڑے شہروں میں زیرِ علاج منشیات کے مریضوں میں آئس استعمال کرنے والوں کا تناسب بعض مراکز میں 20 سے 30 فی صد تک پہنچ چکا ہے۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس نشے سے متاثر ہونے والوں کی اکثریت 18 تا 35 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، وہ عمر جسے کسی بھی معاشرے کی معاشی اور فکری ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ اس طبقے کی ذہنی اور جسمانی تباہی دراصل ریاست کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔
طبی ماہرین آئس کو محض ایک نشہ نہیں، بل کہ دماغی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہیں۔ یہ مادہ دماغ میں ’’ڈوپامین‘‘ کی غیر معمولی مقدار خارج کر کے وقتی چستی اور خوشی کا احساس تو پیدا کرتا ہے، مگر اس کے بعد شدید ذہنی انتشار، ڈپریشن اور نفسیاتی انحصار کو جنم دیتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق آئس مختصر عرصے میں شدید ذہنی عادت پیدا کرتی ہے، یادداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو مستقل نقصان پہنچاتی ہے اور فریبِ نظر، شکوک، تشدد اور خود کُشی کے خیالات کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئس کے عادی افراد میں جرائم، گھریلو تشدد اور سماجی ٹوٹ پھوٹ کے واقعات زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ فرد کی سطح پر شروع ہونے والا یہ نشہ بالآخر خاندان، محلہ اور معاشرے کے اجتماعی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے، جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اس بحران کا ایک اہم پہلو اس کی غلط سماجی تشہیر بھی ہے۔ آئس کو بعض حلقوں میں ایک ’’جدید‘‘، ’’کم خرچ‘‘ اور ’’قابلِ کنٹرول‘‘ نشے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ تاثر طبی اور سماجی دونوں حوالوں سے گم راہ کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئس کا نقصان فوری طور پر نمایاں نہیں ہوتا، مگر جب اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں، تو اکثر ناقابلِ واپسی ہوچکے ہوتے ہیں۔
پالیسی اور قانون کے محاذ پر بھی سوالات کم نہیں۔ اگرچہ آئس انسدادِ منشیات قوانین کے تحت ممنوع ہے، مگر ’’سینتھیٹک ڈرگز‘‘ کی تیاری اور ترسیل کے نیٹ ورکس پر موثر تحقیق کا فقدان ہے۔ ڈیجیٹل اور آن لائن ذرائع کے ذریعے خفیہ فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ بہ حالی اور ذہنی صحت کے مراکز ضرورت کے مقابلے میں نہایت محدود ہیں…… اور اگر موجود بھی ہیں، تو اکثر جدید خطوط پر استوار نہیں۔
ہم گرفتاریوں کو کام یابی سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر علاج، بہ حالی اور روک تھام پر سنجیدہ سرمایہ کاری دکھائی نہیں دیتی۔ یہ رویہ مسئلے کے حل کے بہ جائے اس کی طوالت اور شدت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
قارئین! آئس کا پھیلاو دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ ہے: کیا ہم نشے کو اَب بھی محض ایک فوج داری مسئلہ سمجھتے رہیں گے، یا اسے قومی صحت اور نوجوانوں کے مستقبل کا بحران تسلیم کریں گے؟ دنیا بھر کا تجربہ بتاتا ہے کہ سینتھیٹک ڈرگز کا مقابلہ صرف پولیس کارروائی سے ممکن نہیں، اس کے لیے مربوط پالیسی، موثر طبی سہولتوں اور وسیع سماجی آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آئس کو قومی سطح پر ہنگامی صحت مسئلہ تسلیم کیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں ہدفی آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں، بہ حالی اور ذہنی صحت کے ڈھانچے کو وسعت دی جائے، اور سینتھیٹک ڈرگز کے نیٹ ورکس کے خلاف جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ کیوں کہ اگر یہ بحران اسی طرح نظرانداز ہوتا رہا، تو آنے والے برسوں میں نقصان کا اندازہ اعداد و شمار سے نہیں، بل کہ کھوئی ہوئی نسلوں سے لگایا جائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے