ایم ٹی آئی ایکٹ، معلومات کا شور اور علم کی کمی

Blogger Sajid Aman, Swat

ہمیں ڈھیر ساری چیزوں کا پتا ہوتا ہے، مگر ہمارے پاس متعلقہ علم نہیں ہوتا۔ انفارمیشن اور نالج کے درمیان فرق ہوتا ہے ، اور اسی فرق میں اُلجھ کر ہم کئی دفعہ اچھے یا برے، غلط یا صحیح فیصلے کرتے ہیں، یا تو اُن سے فائدہ اُٹھاتے ہیں یا پھر اُن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
’’میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ ایکٹ، خیبر پختونخوا، 2015ء‘‘ (عرف عام میں ایم ٹی آئی ایکٹ)، ’’بیوروکریٹ طرزِ مینجمنٹ‘‘ سے ’’خودمختار طرزِ مینجمنٹ‘‘ کی طرف منتقلی کا ایکٹ ہے، اور خود یہ اپنی تعریف بھی یہیں سے شروع کرتا ہے۔ اس ایکٹ کو آسانی سے پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے…… مگر سوال یہ ہے کہ کیا سوات میں ایم ٹی آئی کے حق یا مخالفت میں بات کرنا صحیح ہے یا غلط؟
سیدو میڈیکل کالج کا قیام کوئی معجزہ تو نہیں تھا، بل کہ یہ سیاسی کاوش، اُس دور کے لوگوں کی محنت اور تکنیکی طور پر تمام ضابطوں سے انحراف اور اُن کی حدود سے تجاوز کا نتیجہ تھا۔ کیوں کہ میڈیکل کالج کے لیے مطلوبہ بیڈز دست یاب نہیں تھے، اس وجہ سے الائیڈ ہسپتالوں یا سیدو گروپ کے اِردگرد موجود ہر چیز کو محض خانہ پری کے لیے وقتی طور پر ’’ٹیچنگ ہسپتال‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ فیکلٹی کو پورا کرنے کے لیے ’’اگینسٹ دی پوسٹ‘‘ ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹس کو ٹیچنگ ہسپتال کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ یہ ایک عبوری منصوبہ بندی تھی، جس کا مقصد میڈیکل کالج کا حصول تھا…… اور اس کے فوری بعد مطلوبہ معیار و مقدار کے مطابق ہسپتال تعمیر کر کے ’’سٹیٹس کو‘‘ سے ایک فعال نظام کی طرف جانا تھا۔
سیدو شریف گروپ آف ٹیچنگ ہاسپٹل المعروف ’’سور ہسپتال‘‘ (یعنی سرخ ہسپتال) میں 1200 بیڈز کے اضافی منصوبے کا آغاز ہوا، مگر سرد مہری یا سیاسی نابالغی نے اسے جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے کے بہ جائے ایک غیر اہم منصوبہ بنا دیا۔ آج بھی اس منصوبے کا 50 فی صد سے زیادہ حصہ محض کاغذوں میں موجود ہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ ابتدائی طور پر ایک فعال میڈیکل کالج، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ستونوں پر کھڑا ہو اور اسے ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دیا جائے، بعد ازاں ایک مکمل ٹیچنگ ہسپتال تعمیر کر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی خدمات واپس کی جائیں۔
اب بحث یہ ہونی چاہیے کہ اگر بلی ایک کلو ہے اور ایک کلو گوشت کھاگئی ہے، اور پھر بھی بلی کا وزن محض ایک کلو ہی ہے ، تو سوال اُٹھتا ہے کہ اگر یہ بلی ہے، تو گوشت کہاں گیا…… اور اگر یہ گوشت ہے، تو بلی کہاں گئی؟
’’ایم ٹی آئی‘‘ دراصل ایک انتظامی نظام کی بات ہے کہ اسے مروجہ سرکاری ذرائع سے چلایا جائے، یا خان کے ’’نئے وژن‘‘ کے تحت خودمختار کیا جائے۔ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال سرے سے موجود ہی نہیں۔ حکومتِ خیبر پختونخوا کے اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہر 5 لاکھ آبادی کے لیے ایک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہونا چاہیے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سوات میں 3 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہونے چاہییں۔ اب ڈی ایچ کیو ہسپتال اور کٹیگری اے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں واضح فرق ہوتا ہے۔
