خدمت کی سیاست کا روشن چہرہ… مفتی فضل غفور

Blogger Hilal Danish Swat

کچھ لوگ سیاست کو اقتدار کا زینہ بناتے ہیں، جب کہ کچھ اقتدار کے بغیر ہی سیاست کو خدمت میں ڈھال دیتے ہیں۔ مفتی فضل غفور صاحب کا شمار اُن خوش نصیب اور باکردار شخصیات میں ہوتا ہے، جنھوں نے ہمیشہ پارٹی وابستگی، سیاسی مفادات اور وقتی فائدوں سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ یہ کوئی دعوا نہیں، بل کہ پورا بونیر اس حقیقت کا گواہ ہے۔
مفتی صاحب سابق رکنِ صوبائی اسمبلی، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی نائب امیر اور ضلع بونیر کے امیر ضرور رہیں، مگر اُن کی اصل شناخت کسی عہدے یا جماعت کی محتاج نہیں۔ اُن کی پہچان غریبوں کے مسیحا، مظلوموں کے سہارا اور مشکل گھڑی میں ڈٹ کر کھڑے ہونے والے مردِ میدان کے طور پر ہے۔
مفتی فضل غفور صاحب کی خدمات کسی ایک طبقے، ایک مسلک یا ایک جماعت تک محدود نہیں رہیں۔ اُنھوں نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر انسان کو انسان سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتیں بھی اُن کی عملی انسان دوستی کی معترف ہیں۔ شمشان گھاٹوں کی ازسرِنو تعمیر ہو، جنازہ گاہیں ہوں، مزارات کی بہ حالی ہو، یا کھیل کے میدان…… اُنھوں نے ہر اُس جگہ کام کیا، جہاں زندگی کو سہارا دینے کی ضرورت تھی۔
سیلاب کی تباہ کاریوں نے جب بونیر کے سیکڑوں خاندانوں کو بے گھر کر دیا، تو بہت سی سیاسی و غیر سیاسی تنظیمیں وقتی سرگرمیوں تک محدود رہیں…… مگر مفتی صاحب نے عملی میدان کا انتخاب کیا۔ یتیموں اور بیواؤں کے لیے ٹوٹے گھروں کی دوبارہ تعمیر، بے گھر افراد کے لیے اراضی کی خرید، اور تباہ شدہ کاروباروں کی بہ حالی ایسے اقدامات ہیں، جو صرف خلوصِ نیت اور دردِ دل رکھنے والا انسان ہی کرسکتا ہے۔ اُنھوں نے سیکڑوں رکشے اور گاڑیاں فراہم کر کے لوگوں کو خیرات کا محتاج بنانے کے بہ جائے اُنھیں باعزت روزگار دیا۔ سیلاب میں بہہ جانے والے پل ہوں یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں اُن کی بہ حالی میں بھی مفتی فضل غفور صاحب ہمیشہ پیش پیش رہے۔ یہ محض تعمیرات نہیں تھیں، یہ اعتماد اور خودداری کی بہ حالی تھی۔
یتیم بچوں کے لیے قائم کردہ فری شاپنگ اسٹال مفتی صاحب کی سوچ کی وسعت اور سماجی شعور کا واضح ثبوت ہے۔ کھانے پینے کی اشیا سے لے کر کپڑے، جوتے، ہوزری، منیاری اور کھیل کود کے سامان تک ہر چیز اس انداز سے مہیا کی گئی کہ بچوں کو احساسِ محرومی نہیں، بل کہ احساسِ عزت نصیب ہو۔
سیلاب کو آج 5 ماہ مکمل ہوچکے ہیں۔ بونیر سے بیش تر غیر سیاسی تنظیمیں، سیاسی جماعتیں اور این جی اُوز اپنا بوریا بستر سمیٹ چکی ہیں۔ کیمرے بند ہوچکے ہیں، سرخیاں بدل چکی ہیں، مگر یہ مردِ قلندر آج بھی سیلاب متاثرین کے درمیان موجود ہے۔ بغیر کسی حکومتی عہدے کے، روز کسی نئے منصوبے، کسی نئی اُمید اور کسی نئی حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں اُترتا ہے۔ یہی وہ کردار ہے، جو قیادت کو زندہ رکھتا ہے۔ مفتی فضل غفور صاحب نے عملاً ثابت کیا کہ خدمت نہ کسی عہدے کی محتاج ہوتی ہے، نہ کسی جماعت کی۔ جب نیت صاف ہو، تو انسان خود ایک ادارہ بن جاتا ہے۔
ایسے لوگ کم ہوتے ہیں، مگر جب ہوتے ہیں، تو علاقے کی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں، اور بونیر کی اجتماعی گواہی یہی ہے کہ مفتی فضل غفور صاحب جماعتوں سے بالاتر، انسانیت کے ساتھ کھڑے رہنے والے راہ نما ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے