’’بابوزئی قامی تڑون جرگہ‘‘ تحصیلِ بابوزئی کے اندر ایک مکمل غیر سیاسی جرگہ ہے، جس نے سیاسی اور نسلی امتیاز سے بالاتر ہو کر اُن لوگوں کو جمع کیا ہے، جن کے خلاف کسی قسم کے اخلاقی، مالیاتی یا دیگر الزامات نہیں…… اور جن کا مقصد صرف اور صرف تحصیلِ بابوزئی میں رہنے والے لوگوں کی زندگی اور طرزِ زندگی کا تحفظ کرنا ہے۔ منشیات، فحاشی، آلودگی، ٹریفک جام اور باہمی تنازعات کا جرگے کے ذریعے خاتمہ کرنا ہے۔
یہ بات انتہائی خوش آیند ہے کہ سالوں سے خواجہ سرا برادری کے اندر گھسے ہوئے منشیات فروشوں، فحاشی پھیلانے والوں کو الگ کرکے شاہدرہ میں قبضہ مافیا کا خاتمہ کیا گیا۔ خواجہ سراؤں کی آڑ لے کر کچھ عناصر عین آبادیوں کے درمیان عصمت فروشی، منشیات فروشی اور دیگر قابلِ اعتراض حرکات کر رہے تھے۔ انتظامیہ اور نہ عوام ہی کے دباؤ سے کچھ نتائج نکل رہے تھے۔ بابوزئی قامی تڑون جرگہ نے خواجہ سراؤں کے لیڈران کے ساتھ جرگہ منعقد کیا اور تمام مسائل اُن کے سامنے رکھے۔ اُنھیں بھی تسلیم کرنا پڑا کہ اُن کی برادری کو بدنام کر کے منظم طور پر مذموم مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں۔ خوش اُسلوبی سے خواجہ سراؤں نے اپنے آپ کو غلط لوگوں سے الگ کیا اور انتظامیہ نے منشیات فروشوں اور عصمت فروشوں کے خلاف اپنی کارروائی کی۔ نتیجتاً علاقہ صاف ہوا اور مکینوں نے سکھ کا سانس لیا۔
اس طرح مینگورہ میں ٹریفک جام کے حوالے سے کمشنر ملاکنڈ، ڈی سی صاحب اور ٹریفک مجسٹریٹ سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ جرگے نے تحصیلِ بابوزئی اور خاص طور پر مینگورہ میں آلودگی، رش اور بے ہنگم ٹریفک پر حکام کی توجہ مبذول کرائی۔ ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی رکشوں کا ذکر کیا گیا، جو جائز رکشوں اور رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ مینگورہ کی معاشرتی اور سماجی زندگی کو منجمد کیے ہوئے تھا۔
رکشہ محض ایک سواری نہیں، ایک اعتماد ہے۔ کسب گر، جو گھرانوں کا حصہ سمجھے جاتے تھے، اُن کی ایک ایڈوانس شکل ہے۔ اگر مینگورہ شہر کے ذاتی لوگ جو رکشہ چلاتے ہیں، اُن ہی کو رکشہ چلانے دیا جائے اور شہر میں گھسے ہوئے بے نام رکشے اور گم نام ڈرائیوروں کو روکا جائے ، تو شہر میں امن و امان سمیت ٹریفک کے مسائل 80 فی صد تک ختم ہوجائیں گے۔
انتظامیہ نے اس نکتے سے اتفاق کیا اور تمام غیر قانونی رکشوں کے خلاف کارروائی شروع کی، جو کہ بدقسمتی سے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں روک دی گئی اور شہر کو پھر عذاب کے حوالے کیا گیا۔
مگر بابوزئی قامی تڑون جرگہ کی کاوشوں سے غیر قانونی، غیر رجسٹرڈ، بغیر کاغذات اور بغیر لائسنس رکشوں کے خلاف کارروائی دوبارہ شروع ہوئی اور باقی تحصیلوں میں بھی کارروائیوں کا آغاز ہوا۔
