امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا صدارتی دور صرف امریکی سیاست تک محدود نہیں رہا، بل کہ اس نے عالمی نظام کو ایک نئی بے یقینی، اضطراب اور خوف کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ وہ سیاست دان ہیں، جو روایتی سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین یا اخلاقی اُصولوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اُن کے نزدیک طاقت دلیل ہے اور دھمکی سفارت کاری۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے فیصلے ، بیانات اور اقدامات دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے بھی حیران کن اور کبھی کبھار تشویش ناک ثابت ہوتے ہیں۔
پاکستان میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بارے میں سیاسی خواب بھی کچھ کم دل چسپ نہیں۔ بالخصوص پاکستان تحریکِ انصاف کے حامی حلقوں میں یہ افسانوی خیال گردش کرتا رہا کہ ٹرمپ کا اقتدار میں آنا عمران خان کی رہائی کے لیے ’’سپر سگنل‘‘ ہوگا۔ سوشل میڈیا پر فعال یوٹیوبروں اور کچھ راہ نماؤں نے تو یہاں تک دعوا کر دیا کہ جس دن ٹرمپ حلف اُٹھائیں گے، اڈیالہ جیل کا مین گیٹ کھل جائے گا اور عمران خان بنی گالہ روانہ ہوں گے…… لیکن عالمی سیاست کا مزاج نعروں اور ’’ٹویٹس‘‘ سے نہیں چلتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کو اقتدار میں آئے ایک سال ہوچکا ہے۔ آج تک امریکی صدر نے عمران خان کا نام تک نہیں لیا۔ یہ خاموشی ایک تلخ سچائی کی عکاس ہے۔ عالمی تعلقات افراد پر نہیں، بل کہ مفادات، طاقت اور ضرورتوں پر چلتے ہیں۔ بعید نہیں کہ مستقبل میں ٹرمپ اڈیالہ کے مقیم ’’قیدی نمبر 804‘‘ کے لیے بھی بے تاب نظر آئیں۔
مئی میں پاک بھارت جنگ کے بعد عالمی منظرنامہ بدلتا دکھائی دیا، تو حیرت انگیز طور پر ٹرمپ نے پاکستان کے موقف کی کھل کر تعریف کی اور وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں غیر معمولی مُثبت بیانات دینے شروع کر دیے۔ تقریباً ہر ہفتے پندرہ دن بعد ٹرمپ، پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کی عسکری برتری یا بھارتی جنگی طیاروں کی تباہی کا ذکر کر تے دکھائی دیتے ہیں۔ ان بیانات نے صرف سفارتی سطح پر اثر نہیں رکھا، بل کہ بھارتی سیاسی قیادت، عوامی رائے اور حتیٰ کہ فرانسیسی دفاعی صنعت بھی ہل کر رہ گئی۔
’’غزہ امن معاہدہ‘‘ کے تناظر میں وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نام زد کرنا ایک انتہائی سوچ سمجھ کر کیا گیا سفارتی قدم تھا۔ یہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں، بل کہ ایک ’’بپھرا ہوا ہاتھی‘‘ قابو میں رکھنے کی حکمت عملی تھی۔ ٹرمپ خود بھی کئی مواقع پر یہ کَہ چکے ہیں کہ نوبل امن انعام کا اصل حق دار وہ ہیں، مگر عالمی ادارے ابھی تک اس خواہش کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ یہاں شہباز شریف حکومت کی سفارتی مہارت قابلِ توجہ ہے۔ ایک بے قابو، خود پسند اور طاقت کے نشے میں چور عالمی راہ نما کے مزاج، اَنا اور نفسیات کو سمجھ کر اسے پاکستان کی امیج بلڈنگ کے لیے استعمال کرنا کوئی معمولی کام نہیں۔ دنیا کے کئی معتبر اخبارات اور جریدے تسلیم کرچکے ہیں کہ پاکستان نے جس مہارت سے ٹرمپ کو ’’ہینڈل‘‘ کیا، وہ شاید کسی اور ملک کے بس کی بات نہ ہو۔آ ج وہ امریکہ، جس کے پاکستان کے بارے میں ماضی کے عزائم واضح تھے، بہ ظاہر پاکستان کو دوست ملک کے طور پر دیکھ رہا ہے اور ٹرمپ خود کو اس کا غیر علانیہ سفیر ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اگر کوئی اس تبدیلی پر حیران نہیں ہوتا، تو اُس کی سیاسی بصیرت پر واقعی ماتم کیا جاسکتا ہے۔
یقینا کچھ حلقے اسے امت مسلمہ کے مسائل سے لاتعلقی یا غیرت سے عاری پالیسی قرار دیں گے، مگر سوال یہ ہے کیا باقی اسلامی ممالک خصوصاً سعودی عرب، ترکیہ، ایران، شام، انڈونیشیا، ملائشیا وغیرہ بھی امت کے مسائل حل کرنے کے لیے امریکہ سے ٹکرا رہے ہیں؟
نوبت تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ افغانستان، بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کی داخلی و خارجی خودمختاری پر کاری ضربیں لگا رہا ہے…… جب کہ موجودہ حالات میں چین، روس یا یورپی ممالک امریکہ کے ساتھ بہ راہِ راست ٹکڑ لینے سے کنی کترا رہے ہیں۔
وہی ٹرمپ جو دوسرے ممالک کے سربراہوں کو سب کے سامنے ذلیل کرتے ہیں، بھارتی وزیرِ اعظم کی نقالی کرتے ہیں اور یورپی لیڈروں کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔ آج وہی ٹرمپ شہباز شریف کے ساتھ شایستہ اور ہرپلیٹ فورم پر ان کی تعریفیں کرتے نظر آ رہے ہیں۔
دوسری طرف دنیا نے ٹرمپ کا دوسرا، کہیں زیادہ خطرناک چہرہ بھی دیکھا ہے۔ وینزویلا کے صدر کی گرفتاری، وینزویلا سے تیل کی خرید و فروخت اَب امریکی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ گرین لینڈ پر قبضے کے منصوبے، ایرانی حکومت کو دھمکیاں، روسی تیل بردار جہاز کو تحویل میں لینا اور چین اور روس کو تیل کی خرید و فروخت کے مشورے اور بھارت پر 500 فی صد ٹیرف بڑھانے کی دھمکیاں دینا…… یہ واضح مثالیں ہیں کہ ٹرمپ طاقت کو ہی عالمی قانون سمجھتے ہیں۔
لہٰذا سوال یہ نہیں رہا کہ ٹرمپ کو نوبل امن انعام ملنا چاہیے یا نہیں، بل کہ یہ اصل سوال ہے کہ اگر اسے مسلسل نظر انداز کیا گیا، تو وہ دنیا کو امن کی بہ جائے طاقت کے ذریعے اپنی پہچان مسلط کرے گا۔ وہ خود کو امن کا علم بردار کہتے ہیں…… مگر اُن کے اقدامات دنیا کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کر رہے ہیں۔ چوں کہ ٹرمپ کے نزدیک نوبل ایوارڈ کا حصول ہی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اور کام یابی ہے۔
اب یہ طنز نہیں، بل کہ ایک سنجیدہ عالمی انتباہ ہے۔ اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے، تو شاید اب بھی وقت ہے کہ ٹرمپ کو نوبل امن انعام دیا جائے…… نہ کہ اُن کی نظر اندازگی کی قیمت عالمی انتشار کی صورت میں چکائی جائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