قارئین! اس باریک نکتے کو ایک عام سی مثال کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں…… جس طرح حکومت نے پابندی عائد کی ہے کہ آیندہ کوئی ہائی اسکول نہیں بنایا جائے گا، بل کہ ہائر سیکنڈری اسکول ہی قائم ہوگا، تاکہ اسکول اور کالج کی تمام تعلیم ایک ہی جگہ ہو اور یونیورسٹی لیول کی تعلیم کے آغاز کے لیے الگ ماحول فراہم کیا جاسکے۔ ٹھیک اسی طرح ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے 200 بیڈ کے فرسودہ نظام کو ختم کرکے 800 بیڈ پر مشتمل کٹیگری اے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال متعارف کروائے گئے۔
اب یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں صحت کے نظام کو اوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر دیکھنا ہوگا۔ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں ایم بی بی ایس کے بعد اسپیشلائزیشن کے لیے داخلے ہوتے ہیں اور اسی معیار کا ہسپتال ہوتا ہے۔ بنیادی مقصد اُن فلٹر شدہ امراض اور مریضوں پر تعلیم اور تحقیق کرنا ہوتا ہے، جو نچلے ہسپتالوں سے یہاں آتے ہیں اور جنھیں یہاں سے مزید ریفر نہیں کیا جاسکتا۔
ٹیچنگ ہسپتال اور کالج میں ایم بی بی ایس یا مساوی تعلیم و تحقیق کے مطابق کالج اور ہسپتال ہوتا ہے، جہاں نئے ڈاکٹر تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے…… اور اس کے ساتھ وہ تمام مطلوبہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جو ایک مستقبل کے ڈاکٹر کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔ یہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال یا نچلی سطح سے ریفر کیے گئے امراض اور مریض آتے ہیں، جن پر میڈیکل شعبہ، علاج، تحقیق اور تعلیم کا کام کرتا ہے۔
کٹیگری اے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال دراصل ایک ڈسٹرکٹ اسپیشلائزڈ ہسپتال ہوتا ہے، جہاں تمام نچلی کٹیگری کے ہسپتالوں سے فلٹر شدہ مریض آتے ہیں۔ یہاں بنیادی مقصد بیماریوں کا علاج ہوتا ہے، اس کے علاوہ کوئی تعلیمی مقصد نہیں ہوتا۔ البتہ یہاں میڈیکل کالجوں اور دیگر میڈیکل انسٹیٹیوٹوں سے فارغ التحصیل ڈاکٹر اور دیگر اسٹاف اپنے آخری سال کے عملی تعلیمی اوقات مختلف شعبہ جات میں اسسٹنٹ ڈاکٹر یا اسٹاف کے طور پر گزارتے ہیں، تاکہ وہ مختلف عملی شعبوں میں وقت گزار کر اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں اور عملی طور پر ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹس کی نگرانی میں اپنے علم اور تجربے کو جانچ سکیں۔
اب مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ حکومت نے دیے پچاس پیسے ہیں اور حساب کتاب کر رہی ہے 100 روپے کا۔ اس موقع پر ’’ننگی کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی‘‘ والی کہاوت یاد آتی ہے۔ برسرِ زمیں ٹیچنگ ہاسپٹل موجود ہے، نہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہاسپٹل…… اور جھگڑا یہ شروع کروا دیا گیا ہے کہ انتظامی نظام کون سا ہوگا؟
میری ناقص رائے کے مطابق اب یہ وقت ہے کہ پوری قوم یک جا ہو کر اس بحث کو ختم کرے۔ کیوں کہ اگر فیصلے محض اطلاعات اور معلومات کی بنیاد پر کیے گئے، تو ڈی ایچ کیو ہاسپٹل یا میڈیکل کالج میں سے کسی ایک سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
اگر علم کی بنیاد پر بات کی جائے تو:
اوّل، میڈیکل کالج کے لیے الگ ایک میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ کے فوری قیام کا فیصلہ کیا جائے۔
دوم، عوام کے علاج اور صحت کی سہولیات کے لیے فوری طور پر ایک کٹیگری اے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہاسپٹل کے قیام کا فیصلہ کیا جائے۔
اس کے علاوہ کسی اور فیصلے میں سوات کا اور قوم کا نقصان ہے اور بس……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے