شکریہ، مسٹر ٹرمپ….!

Blogger Ikram Ullah Arif, Dir

جب سے امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو بیوی سمیت اِغوا کیا ہے، پوری دنیا میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ خاص طور پر لاطینی امریکہ اور یورپ کے ممالک میں تشویش مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ لاطینی امریکی ممالک میں اس تشویش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ برملا کیوبا، کولمبیا اور میکسیکو کے نام لے کر تبدیلی کے واضح اشارے دے چکے ہیں۔ اسی تناظر میں کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے امریکی مداخلت کو ’’قریب تر‘‘ قرار دیا ہے ۔
میڈیا میں امریکی صدر ٹرمپ سے منسوب یہ بیان بھی زیرِ گردش ہے کہ ’’مَیں کسی بین الاقوامی قانون کو نہیں مانتا…… اور امریکی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے دنیا کے کسی بھی ملک پر فوجی حملے کا حکم دے سکتا ہوں۔ البتہ جو چیزیں مجھے روکے ہوئے ہیں، وہ میری عقل اور اخلاقیات ہیں۔‘‘
عقل اور اخلاقیات کا حال تو اُسی دن ہی واضح ہوگیا تھا، جب عالمی عدالتِ انصاف نے صہیونی ریاست اسرائیل کے وحشی وزیرِ اعظم کو ’’قاتل‘‘ قرار دیا، لیکن اس کے باوجود ٹرمپ نے معصوم فلسطینیوں کے قتلِ عام میں اس قاتل کا بھرپور ساتھ دیا۔ عقل بھی اُس وقت انگشتِ بہ دنداں رہ گئی، جب ایک آزاد ملک وینزویلا کے صدر کو بیوی سمیت اِغوا کر لیا گیا۔
لیکن ان تمام باتوں سے ہٹ کر اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا طاقت کو مانتی ہے…… اور فی الحال اپنے آخری مراحل میں امریکی طاقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہے۔ بعید نہیں کہ اس کے بعد امریکی زوال مزید تیز ہو جائے، کیوں کہ ٹرمپ کے غیر مقبول فیصلوں اور ناقابلِ اعتماد شخصیت نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
لاطینی امریکہ کے ممالک اس صورتِ حال کے بہ راہِ راست اثرات بھگتنے کے قریب ہیں۔ کیوں کہ اُن میں سے اکثر کی نظریاتی وابستگی کمیونزم سے جڑی ہوئی ہے۔ دوسری جانب یورپ، جو نیٹو کے ذریعے امریکہ کا سب سے قابلِ اعتماد اتحادی سمجھا جاتا تھا، اب وہ بھی امریکی عزائم پر حیران و پریشان ہے۔ خاص طور پر گرین لینڈ پر امریکی بری نظریں یورپی ممالک کو ورطۂ حیرت میں ڈال چکی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ نیٹو کے یہ اتحادی، یعنی امریکہ اور یورپ، اس پیچیدہ صورتِ حال سے کیسے نکلتے ہیں۔
’’ٹرمپ ازم‘‘ کے اثرات صرف لاطینی امریکہ یا یورپ تک محدود نہیں رہے، بل کہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ چند دن قبل افغانستان میں طالبان کی کمانڈو ٹریننگ کے قریب ایک ڈرون گر کر تباہ ہوا، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ امریکی ڈرون تھا۔ اس واقعے نے طالبان کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کیوں کہ ٹرمپ کی نظر میں اب بھی باگرام ایئر بیس کھٹک رہا ہے۔
اس طرح ایران میں گذشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں پر بھی ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ وہ اب بہ راہِ راست ایرانی مذہبی نظام کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین پر تشدد جاری رہا، تو ایران کو بدترین سزا دی جائے گی۔ ایران میں رجیم چینج یا ممکنہ عسکری کارروائی کے حوالے سے راقم گذشتہ سال نومبر سے مسلسل یہ موقف اختیار کرتا آ رہا ہے کہ صہیونی ریاست کے زیرِ اثر امریکہ کوئی نہ کوئی قدم ضرور اٹھائے گا۔
جو کچھ بھی ہوگا، اس کے لازمی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ کیوں کہ ایران اور پاکستان کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔ ہمارے کسی بھی ہمسایہ ملک میں امریکی مرضی کی کام یابی کا یقینی مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کریں گے۔ تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسانی مکاریوں اور سازشوں کے ساتھ ساتھ خدائی تدبیریں بھی کارفرما ہوتی ہیں۔ جتنا امریکہ کا غیر متوازن اور جارحانہ رویہ دنیا کے سامنے آ رہا ہے، اُتنا ہی دنیا کے ممالک بیدار ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کے سوا اکثریت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ امریکہ اب قابلِ اعتماد اتحادی نہیں رہا، اسی لیے نئے اتحادیوں کی تلاش تیز ہوچکی ہے۔
قارئین! آپ کو یاد ہوگا کہ گذشتہ سال کے اواخر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اَب ایک معتبر بین الاقوامی ادارے ’’بلومبرگ‘‘ نے گذشتہ ہفتے خبر دی ہے کہ اس دفاعی معاہدے میں ترکی بھی شامل ہو رہا ہے۔یوں یہ اتحاد ایک سہ فریقی دفاعی اتحاد کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ ایک خوش آیند پیش رفت ہوگی۔ کیوں کہ سعودی عرب کی سرمایہ کاری اور تیل، پاکستان کی ایٹمی طاقت اور مضبوط فوج اور ترکی کی جدید دفاعی پیداواری صلاحیتیں اگر یک جاہوگئیں،تو ایک غیر معمولی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے، بل کہ خطے سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
گذشتہ سال مئی میں بھارت کو منھ توڑ جواب دینے کے بعد پاکستان کا ستارہ مسلسل بلند ہو رہا ہے۔ ٹرمپ اور اُن کے ’’ٹرمپ ازم‘‘ نے بالخصوص مسلم ممالک کو پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس تناظر میں مسٹر ٹرمپ کا شکریہ تو بنتا ہے۔ سو، شکریہ مسٹر ٹرمپ……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے