پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل میں اگر کسی ایک بنیادی سبب کی نشان دہی کی جائے، تو وہ بلاشبہ عدل و انصاف کا فقدان ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں انصاف بروقت، غیر جانب دار اور مساوی بنیادوں پر فراہم نہ ہو، وہاں بداعتمادی، انتشار، لاقانونیت اور بالآخر ریاستی کم زوری جنم لیتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں آئین موجود رہا، عدالتیں قائم رہیں، قوانین بھی بنے، مگر انصاف اکثر کم زور، تاخیر کا شکار اور طاقت ور کے تابع رہا۔ اگر ہماری عدالتیں اپنی آئینی اور اخلاقی ذمے داریاں پوری ایمان داری، جرات اور دیانت کے ساتھ ادا کرتیں، تو شاید آج حالات اس حد تک ابتری کا شکار نہ ہوتے۔
عدل و انصاف کسی بھی ریاست کا ستون ہوتے ہیں۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر شہریوں کا اعتماد، ریاست کی ساکھ اور معاشرتی ہم آہنگی قائم ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انصاف کو ایک پیچیدہ، مہنگا اور طویل عمل بنا دیا گیا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا آسان نہیں۔ برسوں پر محیط مقدمات، تاریخ پر تاریخ، وکلا کی بھاری فیسیں اور نظام کی سست روی انصاف کے متلاشی کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ قانون سے بدظن ہو کر طاقت، سفارش اور ذاتی تعلقات کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو مزید خرابی کا باعث بنتا ہے۔
پاکستان میں انصاف کے بحران کی ایک بڑی وجہ طبقاتی تفریق ہے۔ یہاں قانون کتابوں میں سب کے لیے برابر نظر آتا ہے، مگر عملی طور پر اس کا اطلاق مختلف ہے۔ طاقت ور، بااثر اور صاحبِ اقتدار افراد کے لیے الگ معیار ہے، جب کہ عام آدمی کے لیے الگ۔ بڑے بڑے مالی اسکینڈل، سیاسی بدعنوانی، سرکاری وسائل کی لوٹ مار اور انسانی حقوق کی پامالی کے واضح واقعات برسوں عدالتوں میں گھومتے رہتے ہیں، یا پھر فائلوں میں دب جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک غریب آدمی معمولی الزام میں برسوں جیل میں سڑتا رہتا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف انصاف کی روح کے منافی ہے، بل کہ ریاستی ڈھانچے کو بھی کھوکھلا کرتا ہے۔
عدلیہ کا کردار کسی بھی جمہوری معاشرے میں نہایت اہم ہوتا ہے۔ آئین کی بالادستی، شہری آزادیوں کا تحفظ اور ریاستی اداروں کے درمیان توازن قائم رکھنا عدلیہ کی بنیادی ذمے داری ہے، مگر ہمارے ہاں عدلیہ اکثر دباو، تنازعات اور داخلی کم زوریوں کا شکار رہی ہے۔ بعض اوقات عدالتی فیصلے انصاف سے زیادہ طاقت ور حلقوں کی خواہشات کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی نظریۂ ضرورت کے نام پر آئین توڑا جاتا ہے اور کبھی خاموشی اختیار کرکے ناانصافی کو پنپنے دیا جاتا ہے۔ ایسے رویے عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں اور عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ ہمارے عدالتی نظام میں لاکھوں مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ بعض مقدمات نسل در نسل چلتے ہیں، گواہ مر جاتے ہیں، شواہد ضائع ہو جاتے ہیں اور بالآخر سچ دھندلا جاتا ہے۔ اس تاخیر کا فائدہ اکثر مجرموں کو اور نقصان مظلوم کو ہوتا ہے۔ ایک مضبوط ریاست کے لیے ضروری ہے کہ انصاف نہ صرف ہوتا نظر آئے، بل کہ بروقت ہوتا ہوا محسوس بھی ہو۔ جب ریاست اپنے شہری کو فوری اور موثر انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوجائے، تو وہ شہری ریاست سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔
انصاف کے فقدان کے اثرات صرف عدالتی نظام تک محدود نہیں رہتے، بل کہ یہ معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سرمایہ کار اس ملک میں سرمایہ لگانے سے ہچکچاتے ہیں، جہاں معاہدوں کا تحفظ یقینی نہ ہو اور تنازعات کا منصفانہ حل ممکن نہ ہو۔ عام شہری ٹیکس دینے سے کتراتا ہے، کیوں کہ اُسے یقین نہیں ہوتا کہ اس کے وسائل منصفانہ طور پر استعمال ہوں گے۔ سیاسی نظام کم زور پڑ جاتا ہے، کیوں کہ عوام کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ یوں ایک شیطانی چکر جنم لیتا ہے، جو ریاست کو مسلسل کم زور کرتا چلا جاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں عدل و انصاف کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن و سنت میں بارہا انصاف قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چاہے وہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ریاستِ مدینہ کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں خلیفۂ وقت بھی عدالت میں عام شہری کے برابر کھڑا ہوتا تھا۔ بدقسمتی سے ہم اسلام کے نام پر تو بہت بات کرتے ہیں، مگر اس کی بنیادی اقدار، خصوصاً انصاف، کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک فلاحی اور اسلامی ریاست چاہتے ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے انصاف کو ترجیح دینا ہوگی۔
اس صورتِ حال کا حل محض تقاریر یا بیانات میں نہیں، بل کہ عملی اصلاحات میں ہے۔ عدالتی نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ ججوں کا تقرر شفاف ہونا چاہیے، اُن کی تربیت جدید تقاضوں کے مطابق کی جائے اور ان پر کسی قسم کا دباو قابلِ قبول نہ ہو۔ عدالتی عمل کو تیز کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا موثر استعمال ناگزیر ہے۔ مقدمات کی غیر ضروری طوالت کو ختم کرنے کے لیے سخت ٹائم لائنز مقرر کی جائیں اور ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ وکلا اور عدالتی عملے کی جواب دہی بھی لازم ہے، تاکہ انصاف کے عمل کو کاروبار نہ بننے دیا جائے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ قانون کی بالادستی کو بلا امتیاز نافذ کیا جائے۔ چاہے کوئی کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، اسے قانون کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ جب عوام دیکھیں گے کہ بڑے مجرم بھی سزا پا رہے ہیں اور کم زور کو بھی انصاف مل رہا ہے، تو ان کا ریاست پر اعتماد بہ حال ہوگا۔ یہی اعتماد ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔پاکستان کے بیش تر مسائل کا حل عدل و انصاف کی فراہمی میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم نے اس بنیادی اُصول کو نظرانداز کیے رکھا، تو معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور سماجی امن محض خواب ہی رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بہ طور قوم اور بہ طور ریاست انصاف کو محض نعرہ نہیں، بل کہ عملی حقیقت بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو بحرانوں سے نکال کر ایک مضبوط، باوقار اور مستحکم ریاست بناسکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










