ہمارے ہاں شجرکاری کا موسم اُس وقت شروع ہوتا ہے، جب شدید سردی کا زور ٹوٹ جائے، موسم نسبتاً معتدل ہو اور بارشیں معمول سے کچھ زیادہ ہونے لگیں۔ عموماً یہ موسمی کیفیت فروری کے دوسرے ہفتے سے پیدا ہونا شروع ہوتی ہے، جو شجرکاری کے لیے نہایت موزوں سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کسی کا شجرکاری کا ارادہ ہو، تو بہتر یہی ہے کہ زمین کی تیاری اس سیزن سے پہلے ہی شروع کر دی جائے۔ کیوں کہ بروقت تیاری بعد میں بہتر نتائج دیتی ہے۔
اس حوالے سے شجرکاری کے لیے گھڑے کھودنے کا عمل جتنا جلدی شروع کیا جائے، اتنا ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔ کیوں کہ جب گھڑے کچھ عرصہ کھلے رہتے ہیں، تو سورج کی روشنی ان پر پڑنے کی وجہ سے مٹی میں موجود نقصان دِہ کیڑے اور فنگس بڑی حد تک ختم ہوجاتے ہیں، جب کہ بارش کا پانی مٹی کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ غیر پتھریلی زمین میں پھل دار درختوں کے لیے کم از کم دو بائی دو فٹ کے گھڑے کافی ہوتے ہیں، تاہم اگر زمین پتھریلی ہو، تو گھڑے کا سائز کم از کم ڈھائی بائی ڈھائی فٹ ہونا چاہیے۔ اسی طرح جنگلی یا زیادہ تن آور درختوں کے لیے تین بائی تین فٹ تک گھڑا کھودنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔
پودے لگانے سے تین تا چار ہفتے پہلے کھاد کا استعمال نہایت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے گلی سڑی گوبر کی کھاد کو مٹی میں اچھی طرح ملا کر گھڑے میں ڈالنا چاہیے اور پھر اسے کھلا چھوڑ دینا چاہیے، تاکہ مٹی بیٹھ جائے…… لیکن اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ کھاد کو پودے کی جڑ سے چھے تا آٹھ انچ دور رکھا جائے۔ کھاد یا تو زمین کی تیاری کے وقت استعمال کی جائے، یا پھر پودا لگانے کے ایک دو ماہ بعد، جب پودا نئے پتے نکالنا شروع کر دے۔
اس حوالے سے یوریا کے استعمال سے حتی الامکان اجتناب کرنا چاہیے، جب کہ ڈی اے پی یا این پی کے محدود مقدار میں، یعنی ایک پاو فی پودا سے زیادہ نہیں استعمال کیا جاسکتا۔ شدید سردی یا برف باری کے دوران میں کھاد کا استعمال ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔
پودے خریدتے وقت بھی احتیاط بے حد ضروری ہے۔ ایسے پودے منتخب کرنے چاہییں، جن کے پتے سبز اور تروتازہ ہوں، جڑوں میں سڑن یا بدبو نہ ہو اور پودا پولی بیگ میں جڑوں سے مکمل بھرا ہوا نہ ہو۔ بہت لمبے ، کم زور، پیلے یا مرجھائے ہوئے پودے لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ایسے پودے نئی جگہ پر آسانی سے نشو و نما نہیں پاسکتے۔ پودے کی مناسب لمبائی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ کیوں کہ بہت چھوٹا پودا جلد سوکھ جانے کا خدشہ رکھتا ہے، جب کہ بہت بڑا پودا نئی زمین میں ایڈجسٹ نہیں ہو پاتا۔
جنگلی درختوں، مثلاً: دیار، کیل، چیڑ اور سپین دیار کے لیے ڈیڑھ سے تین فٹ اونچائی کے پودے موزوں ہوتے ہیں، جب کہ پھل دار درختوں جیسے سیب، اخروٹ، خوبانی اور ناشپاتی کے لیے تین سے پانچ فٹ اونچائی، پنسل کے برابر یا اس سے کچھ زیادہ موٹائی اور کم از کم ایک سال عمر کا پودا بہتر رہتا ہے۔
پھل دار درخت ہمیشہ ’’گرافٹڈ‘‘ لگانے چاہییں۔ کیوں کہ گرافٹڈ پودے جلد پھل دیتے ہیں، بیماریوں کے خلاف زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور یک ساں و معیاری پھل دیتے ہیں۔ ایسیپودے کے تنے پر جوڑ کا نشان واضح ہوتا ہے۔ پودا لگاتے وقت یہ ضروری ہے کہ یہ جوڑ زمین سے تین سے چار انچ اوپر رہے اور مٹی کے اندر دفن نہ ہو۔
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شجرکاری کے لیے کھلی زمین کا ہونا لازمی ہے۔ حالاں کہ جدید زرعی طریقوں کی بہ دولت اب کم جگہ میں بھی شجرکاری ممکن ہوچکی ہے۔ صحن، بالکونی، چھت، برآمدا حتیٰ کہ کمروں اور دفاتر میں بھی پودے لگائے جاسکتے ہیں۔ گملوں میں شجرکاری سب سے آسان طریقہ ہے، جس کے لیے مٹی، ریت اور گلی سڑی گوبر کی کھاد کا آمیزہ استعمال کرکے لیموں، تلسی، پودینہ، دھنیا، مرچ، گلاب اور منی پلانٹ جیسے پودے اُگائے جا سکتے ہیں۔
گملوں کے علاوہ ’’ری سائیکل‘‘ بوتلوں میں بھی شجرکاری کی جاسکتی ہے، جنھیں دیواروں یا بالکونی کی ریلنگ پر لٹکا کر عمودی باغ بانی کی جاسکتی ہے۔
اسی طرح پانی میں پودے اُگانے کا طریقہ، جسے ’’ہائڈروپونکس‘‘ کہا جاتا ہے، آج کل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ شیشے کے گلاس یا جار میں صاف پانی اور تھوڑی سی مائع کھاد شامل کر کے سبز پیاز، پودینہ، دھنیا، منی پلانٹ اور تلسی جیسے پودے با آسانی اُگائے جا سکتے ہیں۔ کپڑے یا گرو بیگ میں آلو، ٹماٹر اور شملہ مرچ جیسی سبزیاں اُگانا بھی ایک کارآمد طریقہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شجرکاری اب صرف کھلی اور زرعی زمینوں تک محدود نہیں رہی، بل کہ اس جدید دور میں ہر شخص اپنے گھر، دفتر یا محدود جگہ میں بھی شجرکاری کرسکتا ہے اور ماحول کو سرسبز و شاداب بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے اور اس نیک عمل کا حصہ بن سکتا ہے۔
اگر ہم تھوڑی سی توجہ اور مستقل مزاجی کے ساتھ شجرکاری کریں، تو نہ صرف اپنے ماحول کو خوب صورت بناسکتے ہیں، بل کہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند، خوش گوار اور سرسبز مستقبل بھی یقینی بناسکتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










