پاکستان کے قیام کا تصور تھا کہ ہر صوبہ برابری کی بنیاد پر فیڈریشن کا حصہ ہوگا اور وفاق کا مرکزی ڈھانچا انصاف پر مبنی ہوگا، جہاں کسی ایک صوبے کو دوسرے صوبے پر اجارہ داری حاصل نہیں ہوگی۔
تاریخ کی طویل مسافت اور روزمرہ کی تلخ حقیقتوں نے یہ واضح کر دیا کہ یہ تصور کسی حد تک محض خواب ہی رہا۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد مرکز اور صوبوں کے درمیان صوبائی وسائل پر حق، اختیار اور تقسیم کے معاملات پر جو اختلافات اور کش مہ کش شروع ہوئی تھی، وہ آج بھی جاری و ساری ہے، یا یوں کَہ لیجیے کہ حالات جوں کے توں ہیں۔
بعض طاقت ور نادیدہ قوتوں کی پشت پناہی نے بہ تدریج وفاقی ڈھانچے کو کم زور کیا اور نتیجتاً باقی صوبوں میں بے چینی، مایوسی اور نفرت کے جذبات میں اضافہ ہوا۔ ان تنازعات کو ختم کرنے کے لیے مخلصانہ رویے اور خلوص کا مظاہرہ بہت کم دیکھنے میں آیا۔ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ اس کش مہ کش کی نوعیت میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ضرور دیکھی گئیں، لیکن اس کا مکمل خاتمہ ممکن نہ ہوسکا۔
مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش)، جو آبادی اور وسائل کے لحاظ سے پاکستان کا ایک اہم حصہ تھا، مسلسل وفاقی ناانصافیوں اور استحصال کا شکار رہا۔ جب اُسے یہ احساس ہوا کہ قومی زبان، آئین سازی، سیاسی نمایندگی، وسائل کی تقسیم اور ترقی کے معاملات میں اُس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، تو ایسے اختلافات نے جنم لیا جو 25 سال بعد ملک ٹوٹنے پر منتج ہوئے۔
پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد یہ اُمید پیدا ہو گئی تھی کہ صوبائی وسائل پر حق، اختیار اور تقسیم کے حوالے سے مرکز اور صوبوں کے درمیان حدود طے ہونے کے بعد معاملات سنور جائیں گے۔ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اپنی حدود کے اندر قدرتی وسائل پر مرکز کے ساتھ مشترکہ اور مساوی، جب کہ بعض معاملات میں انفرادی حق بھی حاصل ہوا…… مگر پیپلز پارٹی حکومت کے خاتمے اور مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ تصور زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔ مسلم لیگی دورِ حکومت میں وسائل پر حق، اختیار اور تقسیم کے تنازعات ایک بار پھر سر اُٹھانے لگے۔ ملکی وسائل کی تقسیم پر اگر نظر ڈالی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں صوبوں اور مقامی آبادی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔
گیس جن صوبوں سے حاصل ہورہی ہے، وہ صوبے اور وہاں کی مقامی آبادی اس سہولت سے محروم ہیں۔ جہاں مقامی لوگ اپنے وسائل سے محروم ہوں اور دوسرے اُن سے فائدہ اُٹھا رہے ہوں، تو ظاہر ہے کہ نفرتیں بڑھتی ہیں۔ بلوچستان میں سوئی کے مقام پر سب سے پہلے 1950ء میں گیس دریافت ہوئی، مگر وہاں کی اکثریتی آبادی آج بھی اس سہولت سے محروم ہے۔ یہ کون سا انصاف ہے کہ جس علاقے کے وسائل ہوں، وہی علاقہ اُن سے محروم رہے!