اس طرح بازاروں میں غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کے خلاف بھی کھل کر بات کی گئی۔ صوبائی حکومت سے دانش مندانہ ماسٹر پلان بنانے کا مطالبہ ہوا۔ مرغزار اور جامبیل خوڑوں کے دونوں طرف 50 فٹ سڑکیں بنانے کی بات ہوئی اور اس بارے میں کھل کر مذاکرے منعقد کیے گئے۔
’’اربن فلڈنگ‘‘ کی وجوہات اور اس کے خاتمے پر بھی بات ہوئی۔ نیز کہا گیا کہ پہاڑی نالوں اور برساتی نالوں پر جدید سائنسی بنیادوں پر پانی روکنے کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے جائیں، جو بہتی ہوئی مٹی اور پوری قوت سے آنے والے پانی کو روکیں گے اور ایک ساتھ پورا پانی سڑکوں پر نہیں آئے گا۔
اس پر بھی بات ہوئی کہ مرغزار اور سیدو خوڑوں کی ممکن حد تک کھدائی کی جائے۔ اس کے ساتھ رین واٹر ہارویسٹنگ، یعنی بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اسے زمین میں دوبارہ ڈالنے کے سائنسی منصوبے، شروع کرنے کی بات ہوئی۔ پورے شہر اور اردگرد کے پہاڑوں پر واٹر ہارویسٹنگ سٹورز بنانے کے منصوبے بنائے گئے، جس کی مدد سے نہ صرف سیلابی صورتِ حال کنٹرول رہے گی، بل کہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ بھی ہوگا اور ڈھیر سارا پانی بہہ کر ضائع نہیں ہوگا۔
اس موقع پر منشیات کے خلاف ایک جامع پروگرام کے تحت یونیورسٹیوں اور کالجوں میں سیمینارز کا پروگرام بنایا گیا، جس میں آئس، کرسٹل میتھ اور ہیروئن کے استعمال کے ساتھ ساتھ نشہ آور ادویہ کے بارے میں آگاہی کا پروگرام بھی بنایا گیا، جو آیندہ چند دنوں میں شروع ہو جائے گا۔
ایک ماہرِ نفسیات، جو منشیات کے عادی افراد کا علاج بھی کرتا ہے، ایک ڈرگ کنٹرول افسر، جو ادویہ کا ماہر اور ان کے استعمال کو جانتا ہے، ایک ماہر پولیس آفیسر، جو منشیات فروشوں کے نفسیات اور طریقۂ واردات کو جانتا ہے اور ادویہ فروش برادری کے ایک بڑے کو ساتھ لے کر نوجوان نسل سے مخاطب ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
بابوزئی قامی تڑون جرگہ ہر اُس نکتے پر بات کرتا ہے، جس سے عوام کے مفادات وابستہ ہوں۔ ہر اُس بات پر مکالمہ اور اقدامات اٹھاتا ہے، جہاں عوام کی خدمت ہوسکتی ہے۔ عوام کی حمایت اور جرگے کی پذیرائی ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔
جرگے نے سوات موٹر وے فیز ٹو کی جلد از جلد تعمیر پر بھی زور دیا ہے اور غیر ضروری تاخیر پر زیڈ کے بی، حکومت اور تعمیراتی کمپنی سے بات بھی شروع کی ہے۔ ان کوششوں کی بہ دولت صوبائی حکومت نے ابھی کل پرسوں اس کی جلد از جلد تعمیر کی حامی بھی بھر دی ہے۔
بابوزی قامی تڑون جرگہ نے سیدو گروپ آف ہاسپٹلز میں حالیہ انتظامی تبدیلیوں کی تعریف کی اور ہسپتال کے تین سال سے معطل فنڈز کے فوری اجرا کا مطالبہ کیا۔ نیز مذکورہ مطالبہ ہر سطح تک پہنچایا بھی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










