تاریخِ اسلام اور برصغیر کی سیاسی تشکیل میں اگر کسی ایک کردار کو فیصلہ کن کہا جائے، تو وہ شہاب الدین محمد غوری کا ہے۔ افغانستان کے پہاڑی خطے ’’غور‘‘ میں پیدا ہونے والا یہ سپہ سالار محض ایک فاتح نہیں تھا، بل کہ ایک ایسا معمارِ تاریخ تھا، جس کے فتوحات نے آنے والی صدیوں کے سیاسی، تہذیبی اور مذہبی نقشے متعین کیے۔
محمد غوری کی پیدایش 1144ء کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ مورخین کے مطابق وہ اپنے بڑے بھائی غیاث الدین غوری سے 4 برس چھوٹے تھے۔ ’’طبقاتِ ناصری‘‘ کے مطابق اُن کا اصل نام محمد تھا، جب کہ بعض مقامی روایات میں اُنھیں حماد بھی کہا گیا۔ غزنہ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اُنھوں نے ملک شہاب الدین اور بعد ازاں معزالدین کے القابات اختیار کیے، جب کہ درباری مورخین اُنھیں سلطان غازی کے لقب سے یاد کرتے رہے۔
1163ء میں جب غیاث الدین غوری نے تخت سنبھالا، تو محمد غوری ابتدا میں دربار میں ایک ثانوی حیثیت رکھتے تھے۔ تاہم جلد ہی اُن کی عسکری صلاحیتیں نمایاں ہوگئیں۔ اوغوز قبائل کو زیر کرنے کی ذمے داری سونپی گئی اور قندھار کو مرکز بنا کر متعدد کام یاب مہمات کی گئیں۔ 1169ء میں غزنہ فتح ہوا اور بالآخر 1173ء (کچھ مورخین 1174ء بھی رقم کرتے ہیں) میں محمد غوری کی باقاعدہ تاج پوشی عمل میں آئی۔ غزنہ کو اُنھوں نے اپنا عسکری ہیڈکوارٹر بنایا، تاکہ سندھ اور ہندوستان کی جانب پیش قدمی کی جاسکے۔
غوری توسیع صرف ہندوستان تک محدود نہ تھی۔ خراسان، سیستان اور ایران کے کئی علاقوں کو غوری اقتدار میں لایا گیا۔ نصری خاندان کے حکم ران تاج الدین حرب نے اطاعت قبول کی اور بلخ و ہرات کے مضافات بھی سلطنت میں شامل ہوئے۔ یہ وہ دور تھا، جب غوری سلطنت ایک علاقائی طاقت سے اُبھرتی ہوئی بین الاقوامی قوت بن رہی تھی۔
1175ء میں محمد غوری نے درۂ گومل کے راستے برصغیر میں قدم رکھا اور ملتان اور اوچ پر حملہ کیا، جہاں اس وقت قرامطہ اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ ان فتوحات کے بعد 1182ء (کچھ مورخین 1187ء بھی رقم کرتے ہیں) کے لگ بھگ دیبل بھی فتح ہوا اور غوری سلطنت بحیرۂ عرب تک پھیل گئی۔ یہ پیش رفت ہندوستان میں ایک مستقل سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ تھی۔
گجرات کی مہم میں محمد غوری کو پہلی بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں کم سن راجہ کی سرپرست نائیکی دیوی نے بھرپور مزاحمت کی اور غوری افواج کو پسپا ہونا پڑا، مگر محمد غوری شکست قبول کرنے والوں میں سے نہ تھے۔ اُنھوں نے رُخ لاہور کی جانب موڑا، جہاں غزنوی اقتدار آخری سانسیں لے رہا تھا۔ 1186ء میں لاہور فتح ہوا اور شمالی ہندوستان میں طاقت کا توازن یک سر بدل گیا۔
ترائن کی پہلی جنگ 1191ء میں لڑی گئی، جس میں پرتھوی راج چوہان نے محمد غوری کو شکست دی۔ اس جنگ میں غوری شدید زخمی ہوئے۔ اس شکست کے بعد اُنھوں نے ایک سال تک عیش و عشرت ترک کرکے فوجی اصلاحات کیں۔ 1192ء میں ترائن کے میدان میں دوسری جنگ ہوئی، جو برصغیر کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ پرتھوی راج شکست کھاگئے اور شمالی ہندوستان میں مسلم اقتدار کی بنیاد پڑگئی۔
غیاث الدین غوری کی وفات (1203ء) کے بعد محمد غوری سلطنتِ غور کے سب سے بڑے سلطان بنے۔ اُن کے سپہ سالار بختیار خلجی نے بہار اور بنگال فتح کیے۔ 1206ء میں پنجاب میں کھوکھر بغاوت کو کچلنے کے بعد واپسی پر دریائے جہلم کے قریب ایک فدائی کے حملے میں محمد غوری شہید ہوگئے (شہادت کے مقام پر مورخین میں اختلاف ہے)۔ ان کی میت غزنی لے جا کر دفن کی گئی، جب کہ جہلم کے قریب تعمیر کردہ مزار ایک یادگاری علامت ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










