ڈاکٹر شیبر میاں (مرحوم) اُن نایاب انسانوں میں شمار ہوتے تھے، جن کی زندگی محض عمر پوری کرنے کا عمل نہیں، بل کہ خدمت، شعور، اخلاق اور انسان دوستی کی مسلسل ریاضت تھی۔ وہ ایسے شخص تھے، جنھوں نے اپنے طرزِ عمل، سوچ اور کردار سے یہ حقیقت واضح کر دی کہ اصل عظمت نہ تو شور اور شہرت میں پوشیدہ ہے، نہ اقتدار کے ایوانوں میں اور نہ دولت کے انباروں ہی میں، بل کہ اصل بلندی اس خاموش خدمت میں ہے، جو کسی اشتہار کی محتاج نہ ہو، کسی صلے کی طلب گار نہ ہو اور کسی پہچان کی خواہش سے آزاد ہو۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی زندگی ایک ایسی کھلی کتاب تھی، جس کے ہر ورق پر سچائی، سادگی، دیانت، شرافت اور محبت کے الفاظ روشنائی بن کر ثبت تھے۔ وہ طبی دنیا سے وابستہ تھے، مگر اُن کا اثر صرف ہسپتالوں، فائلوں یا سرکاری دفتروں تک محدود نہیں رہا، بل کہ وہ ہر اُس جگہ محسوس کیے گئے، جہاں انسان درد، محرومی یا ناانصافی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ اُنھوں نے طب کو ذریعۂ معاش نہیں، بل کہ خدمتِ خلق کی ایک مقدس ذمے داری سمجھا۔ مریض کو محض تشخیص یا رپورٹ نہیں، بل کہ ایک مکمل انسان جانا، اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کے دل اور وقار کا بھی خیال رکھا۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کے لمس سے شفا پانے والے صرف جسمانی مریض نہیں تھے، بل کہ وہ دل بھی تھے، جو بے حسی، محرومی اور نظر انداز کیے جانے سے زخمی ہو چکے تھے۔ سوات کے طول و عرض میں اُن کا نام آج بھی احترام، اعتماد اور محبت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ منصب کے نمایندہ نہیں، بل کہ خدمت کے ترجمان تھے۔ بڑے عہدوں پر فائز رہ کر بھی اُنھوں نے کبھی خود کو عوام سے جدا نہیں کیا، نہ زبان میں تکلف آیا، نہ رویے میں فاصلے پیدا ہوئے۔ اُن کے دروازے ہر وقت کھلے رہے اور اُن کی مسکراہٹ میں بناوٹ یا برتری کا شائبہ تک نہیں تھا۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) اقتدار میں بھی عوامی تھے اور عہدوں سے ہٹنے کے بعد بھی عوامی رہے۔ اُن کی زندگی کا سب سے نمایاں وصف یہی تھا کہ وہ حالات کے بدلنے پر خود کو نہیں بدلتے تھے، بل کہ اُصولوں پر ڈٹ کر حالات کا سامنا کرتے تھے۔ صحت کے شعبے میں اُنھوں نے نظم، شفافیت اور انسانی ہم دردی کو فروغ دیا۔ فیصلے کرتے وقت سفارش، تعلق داری یا دباو کو نہیں، بل کہ حق، ضرورت اور انصاف کو سامنے رکھا۔ یہی اُصول پسندی اُنھیں دوسروں سے ممتاز کرتی رہی۔ وہ انتظامی منصب پر ہوں، یا سماجی ذمے داری نبھا رہے ہوں، اُن کا دفتر خوف یا رعب کی علامت نہیں، بل کہ اُمید اور اعتماد کی جگہ ہوتا تھا…… جہاں بات دبائی نہیں جاتی تھی، بل کہ سنی جاتی تھی، جہاں کم زور کو بولنے کا حوصلہ ملتا اور طاقت ور کو حدود کا احساس ہوتا ۔
سماجی میدان میں ڈاکٹر صاحب (مرحوم) نے غربت، ناانصافی اور تنازعات کے خلاف محض تقاریر پر اکتفا نہیں کیا، بل کہ عملی کردار بھی ادا کیا۔ کاغذی منصوبوں کے بہ جائے زمینی حقیقتوں کو سمجھا۔ لوگوں کو اعتماد دیا اور یہ یقین پیدا کیا کہ اگر نیت صاف ہو، تو انصاف ممکن ہے۔ اُن کی ثالثی میں حل ہونے والے معاملات صرف فیصلے نہیں ہوتے تھے، بل کہ ٹوٹتے رشتوں کو جوڑنے اور بکھرتے اعتماد کو بہ حال کرنے کی سنجیدہ کوششیں ہوتیں۔ وہ قانون کے لفظوں سے زیادہ انصاف کی روح کو مقدم رکھتے تھے۔ اسی لیے فریقین اُن کے فیصلوں کو دل سے قبول کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی سادہ طبیعت، شفیق مزاج اور بے تکلف انداز نے اُنھیں ہر دل عزیز بنا دیا۔ وہ بڑے منصب پر بیٹھ کر بھی خود کو عام آدمی سے الگ نہیں سمجھتے تھے۔ لباس سادہ، رہن سہن سادہ اور خواہشات محدود تھیں۔ وہ دکھاوے کی سیاست اور نمایش کے کلچر سے ہمیشہ دور رہے۔ اُن کے نزدیک اصل وقار خاموش خدمت میں تھا، نہ کہ اخباری سرخیوں یا نعروں میں۔
