20ویں صدی کے وسط میں اور جنگِ عظیم دوم کے بعد یورپی طاقتیں (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) کم زور ہوگئیں۔ جنگ کے بعد امریکہ اور سوویت یونین دو مضبوط طاقتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ 1946ء میں ونسٹن چرچل کے "Iron Curtain” خطاب میں وہ کہتے ہیں کہ ایک لوہے کا پردہ برِاعظم (یورپ) پہ اُتر گیا ہے۔ یہ لوہے کا پردہ دراصل نظریاتی پردہ تھا، جس کی ایک طرف سوویت یونین اور دوسری طرف امریکہ اور اتحادی تھے۔ سوویت یونین خروشچیو دور میں تیسری دنیا کی آزادی کی تحریکوں کو سپورٹ کر رہا تھا، وہیں پہ امریکہ تیسری دنیا کو جدید نو آبادیاتی طرز پہ کنٹرول کرنا چاہتا تھا۔ 1941ء میں برطانیہ اور امریکہ کے بیچ ’’اٹلانٹک چارٹر‘‘ سے یہ واضح ہوگیا تھا کہ جنگ کے بعد برطانیہ کا رول امریکہ ادا کرے گا۔ امریکہ کا باقی ممالک کے ساتھ ناہم وار یا استحصالی رویہ نیا نہیں، بل کہ پرانا تھا۔ 1898ء میں جب فلپائن کو امریکی کالونی بنایا گیا، تو صدر میکینلی (McKinley) نے جواز پیش کیا کہ یہ کرنا ضروری تھا، تاکہ اُن کو "Christianise” کیا جاسکے، اور یہ کرنے کو مجھے خدا نے کہا تھا۔
لیکن سرد جنگ کے دوران میں امریکہ، عیسائیت اور خدا کا سیوا نہیں کر رہا تھا، بل کہ کارپوریشن اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کے لیے تیسری دنیا پہ حملہ آور تھا۔ "Banana Republic” کی اصطلاح بھی امریکہ ہی کی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ لاطینی امریکہ کے ممالک ہانڈرس اور گوئٹے مالا میں ’’یونائٹیڈ فروٹ کمپنی‘‘ کی اجارہ داری کے سامنے وہاں کی حکومتیں بے بس تھیں یا ایک کٹ پتلی کا کردار ادا کر رہی تھیں۔ ایسے میں یہ اصطلاح (بنانا ریپبلک) سامنے آئی، جس سے مراد ایک ایسی ریاست تھا، جہاں ایک حکومت کارپوریشن کے اشاروں پہ ناچتی ہو۔ ’’یونائٹیڈ فروٹ کمپنی‘‘ کے مفادات کے تحفظ کے لیے امریکہ نے 1954ء میں گوئٹے مالا کے صدر "Juan Jacobo Arbenz Guzman” کو ایک رجیم چینج کے ذریعے اقتدار سے رخصت کیا۔ گزمان کی اقتدار سے بے دخلی کی وجہ اُس کی زمینی اصلاحات تھیں، جس کا نقصان امریکہ فروٹ کمپنی کو ہورہا تھا۔
امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یا تو رجیم چینج کرتا ہے، یا مقبول عوامی لیڈر کو مار دیتا ہے۔ 1961ء میں کانگو کے نوجوان سامراج مخالف لیڈر ’’پیترس لممبا‘‘ (Patrice Lumumba) کو مارا گیا۔ پیترس لممبا ایک ابھرتے ہوئے افریقی لیڈر کے طور پر منظر عام پر آیا تھا اور کئی لوگوں کو متاثر کیا تھا، جن میں فرانسیسی فلسفی ’’سارتر‘‘ (Jean-Paul Sartre) سرِفہرست ہے۔ سارتر نے پیترس لممبا پر "Lumumba Speaks” نامی کتاب بھی لکھی ہے۔
اس کے علاوہ مراکش کا بائیں بازو کا انقلابی لیڈر ’’مہدی بن برکہ‘‘ (Mehdi Ben Barka) بھی سی آئی اے کے ہاتھوں مارا گیا۔
بولیویا میں گوریلا جنگ لڑنے والا ’’چی گویرا‘‘ (Che Guevara) اور برکینا فاسو کا نوجوان انقلابی لیڈر ’’تھامس سنکارا‘‘ (Thomas Sankara) بھی امریکہ کے ہاتھوں مرا۔
اس طرح تیونس کے امریکہ نواز ’’زین العابدین رجیم‘‘ کے ہاتھوں ’’چوکری بیلاید‘‘ (Chokri Belaid) کا قتل بھی امریکہ کے کردار پر سوال اٹھاتا ہے۔
یہ ہی نہیں قاسم کریم (عراق)، گولارٹ (برازیل)، سو کارنو (انڈونیشیا) اور جوس تیوریس (بولیویا) بھی سی آئی اے کے ہاتھوں رجیم چینج آپریشن کا شکار ہوئے…… جب کہ بدنامِ زمانہ ’’ساموزا‘‘ (Anastasio Somoza Debayle) اور کیوبا کے ’’بٹیسٹا‘‘ (Fulgencio Batista) کو امریکی آشیرباد حاصل رہی۔ اسی طرح نکارگوا کے "Contra” کو بھی سی آئی اے نے فنڈ کیا، جس کے اوپر عورتوں کے ریپ کے الزامات ثابت ہوئے۔
