امریکہ خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیتا ہے، مگر اس کے عملی کردار پر نظر ڈالی جائے، تو یہ دعوے کھوکھلے اور تضادات سے بھرے دکھائی دیتے ہیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں امریکی مداخلت نے جہاں جمہوریت کو فروغ نہیں دیا، وہاں بدامنی، تباہی اور عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ طاقت ور کیوں ہے، سوال یہ ہے کہ اس طاقت کا استعمال کس کے خلاف اور کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے؟
امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مطالعہ کیا جائے، تو ایک مستقل نمونہ سامنے آتا ہے۔ جہاں قدرتی وسائل ہوں، خاص طور پر تیل، گیس یا معدنیات، وہاں کسی نہ کسی بہانے سے مداخلت کی جاتی ہے۔ کبھی آمریت کے خاتمے کا نعرہ لگایا جاتا ہے، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اور کبھی انسانی حقوق کے تحفظ کا نعرہ…… مگر انجام ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے:ریاستی ڈھانچے کی تباہی، لاکھوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت اور وسائل پر بالواسطہ یا بلاواسطہ کنٹرول۔
عراق کی مثال اس ضمن میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے نام پر حملہ کیا گیا، ایک پوری ریاست کو زمین بوس کر دیا گیا اور بعد میں خود امریکی حکام نے تسلیم کیا کہ الزامات بے بنیاد تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس جرم کی سزا کس کو ملی؟ لاکھوں عراقی جانوں کا حساب ہوا، نہ عالمی قانون کی کوئی موثر عمل داری ہی نظر آئی۔
اسی طرح لیبیا، افغانستان اور دیگر ممالک میں مداخلت کے نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔ جہاں امریکہ داخل ہوا، وہاں ریاست کم زور ہوئی، معاشرہ تقسیم ہوا اور تشدد ایک مستقل حقیقت بن گیا۔ اگر یہ جمہوریت کی کام یابی ہے، تو پھر اس کی ناکامی کی تعریف کیا ہو گی؟
امریکہ کا ایک اور سنگین پہلو وہ ہے، جسے بین الاقوامی قانون کے دائرے میں اِغوا، غیرقانونی حراست اور من مانے عدالتی مقدمات کہا جا سکتا ہے۔ کسی ملک کے منتخب صدر یا اعلا قیادت کو گرفتار کر کے اپنی عدالتوں میں پیش کرنا، عالمی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے…… مگر جب یہ سب کچھ طاقت کے زور پر ہو، تو اسے قانون اور مزاحمت کو جرم قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہ رویہ دراصل اِس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے:
ایک حصہ وہ، جو قانون بناتا ہے۔
دوسرا وہ، جو صرف اس قانون کے تابع ہے۔
امریکہ خود کو پہلے زمرے میں رکھتا ہے، جہاں اس کے اقدامات نہ تو جنگی جرائم سمجھے جاتے ہیں، نہ دہشت گردی…… بل کہ ’’عالمی سلامتی‘‘ کا نام دے کر جائز قرار دے دیے جاتے ہیں۔
امریکہ جہاں جاتا ہے، وہاں امن کم اور عدم استحکام زیادہ آتا ہے۔ ساحل ہوں یا وسائل، بندرگاہیں ہوں یا معدنی ذخائر……ہر جگہ اس کی دل چسپی جغرافیائی نہیں، بل کہ معاشی اور اسٹریٹجک ہوتی ہے۔ جمہوریت صرف ایک پردہ ہے، جس کے پیچھے طاقت کا بے رحم کھیل جاری رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے حمایت یافتہ نظام اکثر عوامی حمایت سے محروم اور داخلی طور پر کم زور ہوتے ہیں۔
اس سارے منظرنامے میں اقوامِ متحدہ کا کردار بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ ادارہ جسے عالمی امن اور انصاف کا ضامن ہونا چاہیے تھا، اکثر طاقت ور ریاستوں کے مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں ہوں، یا انسانی حقوق کی رپورٹس، ان کا اطلاق ہمیشہ یک ساں نہیں ہوتا۔ کم زور ممالک کے خلاف سختی اور طاقت ور کے لیے نرمی یہ دوہرا معیار اقوامِ متحدہ کی ساکھ کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے۔
جب فلسطین، یمن یا دیگر تنازعات میں واضح انسانی المیے کے باوجود موثر کارروائی نہ ہو اور ویٹو پاؤر سب کچھ روک دے، تو عالمی اداروں کی غیرجانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ اقوامِ متحدہ اگر واقعی عالمی انصاف کی علامت بننا چاہتی ہے، تو اسے طاقت کے بہ جائے اُصولوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ورنہ یہ ادارہ محض ایک رسمی فورم بن کر رہ جائے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ دنیا اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ اطلاعات تک رسائی، آزاد میڈیا اور عالمی شعور نے امریکی بیانیے کو چیلنج کیا ہے۔ وہ قومیں جو کبھی خاموش تھیں، اب سوال اٹھا رہی ہیں۔ لاطینی امریکہ، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کے عوام بہ خوبی جان چکے ہیں کہ جمہوریت کے نام پر آنے والی طاقت اکثر ان کی آزادی چھین لیتی ہے۔ امریکی عوام خود بھی ان جنگوں اور مداخلتوں کی قیمت معاشی بوجھ، سیاسی تقسیم اور اخلاقی بحران کی صورت میں ادا کررہے ہیں۔ اصل مسئلہ امریکہ کی وہ طاقت ور اشرافیہ ہے، جو دنیا کو شطرنج کی بساط سمجھ کر کھیلتی ہے۔
اگر عالمی امن واقعی مقصود ہے، تو طاقت کے اس یک طرفہ استعمال پر نظرِثانی ناگزیر ہے۔ دنیا کو کسی ایک ریاست کے ’’عالمی پولیس‘‘ بننے کی ضرورت نہیں، بل کہ باہمی احترام، خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی حقیقی پاس داری درکار ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