بہ طورِ والد ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی شخصیت ایک اور زاویے سے روشن نظر آتی ہے۔ اُنھوں نے اپنی اولاد کو صرف کام یاب پیشوں کی طرف نہیں، بل کہ مضبوط اقدار، شفاف سوچ اور انسان دوستی کے راستے پر ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی اخلاقی تربیت اُن کے بیٹوں میں اس طرح منتقل ہوئی کہ آج جو بھی اُن سے ملتا ہے، چاہے وہ انجینئر میاں شاہد علی ہوں، یا ڈاکٹر میاں نظام علی، یا نادرا میں خدمات انجام دینے والے میاں فواد علی، ہر شخص اس بات کا معترف نظر آتا ہے کہ یہ لوگ اپنے والد کی عملی تصویر ہیں۔ خصوصاً نادرا دفتر میں آنے والے سائلین اس بات کے گواہ ہیں کہ میاں فواد علی کس تحمل، توجہ اور خلوص کے ساتھ لوگوں کی بات سنتے ہیں، اُن کے مسائل سمجھتے ہیں اور اُنھیں محض فائل یا نمبر نہیں، بل کہ انسان سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ تربیت ہے جو کتابوں میں نہیں، بل کہ کردار سے منتقل ہوتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) نے سیاست میں قدم رکھا، تو بھی اُن کا انداز جدا رہا۔ اُنھوں نے سیاست کو ذاتی مفاد یا اقتدار کی سیڑھی نہیں، بل کہ خدمتِ عوام کا ذریعہ سمجھا۔ اقتدار کی دوڑ میں شامل ہو کر بھی وہ اقدار کے احاطے سے باہر نہیں نکلے۔ اُن کی گفت گو میں شایستگی، اختلاف میں وقار اور وعدوں میں سنجیدگی ہوتی تھی۔ وہ خالی خولی نعرے نہیں لگاتے تھے، بل کہ راستہ دکھاتے تھے۔ الزام تراشی نہیں کرتے تھے، بل کہ حل پیش کرتے تھے۔ اُن کی سیاست میں نفرت نہیں، بل کہ مفاہمت، تقسیم نہیں، بل کہ جوڑنے کی خواہش غالب رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے مخالفین بھی اُن کے کردار کا احترام کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر انسان سچ کے ساتھ کھڑا ہو، تو وقت اُسے آزماتا ضرور ہے، مگر شکست نہیں دیتا۔ اُنھوں نے زندگی کے نشیب و فراز میں بھی توازن نہیں کھویا۔ مشکل حالات میں بھی حوصلہ، تنقید میں بھی شایستگی اور اختلاف میں بھی وقار اُن کی پہچان رہا۔ علم سے اُن کا رشتہ آخری سانس تک قائم رہا۔ وہ سیکھنے کو عمر کی قید میں نہیں باندھتے تھے، بل کہ نئی سوچ، نئی تحقیق اور نئے تجربات سے ہمیشہ جڑے رہے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے، راہ نمائی دیتے اور اُنھیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے تھے۔ اُن کے شاگرد آج بھی اُن کے اندازِ فکر کو اپنا سرمایہ سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کا انتقال محض ایک فرد کی جدائی نہیں، بل کہ ایک ایسے عہد کا اختتام ہے، جس میں سادگی، دیانت اور بے لوث خدمت اب کم کم نظر آتی ہے، مگر اُن کی زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نیت درست ہو، تو ایک فرد بھی پورے معاشرے پر گہرا اور دیرپا اثر چھوڑ سکتا ہے۔ وہ آج ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر اُن کے چھوڑے ہوئے نقوش، اُن کی یادیں، اُن کے فیصلے اور اُن کی دی ہوئی مثالیں آج بھی زندہ ہیں۔
سوات کی فضا میں ڈاکٹر صاحب (مرحوم) کی خدمت کی خوش بو آج بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ اُن کی زندگی ایک ایسے چراغ کی مانند تھی، جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا رہا۔ ایسے چراغ کبھی بجھتے نہیں۔ وہ دلوں میں، کرداروں میں اور روایتوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ڈاکٹر شیبر میاں (مرحوم) آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام چھوڑ گئے ہیں کہ اگر واقعی بڑا بننا ہے، تو بڑا آدمی نہیں، بل کہ انسان بنو، کیوں کہ اصل بلندی انسانیت میں ہے…… اور یہی وہ وراثت ہے، جو وقت کی گرد سے کبھی ماند نہیں پڑتی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