عراق میں صدام حسین کا قتل ہو، یا لیبیا میں کرنل قذافی کا، امریکہ نے تباہی کی ایسی بیج بوئی، جس سے آج تک یہ ممالک دوبارہ اپنے پیروں پہ کھڑے نہ ہوسکے۔ یہی نہیں امریکہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جس نے جاپان پر ایٹم بم گرا کے انسانیت کا قتلِ عام کیا۔ امریکہ کے ایک سابق آفیشل "Paul Nitze” نے کہا تھا کہ ہم جاپان پہ ایٹم بم نہ گرا کے بھی جنگ جیت سکتے تھے…… لیکن انسانیت کی خون سے آلودہ ہاتھ سامراجی طاقتیں اپنے آپ کو "Peace Loving Nations” کہتی ہیں۔
دنیا بھر میں جس بھی لیڈر نے اپنے علاقے کو متحد کرنے کی بات کی، اُس کو یا تو ہٹایا گیا، یا پھر مار دیا گیا۔ "Pan African” قذافی اور لممبا کو اقتدار اور جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اُن سے پہلے 1909ء میں نِکارگوا کے لیڈر ’’سانتوس زیلایا‘‘ (Jose Santos Zelaya Lopez) کو محض اس لیے ہٹایا گیا کہ وہ لاطینی امریکہ کو متحد کرنا چاہتا تھا۔ امریکی صدر تھیوڈر رووزویلٹ کے بہ قول: ’’کولونیل ازم کا مطلب جنگ ہے۔ ان ممالک کی ساری دولت لے لو اور بدلے میں کچھ نہ دو!‘‘
آج امریکہ یہی تو کر رہا ہے۔
سوشلسٹ سکالر ’’وجے پرشاد‘‘ (Vijay Prashad) اپنی کتاب "Darker Nations” میں لکھتے ہیں کہ تیسری دنیا ایک جگہ کا نام نہیں، بل کہ ایک پراجیکٹ تھا۔ اس پراجیکٹ کے تحت پرانی کولونیوں کو امریکہ کے ماتحت کرنا تھا۔ جو اس پراجیکٹ کے حصے میں رکاوٹ بنتا، یا حکم عدولی کرتا، تو امریکہ اُس حاکم کو ’جلا وطنی‘ (اپنے ہی وطن میں) کی سزا دیتا…… یعنی اُسے اقتدار سے رخصت کرتا۔
گوئٹے مالا سے پہلے 1953ء میں امریکہ نے ایرانی صدر ’’محمد مصدق‘‘ کو آئل کمپنی کو نیقومیانہ کرنے کی پاداش میں اقتدار سے رخصت کیا۔ اس آپریشن میں سی آئی اے کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔ محمد مصدق کے بعد ایرانی اقتدار محمد رضا پہلوی کے ہاتھ آیا، جس نے تقریباً دو دہائیوں سے زیادہ تک امریکی کٹ پتلی کا کردار کیا۔
اس سے قبل 1947ء میں یونان کی کمیونسٹ تحریک کو کم زور کرنے کے لیے امریکہ نے مداخلت کی۔
امریکہ کی تیسری دنیا میں مداخلت یا ’’رجیم چینج‘‘ کی فہرست طول طویل ہے۔ ابتدا میں ایران، گوئٹے مالا اور یونان میں مداخلت کی گئی۔ کہیں پہ یہ مداخلت ناکام رہی، تو کہیں کام یابی سے ہم کنار ہوئی۔ 1958ء میں لبنان، 1960ء میں کانگو، 1961ء میں کیوبا، 1965ء میں انڈونیشیا، 1973ء میں چِلی، 1978ء میں انگولا، 1979ء میں افغانستان، 1981ء میں سیلواڈور، 1981ء ہی میں نکاراگوا، 1982ء میں ایک بار پھر لبنان، 1983ء میں گریناڈا، 1989ء میں پانامہ، 1991ء میں عراق اور 1992ء میں سومالیہ میں امریکہ نے مداخلت کی۔
اس کے علاوہ لاؤس اور ویت نام میں امریکہ کی بہ راہ راست مداخلت بھی تاریخ کا حصہ ہے۔
امریکہ کے ’’رجیم چینج آپریشن‘‘ کا مقصد سرد جنگ کے دوران میں کمیونسٹ یا "Non Align Movement” کے رکن ممالک کا راستہ روکنا تھا، جب کہ آج بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں وینزویلا کے صدر ’’مدورو‘‘ (Nicols Maduro) کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے لیے بین الاقومی قانون کی دھجیاں تک اُڑا سکتا ہے۔
سرد جنگ کے دوران میں امریکہ تیسری دنیا کو یہ باور کراتا تھا کہ تمھاری پس ماندگی، کمیونزم سے اچھی ہے۔ امریکہ اپنے مفاد کے لیے گل بدین حکمت یار، برہان الدین ربانی اور سراج الدین حقانی کو امریکہ کے بانیوں کی صف میں کھڑا کرنے سے نہیں کتراتا۔اور جب مفاد پورا ہوجاتا ہے، تو پھر اُن کو دہشت گرد قرار دے کے اُن کے خلاف افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتا۔
وجے پرشاد نے اپنی کتاب "Washington Bullets” میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ میں ‘Coup’ اس لیے نہیں ہوتے، کیوں کہ وہاں کوئی امریکی ایمبیسی نہیں۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










