تجزیۂ سیارہ اور تخلیق کا داخلی کرب

Blogger Noor Muhammad Kanju

گذشتہ رات بھارتی فلم ’’سیارہ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس نے اپنے اچھوتے موضوع اور گہری جذباتی پرتوں کی بہ دولت ذہن پر اَن مٹ نقوش چھوڑ دیے۔ نئی کاسٹ کے باوجود اس فلم نے ’’الزائمر‘‘ کے مریض کی حالتِ زار اور شوبز کی دنیا کے پیچیدہ معاملات کو جس مہارت سے پیش کیا ہے، وہ قابلِ دید ہے۔ تاہم، اس فلم سے مَیں نے جو سب سے گہرا تاثر لیا، وہ ایک فن کار کی داخلی دنیا اور اُس کی تخلیق کے لیے سازگار ماحول کی ناگزیر ضرورت ہے۔
مذکورہ فلم ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ تخلیق محض الفاظ کو ترتیب دینے، سازوں پر اُنگلیاں پھیرنے یا کینوس پر رنگ بکھیرنے کا نام نہیں، بل کہ یہ فن کار کے اُس باطنی اُبال کا نتیجہ ہوتی ہے، جو اُسے چین لینے نہیں دیتا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک شاہ کار فن پارہ کبھی خلا میں تخلیق نہیں ہوتا۔ اسے وجود میں لانے کے لیے ایک مخصوص ذہنی فضا اور قلبی کیفیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
فن کار کی مثال اُس صدف کی سی ہے، جو سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں سکون ڈھونڈتا ہے، تاکہ قطرۂ نیساں کو موتی میں ڈھال سکے۔ تخلیقی صلاحیت کو پنپنے کے لیے وہ سکون اور وہ تنہائی ناگزیر ہے، جسے دنیا اکثر بے عملی یا گوشہ نشینی سے تعبیر کرتی ہے۔ حالاں کہ یہی وہ وقت ہوتا ہے، جب فن کار کے شعور کے نہاں خانوں میں نئے جہاں جنم لے رہے ہوتے ہیں۔ شوبز کی چمکتی دمکتی دنیا، جہاں فن کو ایک پراڈکٹ اور فن کار کو ایک مشین سمجھ لیا جاتا ہے، وہاں تخلیق کے ان نازک پہلوؤں کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مارکیٹ کے تقاضے اور کمرشل مجبوریاں فن کار سے اُس کا وہ سکون چھین لیتی ہیں، جو شاہ کار کی پہلی شرط ہے۔ فن کار کو ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرنا ضروری ہے، جہاں اس کی فکر پروان چڑھ سکے، اُسے یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے دکھوں، اپنی یادوں اور اپنی تنہائیوں کو ایک شاہ ہکار کی صورت دے سکے۔
تخلیق کا یہ عمل کبھی میکانکی نہیں رہا۔ یہ ہمیشہ سے ایک داخلی واردات رہا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا کے عظیم ترین فن پارے کسی نہ کسی گہرے جذباتی صدمے یا تلاطم کے مرہونِ منت رہے ہیں۔ یہ ’’موٹیویشنل ٹرگر‘‘ یا جذباتی محرک ہی وہ داخلی ایندھن ہے، جو فن کار کے وجود میں چھپے آتش فشاں کو بیدار کرتا ہے۔ ایک فن کار جب تک خود کسی کرب، مسرت یا تڑپ کی بھٹی سے نہیں گزرتا، اُس کی تخلیق میں وہ کسک پیدا نہیں ہوسکتی، جو دوسروں کے دلوں کو چھولے۔ یہ محرک کبھی عشق کی ناکامی ہوتا ہے، کبھی ہجر کا دکھ اور کبھی وجودی تنہائی کا وہ احساس، جو انسان کو اپنی حقیقت تلاش کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جب ہم کسی شاہ کار کو دیکھتے ہیں، تو دراصل ہم اس فن کار کے انھی جذباتی تاروں کی گونج سن رہے ہوتے ہیں، جنھیں زندگی کے کسی حادثے یا تجربے نے چھیڑا ہوتا ہے۔
اس ضمن میں یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ ہر فن کار کا جذباتی محرک مختلف ہوسکتا ہے، مگر اُس کا ’’شدید‘‘ ہونا لازم ہے۔ جب فن کار کے اندر کا انسان کسی خاص کیفیت سے مغلوب ہوتا ہے، تو اُس کا شعور ایک ایسی فریکوئنسی پر کام کرنے لگتا ہے جہاں سے الہام کے راستے کھلتے ہیں۔ بغیر کسی جذباتی تحریک کے تخلیق کیا گیا فن محض ایک ’’دست کاری‘‘ تو ہو سکتا ہے، لیکن وہ ’’شاہ کار‘‘ نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ اُس میں وہ روح غائب ہوتی ہے، جو صرف سچے جذباتی تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔
فلم ’’سیارہ‘‘ میں الزائمر کے پس منظر میں یادداشت کے بکھرنے کو دکھانا دراصل اسی المیے کی عکاسی ہے کہ جب یادیں دھندلا جائیں، تو جذبوں کا ایندھن بھی ختم ہونے لگتا ہے۔ شاہ کار کی تخلیق کے لیے فن کار کو اُس ’’چوٹ‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس کے تخیل کے بند دروازے کھول دے۔ جب تک دل و دماغ کے تار کسی حقیقی جذبے سے نہیں لرزتے، تب تک کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اُٹھانے والا فن پارہ جنم نہیں لیتا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے