پاکستان میں صوبائی سیاست محض جماعتی مقابلے تک محدود نہیں رہی، بل کہ اب یہ حکم رانی کے انداز، ترجیحات اور عوامی توقعات کے تناظر میں بھی زیرِ بحث ہے۔ حالیہ برسوں میں اگر خیبر پختونخوا اور پنجاب کا جائزہ لیا جائے، تو دونوں صوبوں میں سیاسی رویوں اور انتظامی ترجیحات کا فرق نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یہ فرق محض حکومتوں کا نہیں، بل کہ قیادت کے مزاج، سیاسی حکمتِ عملی اور عوام سے جڑے رہنے کے طریقوں کا بھی ہے۔
خیبر پختونخوا ایک عرصے سے سیاسی طور پر متحرک صوبہ رہا ہے۔ یہاں عوام میں سیاسی شعور، احتجاجی روایت اور مزاحمتی سیاست کی گہری جڑیں ہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ احتجاج، جمہوری نظام میں ایک آئینی اور قانونی حق ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لیڈر، اپنے مطالبات اور اپنے سیاسی موقف کے لیے آواز بلند کریں۔ تاہم عوامی تجزیے میں یہ نکتہ بھی مسلسل سامنے آ رہا ہے کہ صوبے کی سب سے بڑی کم زوری اس کی غیر سنجیدہ اور تصادمی قیادت سمجھی جاتی ہے۔ ایک عام تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ صوبائی سطح پر سیاسی توانائی کا بڑا حصہ وفاق سے لڑنے، بیانات کی جنگ اور احتجاجی سرگرمیوں پر صرف ہو جاتا ہے، جب کہ صوبے کے اندرونی مسائل نسبتاً کم توجہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ تاثر درست ہو یا غلط، لیکن عوامی رائے میں اس کی موجودگی خود ایک اہم حقیقت ہے۔
خیبر پختونخوا کے شہری یہ سوال اُٹھاتے دکھائی دیتے ہیں کہ جب صوبے کو تعلیم، صحت، روزگار، مقامی حکومتوں اور معاشی سرگرمیوں جیسے سنجیدہ چیلنج درپیش ہوں، تو صوبائی قیادت کی اولین ترجیح کیا ہونی چاہیے ؟ ناقدین کے مطابق احتجاجی سیاست اگر مستقل حکم رانی پر غالب آ جائے، تو انتظامی مشینری متاثر ہوتی ہے اور ترقیاتی عمل سست پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے میں اصلاحات کے باوجود زمینی سطح پر بہتری کے حوالے سے آرا منقسم نظر آتی ہیں۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عمران خان کے لیے احتجاج کرنا ایک سیاسی حق ہے اور صوبائی حکومت کو بھی اپنے سیاسی قائد کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کا اختیار حاصل ہے…… مگر عوامی سطح پر یہ توقع بھی پائی جاتی ہے کہ صوبائی حکومت بہ طورِ حکومت اپنی آئینی ذمے داریوں سے غافل نہ ہو۔ احتجاج اور حکم رانی کے درمیان توازن وہ نکتہ ہے، جہاں کے پی کی قیادت پر سب سے زیادہ سوالات اُٹھائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب پنجاب کا منظرنامہ نسبتاً مختلف دکھائی دیتا ہے۔ مریم نواز کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت نے ابتدا ہی سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ سیاست سے قطعِ نظر انتظامی کام کو ترجیح دی جائے گی۔ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں، انتظامی فیصلوں اور عوامی سہولتوں پر توجہ کو حکومتی بیانیے کا مرکزی حصہ بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی درجۂ حرارت کے باوجود حکومتی سرگرمیوں میں تسلسل دکھائی دیتا ہے۔
عوامی تجزیے کے مطابق پنجاب کی قیادت نسبتاً سنجیدہ، محتاط اور انتظامی امور پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ یہاں احتجاجی سیاست کم اور بیوروکریسی کے ذریعے نتائج دینے کا رجحان زیادہ نظر آتا ہے۔ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ پنجاب کو وسائل، میڈیا کی توجہ اور مرکز کے قریب ہونے کا فائدہ حاصل ہے، جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کا موازنہ کرتے وقت یہ پہلو بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا کو سیکورٹی، جغرافیائی حساسیت، مہاجرین اور پس ماندگی جیسے اضافی چیلنج درپیش رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں پنجاب نسبتاً مستحکم اور وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں صوبوں کو ایک ہی پیمانے پر پرکھنا مکمل انصاف نہیں ہوگا، تاہم قیادت کی سنجیدگی اور ترجیحات ہر جگہ قابلِ احتساب رہتی ہیں۔
عوام اَب صرف نعروں یا بیانیوں سے مطمئن نہیں۔ اُن کی نظر میں اچھی قیادت وہ ہے، جو اختلاف کے باوجود نظام کو چلانا جانتی ہو، احتجاج کے ساتھ ساتھ انتظام بھی کرسکے اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل حل کرے۔ خیبر پختونخوا میں یہی سوال سب سے زیادہ شدت سے اُٹھ رہا ہے کہ آیا صوبائی حکومت احتجاجی سیاست اور حکم رانی کے تقاضوں کے درمیان واضح لکیر کھینچ پائی ہے یا نہیں؟
پنجاب کے حوالے سے بھی عوامی تجزیہ مکمل طور پر یک طرفہ نہیں۔ یہاں بھی مہنگائی، بے روزگاری اور گورننس کے مسائل موجود ہیں، تاہم مجموعی تاثر یہ ہے کہ حکومت کم از کم انتظامی سطح پر متحرک دکھائی دیتی ہے۔ یہی تاثر عوامی رائے سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بحث کسی ایک صوبے کو بہتر یا بدتر ثابت کرنے کے لیے نہیں ہونی چاہیے، بل کہ اس سے یہ سبق اخذ کیا جانا چاہیے کہ قیادت کا سنجیدہ ہونا، اداروں کو چلانا اور عوامی خدمت کو سیاست پر فوقیت دینا ہی پائیدار ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔ احتجاج جمہوریت کا حسن ہے، مگر حکم رانی اس کی ذمے داری ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ تمام صوبے سیاسی اختلاف کے باوجود اپنے عوام کے لیے کام کریں۔ خیبر پختونخوا کو اگر اپنی احتجاجی سیاست کے ساتھ انتظامی سنجیدگی کو جوڑنا ہوگا، تو پنجاب کو بھی ترقیاتی رفتار کے ساتھ شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہوگا۔ یہی توازن ایک مضبوط وفاق اور باخبر عوام کی ضمانت ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