اسی طرح تیل پیدا کرنے والے صوبوں اور علاقوں میں غربت اور بے روزگاری پائی جاتی ہے، جب کہ غیر پیداواری علاقوں کے لوگ ان وسائل سے مستفید ہو رہے ہیں۔ بجلی کی پیداوار میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ہونے والی ناانصافی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ صوبے سے نہایت کم لاگت پر پیدا ہونے والی بجلی وفاق خرید کر عوام کو پچاس گنا زیادہ قیمت پر فی یونٹ فروخت کرتا ہے، مگر صوبے کو اس آمدن میں سے زرِ خرید کی مکمل ادائی بھی نہیں کی جاتی۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں بجلی پانی سے پیدا کی جاتی ہے، جس کی لاگت انتہائی کم ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام سے تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کے حساب سے فی یونٹ بل وصول کیے جاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک سے کم نہیں۔
پانی کی تقسیم پر نظر ڈالیں، تو اس میں بھی بنیادی طور پر پنجاب کو فائدہ دیا گیا ہے۔ بڑے ڈیموں اور نہروں کی تعمیر میں ہمیشہ پنجاب کی زرعی ضروریات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی ایوارڈ) میں تقسیم کا بنیادی معیار آبادی رکھا گیا ہے، جب کہ وسائل کی پیداوار، غربت اور محرومی کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔
آمدنی کی تقسیم میں پنجاب کو 51.74 فی صد، سندھ کو 24.55 فی صد، خیبر پختونخوا کو 14.62 فی صد اور بلوچستان کو 9.09 فی صد حصہ ملتا ہے۔ حالاں کہ وسائل کی پیداوار میں سندھ اور بلوچستان کا حصہ پنجاب سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وسائل پیدا کرنے والے صوبے غربت، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں اور اُن کے وسائل سے پنجاب ترقی کر رہا ہے ۔ یہ تقسیم وفاقی انصاف کے بجائے وفاقی استحصال کی مثال بن چکی ہے۔
یہ ناانصافیاں کسی بھی ریاست کے سماجی، معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ جب ایک صوبے کو دوسرے صوبوں پر اجارہ داری دینے کے لیے ریاست کے مقتدر ادارے پشت پناہی کریں گے، تو باقی صوبوں میں نفرت اور بددلی ہی جنم لے گی۔ یہ بددلی اور نفرت کسی بھی وقت بارود کا ڈھیر بن کر فیڈریشن کی عمارت کو ہوا میں اُڑا سکتی ہے۔
موجودہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں مشرقی پاکستان جیسے زخم آج بھی موجود ہیں، جو اگر نہ بھرے گئے، تو مستقبل میں مزید انتشار کا سبب بن سکتے ہیں۔ ریاست کی سالمیت کے لیے ضروری ہے کہ وسائل کے حق اور تقسیم میں انصاف لایا جائے۔ جہاں کے وسائل ہوں، اُسی صوبے اور مقامی آبادی کو اُس کا حق دیا جائے ۔ این ایف سی ایوارڈ میں صرف آبادی کو معیار نہ بنایا جائے، بل کہ وسائل کی پیداوار، غربت، محرومی، ضرورت اور انسانی ترقی کے اشاریوں کو بھی شامل کیا جائے۔ پانی کی تقسیم کو منصفانہ بنایا جائے۔ تمام صوبوں کو برابری کی بنیاد پر فیصلوں میں شامل کیا جائے اور اسٹیبلشمنٹ کا اپنے روایتی کردار سے دست بردار ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔
حکم رانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وفاق طاقت سے نہیں، بل کہ انصاف سے مضبوط ہوتا ہے۔ اگر ناانصافیاں جاری رہیں، تو فیڈریشن کچی دیوار بن کر گر سکتی ہے۔ سیاسی نفرتیں، ذاتی عناد اور دشمنیاں ریاست کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہو سکتیں۔ خصوصاً اس صورتِ حال میں جب پاکستان کا مغربی بارڈر ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کا شکار ہے۔ مشرقی سرحد پر بھارت موقع کی تاک میں ہے…… اور اگر امریکہ اور اسرائیل ایران میں رجیم چینج میں کام یاب ہوجاتے ہیں، تو پاکستان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس لیے حکم رانوں کو چاہیے کہ وہ ملکی استحکام کی خاطر سیاسی نفرتوں اور ذاتی دشمنیوں کو پسِ پشت ڈال کر مخالف سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










