شعبۂ صحت اور نج کاری کا المیہ

Blogger Sajid Aman

والیِ سوات کا قائم کردہ پُرشکوہ سیدو ہسپتال آخرِکار خودمختاری کے نام پر نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ حکومتی نااہلی، اراکینِ اسمبلی کی بدعنوانی اور نااہلی کا بین ثبوت ہے اور ریاست کے اپنے عوام سے کیے گئے وعدے (مفت، جدید اور آسان علاج) سے انکار ہے۔
صحت کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے…… جس قوم کے افراد بیمار، کم زور اور علاج سے محروم ہوں، وہ ترقی کی دوڑ میں کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں صحت جیسے بنیادی انسانی حق کو آہستہ آہستہ ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور اس عمل کو خوش نما لفظ ’’نج کاری‘‘ کا جامہ پہنایا گیا ہے۔
نج کاری کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ سرکاری ہسپتال ناکارہ، بدانتظامی کا شکار اور وسائل کی کمی سے دوچار ہیں، اس لیے نجی شعبہ ہی بہتری لاسکتا ہے۔ بہ ظاہر یہ دلیل دل کش لگتی ہے، مگر جب ہم زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں، تو تصویر کا دوسرا رُخ کہیں زیادہ تلخ اور خوف ناک نظر آتا ہے۔
نجی ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے مریض سے اس کی بیماری نہیں، بل کہ اس کی جیب پوچھی جاتی ہے۔ رجسٹریشن فیس، اُو پی ڈی چارجز، لیبارٹری ٹیسٹ، اسکین، ادویہ اور پھر بیڈ کے کرائے…… یہ سب مل کر علاج کو عام آدمی کی پہنچ سے باہر کر دیتے ہیں۔ ایک مزدور یا متوسط طبقے کا فرد اگر شدید بیماری میں مبتلا ہوجائے، تو علاج کے ساتھ ساتھ اُسے قرض، ذلت اور بے بسی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
نج کاری کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے صحت میں طبقاتی تقسیم پیدا ہو جاتی ہے۔ امیر کے لیے ایئرکنڈیشنڈ وارڈ، ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم اور جدید مشینری، جب کہ غریب کے لیے یا تو ناکافی سہولتیں یا پھر دروازے مکمل طور پر بند۔ یوں صحت مساوات کے بہ جائے عدم مساوات کی علامت بن جاتی ہے۔
دیہی علاقوں اور پس ماندہ خطوں میں صورتِ حال مزید سنگین ہے۔ نجی شعبہ وہاں قدم رکھنے کو تیار نہیں، جہاں منافع کم ہو۔ نتیجتاً بڑے شہروں میں ہسپتالوں کی بھرمار اور دیہات میں بنیادی مراکزِ صحت بھی ویران۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر ریاست بھی پیچھے ہٹ جائے، تو ان علاقوں کے باسی کہاں جائیں؟
منافع کی دوڑ نے طبی اخلاقیات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ غیر ضروری ٹیسٹ، مہنگے اسکین اور بلاجواز طریقۂ علاج اب ایک معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر، جو کبھی مسیحا سمجھا جاتا تھا، نجی نظام میں اکثر اوقات انتظامیہ کے مالی دباو میں آ جاتا ہے ۔ مریض کی ضرورت ثانوی اور ٹارگٹ پورا کرنا اولین مقصد بن جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ نج کاری کے نتیجے میں حکومت اپنی آئینی اور اخلاقی ذمے داری سے دست بردار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ صحت کا بجٹ کم، سرکاری ہسپتال نظر انداز اور عوام کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ریاست، صحت کے شعبے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سرکاری نظام میں خامیاں ہیں، مگر ان کا حل مکمل نج کاری نہیں۔ حل یہ ہے کہ سرکاری صحت کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، شفافیت لائی جائے، ڈاکٹروں اور عملے کو سہولتیں دی جائیں اور نجی شعبے کو سخت ریاستی نگرانی کے تحت شامل کیا جائے ۔ صحت کوئی ’’لگژری‘‘ نہیں، بل کہ انسانی حق ہے۔ اگر ہم نے اسے صرف منافع کے ترازو میں تولنا جاری رکھا، تو ایک دن ایسا آئے گا، جب بیماری تو عام ہوگی، مگر علاج صرف خاص لوگوں کا حق بن کر رہ جائے گا۔ ریاست، معاشرہ اور پالیسی سازوں کو آج یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا انسانی جان واقعی کاروبار سے کم قیمتی ہے؟
خیبرپختونخوا میں صحت کا شعبہ مکمل طور پر حکومتی بے توجہی اور بے حسی کا شکار ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کو خودمختاری کے نام پر پرائیویٹ کنٹریکٹروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ صحت کے نظام میں انسانوں کے حقوق سے زیادہ ٹھیکے داروں اور فرنٹ مینوں کا منافع دیکھا جا رہا ہے۔ صوبے کے بڑے ہسپتال پچھلی ایک دہائی میں بہتر ہونے کے بہ جائے سنسان ہو گئے ہیں۔ لائق ڈاکٹر ہسپتال نہیں، بل کہ ملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں اور ان کی جگہ کم تنخواہوں پر تیسرے اور چوتھے درجے کے ڈاکٹروں کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جا رہا ہے۔
یہ کھلواڑ صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے کے ساتھ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس لیے مَیں یہ کہنے میں حق بہ جانب ہوں کہ اگر ریاست کو اسی طرح چلانے کا پروگرام بنایا گیا ہے، تو نظام کا پہیا جام ہونا ہمارا مقدر ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے