پاکستان میں آئین کی حکم رانی ہے، نہ قانون کی…… بل کہ یہاں صرف جنگل کا قانون رائجہے۔ یہاں قانون نہیں، بل کہ خوف اور طاقت بولتے ہیں۔ یہاں جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے، بھینس بھی اُسی کی ہوتی ہے۔ بعض دانش مند سمجھتے ہیں کہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ بھینس والا اپنے مال سے دست بردار ہو جائے، کیوں کہ جہاں طاقت بولتی ہے اور دلیل خاموش ہو جاتی ہے، وہاں لاٹھی کو کسی ثبوت اور منطق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگرچہ ایسی سوچ ظلم کے مترادف اور حقائق سے منھ چھپانے کے برابر ہے، لیکن اس کے علاوہ چارہ بھی تو کچھ نہیں۔
تاریخ کی ستم ظرفی یہ ہے کہ اکثر طاقت کا نشہ طاقت ور کو فتح کے غرور میں ایک لمحے کے لیے غافل کر دیتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے، جب طاقت اپنا توازن بدل دیتا ہے۔ لاٹھی بدل جاتی ہے اور منظر اُلٹ جاتا ہے۔ وقت کا یہ اُلٹ پھیر اس بات کی دلالت ہے کہ طاقت کا نشہ محض ایک عارضی برتری ہے، اور دنیا کی تاریخ اس قسم کے اُلٹ پھیر سے بھری پڑی ہے۔
خدائی کے دعوے دار نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سزا دینے کے لیے آگ میں ڈال دیا، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام زندہ رہے۔ نمرود مرنا نہیں چاہتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کی ایک چھوٹی سی مخلوق، مچھر، نے اُسے ہلا کر رکھ دیا۔
اسی طرح وقت کے ایک نام نہاد خدا، فرعون، نے قومِ موسیٰ پر زمین تنگ کر دی۔ وہ بھی ڈوبنا نہیں چاہتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُسے بھی دریائے نیل میں غرق کر دیا۔
شداد اپنی بنائی ہوئی جنت میں عمر بھر رہنے جا رہا تھا، لیکن عین داخلے کے وقت اس کی روح قبض کر لی گئی۔
بادشاہِ وقت، سردار، جاگیردار، خان اور وڈیرے کو طاقت نے وقت کے سچ کا پیمانہ بنا دیا تھا۔ فیصلے تلوار کی دھار اور نیزے کی نوک پر لکھے جاتے تھے۔ اُن کی طاقت نے قانون کو طاقت کا لبادہ پہنا دیا اور انسانی قانون سر جھکائے خاموش کھڑا رہا۔ طاقت کے نشے نے ہر دور میں برسرِ اقتدار حکم رانوں کو ایسا بد مست کیا کہ وہ تاریخ کے اُلٹ پھیر کو فراموش کر بیٹھے۔ طاقت کے نشے میں امیر محمد خان کا انجام کیا ہوا، سابق وزیرِ اعظم لیاقت علی خان راولپنڈی میں اپنے ہی لوگوں کا نشانہ بنے، ذوالفقار علی بھٹو جو اپنی کرسی کو بہت مضبوط سمجھتے تھے، تختۂ دار تک پہنچائے گئے اور اُنھیں انجام تک پہنچانے والے ضیاء الحق کا انجام بھی اب تاریخ کا حصہ ہے۔ میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو دو، دو بار اقتدار سے بے دخل کیا گیا۔ یوسف رضا گیلانی کا بھی یہی انجام ہوا، جب کہ بے نظیر بھٹو کو وقت کے اُلٹ پھیر نے دنیا سے رخصت کر دیا۔
قارئین! پاکستان میں نادیدہ طاقتیں بھی وقت کے اُلٹ پھیر کا شکار ہوئیں۔ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی طاقت کے نشے میں بد مست حکم ران تاریخ کے اسی انجام سے دوچار ہوئے۔ 1989ء میں پانامہ کے آمر جنرل نوریگا امریکی آپریشن میں گرفتار ہوئے، 2003ء میں عراقی صدر صدام حسین کو امریکہ نے گرفتار کر کے سزائے موت دی اور 2011ء میں لیبیا کے صدر کرنل قذافی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔
طاقت ہی کے نشے میں روس اور امریکہ دونوں کو افغانستان سے شکست خوردہ ہو کر نکلنا پڑا۔
تاریخ کے اُلٹ پھیر کے بارے میں بابا بلھے شاہ نے کیا خوب فرمایا ہے:
کاں لگڑ نوں مارن لگے، چڑیاں جرّے ڈھائے
گھوڑی چگن اروڑیاں اتے، گدوں خود پوائے
یعنی کوے لگڑ بگڑ کو مارنے لگے ہیں، چڑیاں اپنے سے بڑے درخت گرانے لگی ہیں، گھوڑے جو سبز چارہ کھاتے تھے، اب کنکر چگ رہے ہیں، اور گدھ جن کی خوراک لاشیں تھیں، سبز چراگاہوں میں سیر ہو رہے ہیں۔
تاریخ کی ستم ظرفی اور اُلٹ پھیر پر بابا بلھے شاہ مزید فرماتے ہیں:
سچیاں نوں پئے ملدے دھکے، جھوٹھے کول بہائے
اگے ہوئے کنگالے بیٹھے، پچھلیاں فرش و چھائے
یعنی سچ بولنے والوں کو دھکے ملتے ہیں، اور جھوٹ بولنے والے خوشامدی بڑے بن کر بیٹھتے ہیں۔ کنگال اور علم سے خالی لوگ آگے بیٹھتے ہیں، جب کہ سچ بولنے والوں کے حصے میں فرش آتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت کا یہ اُلٹ پھیر راتوں رات نہیں آتا، بل کہ حکم ران خود اس کے لیے راہ ہم وار کرتے ہیں۔ وہ ملکی حالات کو اس نہج پر پہنچا دیتے ہیں کہ بعض اوقات ریاستی ادارے بھی حکم نرانوں کے خلاف سازش کا حصہ بننے میں دیر نہیں لگاتے۔ کیوں کہ ہر ایک کو اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں، نہ کہ ملکی مفاد۔
پاکستانی حکم رانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وقت کا اُلٹ پھیر بادشاہ کو فقیر اور فقیر کو بادشاہ بنا دیتا ہے۔ اس لیے حکم رانوں کو تاریخی حقائق تسلیم کرتے ہوئے ملک میں جاری سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے خاتمے کے لیے اپوزیشن، بالخصوص تحریکِ انصاف، کے ساتھ مل بیٹھ کر پاکستان کو بحرانوں سے نکالنا ہوگا۔ حکم رانوں کو برے وقت سے خبردار کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے راہ نما سعد رفیق کی تقریر قابلِ سماعت ہے اور اس پر عمل کرنا وقت کا تقاضا ہے ۔
اگر حکم رانوں نے عقل کے ناخن نہ لیے، تو انجام وینزویلا کے صدر مادورو جیسا بھی ہوسکتا ہے۔ پاکستانی حکم ران یہ نہ سمجھیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا، بل کہ یہ سب ممکن ہے، جیسا کہ امریکہ نے آپریشن کر کے ایبٹ آباد سے اسامہ بن لادن کو اُٹھالیا۔ اسی طرح وہ اسلام آباد سے بھی کسی حکم ران کو اُٹھاسکتے ہیں اور اُن کے معاون اپنے ہی لوگ ہوں گے؛ وہی لوگ جنھوں نے ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کیا، جو یوسف رمزی کو فروخت کرنے میں شامل تھے، جنھوں نے عافیہ صدیقی کو ہتھکڑیاں لگا کر امریکہ پہنچایا، اور جنہوں نے لاہور میں دو پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو بال کی طرح مکھن سے نکال کر امریکہ کے حوالے کیا۔
پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی، تقسیم اور سیاسی نفرتیں خطرناک حدیں عبور کرچکی ہیں۔ نئے حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن داخلی سیاسی استحکام پر توجہ مرکوز کریں۔ کیوں کہ کل کو پاکستان کے خلاف کوئی بھی سازش ہوسکتی ہے اور ان سازشوں کا مقابلہ صرف متحد ہو کر ہی کیا جاسکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










